پاک بھارت تعلقات کی بحالی کی کوششوں میں تیزی کیسے آئی؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایک بار پھر بیک ڈور سفارتی رابطوں اور قیامِ امن کی کوششوں میں تیزی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کی ممتاز شخصیات کی جانب سے مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جنہیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز سیاسی، سفارتی، علمی اور سماجی شخصیات نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام ایک مشترکہ کھلا خط جاری کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور اعتماد سازی کے عملی اقدامات فوری طور پر شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ مشترکہ خط ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دونوں حکومتیں باضابطہ مذاکرات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے دانشوروں، سابق سفارتکاروں اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے امن اور مذاکرات کی حمایت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں کشیدگی کے بجائے مکالمے کی ضرورت کو زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے بقول ٹریک ٹو اور بیک ڈور ڈپلومیسی ماضی کی طرح ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے نزدیک ایسے غیر رسمی روابط اکثر مستقبل کے باضابطہ مذاکرات کی بنیاد ثابت ہوتے ہیں اور اعتماد سازی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ مشترکہ اپیل امن کے فروغ کے لیے سرگرم ادارے سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کی جانب سے جاری کی گئی، جس پر مجموعی طور پر 117 شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔ ان میں 61 شخصیات بھارت جبکہ 56 پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی نہ صرف سفارتی تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ کروڑوں نوجوانوں کے مستقبل، معاشی ترقی، تجارت اور علاقائی استحکام کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

دستخط کنندگان نے اپنے خط میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت دنیا کی تقریباً پانچویں آبادی کے حامل ممالک ہیں اور دونوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر دونوں ممالک مستقل کشیدگی کی کیفیت میں رہیں گے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان نوجوان نسل کو ہوگا، جس کے روزگار، تعلیم، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

خط میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اعتماد سازی کے ایسے اقدامات دوبارہ بحال کریں جو گزشتہ برسوں میں معطل یا محدود ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام آباد اور نئی دہلی میں ہائی کمشنرز کی دوبارہ تعیناتی، مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، ویزا سروسز کی بحالی، تجارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود دوبارہ کھولنے اور عوامی روابط بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اٹاری۔واہگہ سرحد کو تجارت اور آمدورفت کے لیے دوبارہ فعال بنانے، سرینگر۔مظفرآباد بس سروس بحال کرنے اور دیگر سرحد پار رابطہ منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد اور روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

اس مشترکہ اپیل پر بھارت کی جانب سے فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، منوج جھا اور ہمایوں کبیر سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے دستخط کیے ہیں، جبکہ پاکستان کی جانب سے خورشید محمود قصوری، اشرف جہانگیر قاضی، اسفندیار بھنڈارا اور پرویز ہودبھائی سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اس مہم کا حصہ بنی ہیں۔

خط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اختلافات اپنی جگہ، لیکن مذاکرات اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ منقطع نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام صرف مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ سفارتی ماحول کو مثبت انداز میں آگے بڑھایا گیا تو یہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، اقتصادی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ تاہم اس پیشرفت کی کامیابی کا انحصار دونوں حکومتوں کی سیاسی آمادگی، باہمی اعتماد اور حساس تنازعات پر سنجیدہ مکالمے پر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق اگر دونوں حکومتیں اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات، جیسے سفارتی تعلقات کی مکمل بحالی، ویزا سہولت، تجارتی روابط اور عوامی تبادلوں کی بحالی پر اتفاق کر لیں تو مستقبل میں جامع مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر موجودہ تعطل برقرار رہا تو نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتیں متاثر ہوں گی بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کوششیں بھی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ خط کسی سرکاری پالیسی کا متبادل نہیں، تاہم دونوں ممالک کی ممتاز شخصیات کی مشترکہ اپیل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقل امن، سیاسی استحکام اور معاشی خوشحالی کا راستہ بالآخر مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی اعتماد سے ہی گزرے گا۔

Back to top button