آزاد کشمیر الیکشن میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن کمزور کیوں؟

آزاد کشمیر کی سیاست میں کئی ہفتوں سے جاری پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے درمیان سیاسی کشمکش بالآخر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ طویل مذاکرات، اعلیٰ سطحی رابطوں اور مختلف مفاہمتی فارمولوں پر غور کے باوجود اختلافات ختم نہ ہو سکے، جس کے بعد سردار تنویر الیاس نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھجوا دیا۔

باخبر ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات صرف انتخابی ٹکٹوں تک محدود نہیں تھے بلکہ مستقبل کی حکومت سازی، وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار اور پارٹی کے اندر سیاسی اثر و رسوخ کے توازن جیسے اہم معاملات بھی تنازع کا حصہ بن چکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ متعدد دور کی بات چیت اور سیاسی رابطوں کے باوجود کوئی قابل قبول فارمولا سامنے نہ آ سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں سردار تنویر الیاس نے راولاکوٹ سٹی، پاچھیوٹ، باغ حلقہ وسطی اور اپر نیلم سمیت چار حلقوں سے پارٹی ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی خواہش کو محدود کرتے ہوئے تین نشستوں پر توجہ مرکوز کر دی، تاہم اصل اختلاف باغ حلقہ وسطی کے امیدوار پر برقرار رہا، جہاں دونوں جانب سے کوئی لچک نہ دکھائی گئی اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق صورتحال کو سنبھالنے کے لیے گزشتہ شب زرداری ہاؤس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت ایک اہم اور طویل اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں فریال تالپور، سردار یعقوب خان، چوہدری لطیف اکبر، فیصل ممتاز راٹھور، چوہدری محمد یاسین، میاں عبدالوحید، چوہدری محمد ریاض، فیصل کریم کنڈی، سردار سلیم حیدر خان اور چوہدری یاسر سلطان سمیت دیگر سینئر رہنما شریک ہوئے اور اختلافات ختم کرنے کے مختلف امکانات پر غور کیا گیا، تاہم کوئی حتمی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سردار تنویر الیاس کا استعفیٰ آزاد کشمیر کی انتخابی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق تنویر الیاس آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان کی علیحدگی آئندہ انتخابات میں مختلف حلقوں کے انتخابی نتائج اور سیاسی اتحادوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے پیپلز پارٹی کو امیدواروں کی نئی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی، جبکہ سردار تنویر الیاس کے آئندہ سیاسی فیصلے بھی آزاد کشمیر کی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی دوسری جماعت سے اتحاد کرتے ہیں یا آزاد حیثیت میں سیاسی میدان میں اترتے ہیں تو انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ اور سخت ہونے کا امکان ہے۔

مجموعی طور پر پیپلز پارٹی اور سردار تنویر الیاس کے درمیان اختلافات کا خاتمہ صرف ایک سیاسی علیحدگی نہیں بلکہ آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت سازی، انتخابی اتحادوں اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

Back to top button