دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ،پاکستان افغانستان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟

افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اب محض سرحدی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ قومی خودمختاری، علاقائی استحکام اور معاشی مستقبل سے جڑا ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتا آیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی سرحد پار دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا۔تاہم حالیہ کارروائیوں اور ان پر بھارت کے سخت ردعمل نے خطے کی بدلتی ہوئی تزویراتی صورتحال کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مؤثر کارروائیاں بعض حلقوں کے لیے تشویش کا باعث کیوں بن رہی ہیں، اور اگر یہ خطرہ مکمل طور پر ختم ہو جائے تو اس کے پاکستان اور پورے خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
مبصرین کے مطابق پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ ریاستی اداروں نے دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی ملک کے امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستانی حکام متعدد مواقع پر افغان انتظامیہ کو اس حوالے سے شواہد فراہم کر چکے ہیں کہ بعض کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرتی ہیں۔ اسلام آباد کا مطالبہ رہا ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔
حالیہ عرصے میں پاکستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کارروائیوں پر بھارت کے سخت ردعمل کو بعض تجزیہ کار خطے کی تزویراتی سیاست کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر حلقوں کا مؤقف ہے کہ ہر ملک کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کسی دوسرے ملک کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ جب سرحد پار سے حملے مسلسل جاری رہیں تو ریاست کے لیے اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ذمہ داری بن جاتا ہے۔
دوسری جانب بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں نہ صرف داخلی امن کو مضبوط کریں گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو بھی تقویت دیں گی۔
ماہرین کے مطابق دہشت گردی کا خاتمہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اقتصادی ترقی سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ جب کسی ملک میں امن قائم ہوتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں وسعت، سیاحت کی بحالی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو اپنی معاشی بحالی کی بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
اگر پاکستان اپنی مغربی سرحد پر امن و استحکام کو مستقل بنیادوں پر یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ملکی معیشت بلکہ پورے خطے کے تجارتی اور اقتصادی روابط پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ مضبوط داخلی سلامتی پاکستان کو دفاعی خود انحصاری کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کی نئی منزلوں تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں ایک حقیقت واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوجی کارروائیوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے مؤثر سفارت کاری، علاقائی تعاون، انٹیلی جنس اشتراک اور سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہیں۔ پائیدار امن ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ممکن ہے۔
