امریکی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کے بعد پاکستان مشکل میں کیوں؟

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکنز کو شکست اور ڈیموکریٹس کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دوبارہ اکثریت ملنے سے امریکی سیاست میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے۔ اس انتخابی نتیجے کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ خارجہ پالیسی، مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، امریکی کانگریس کے بڑھتے ہوئے کردار اور پاکستان کے حکمران طبقے کے لیے واشنگٹن کی سیاسی حمایت کے امکانات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے نتائج سے پاکستان کے ساتھ امریکی سفارتی تعلقات میں فوری اور بنیادی تبدیلی کا امکان محدود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی میں صدر ٹرمپ اپنا مرکزی کردار برقرار رکھیں گے، تاہم ڈیموکریٹس کی اکثریت والی کانگریس قانون سازی، مالی وسائل کی منظوری اور حکومتی پالیسیوں کی نگرانی کے ذریعے صدر کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔مبصرین کے خیال میں پاکستان کو اب صرف وائٹ ہاؤس کے ساتھ روابط پر انحصار کرنے کے بجائے امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکان کے ساتھ بھی مؤثر تعلقات استوار کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق ریاستی استحکام، انسدادِ دہشت گردی اور معاشی بحالی جیسے مشترکہ مفادات کی وجہ سے پاک امریکہ تعاون جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم نئی سیاسی صورت حال میں پاکستان کے لیے سفارتی حکمت عملی کو مزید وسیع کرنا ضروری ہوگا۔
پاکستان کی داخلی سیاست پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے ڈاکٹر راجہ قیصر احمد کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے حزبِ اختلاف کو اپنے تحفظات اور مؤقف امریکی قانون سازوں تک پہنچانے کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ تاہم اسے پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی یا کسی مخصوص سیاسی رہنما کے لیے عملی ریلیف کی ضمانت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان کے سیاسی فیصلوں کا بنیادی تعین ملکی اداروں کے باہمی تعلقات، معاشی حالات، عوامی دباؤ، آئینی تقاضوں اور سیاسی قوتوں کی حکمت عملی سے ہوگا، نہ کہ صرف امریکی انتخابی نتائج سے۔
دوسری جانب تجزیہ کار اعزاز سید کے مطابق پاکستان کا حکمران طبقہ ماضی میں صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو داخلی سیاسی مخالفین کے خلاف اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کے خیال میں ریپبلکنز کی شکست سے حکمران طبقہ اندرونِ ملک فوری طور پر کمزور نہیں ہوگا، تاہم واشنگٹن میں اسے حاصل سیاسی حمایت اور سفارتی اثرورسوخ کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ اعزاز سید کے مطابق حکمران طبقہ اپنی داخلی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے، جبکہ حزبِ اختلاف کو کسی حد تک سیاسی یا سفارتی گنجائش ملنے کا امکان بھی موجود ہے، لیکن فی الحال کسی بڑی داخلی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
عالمی امور کے صحافی اور تجزیہ کار کامران یوسف کے مطابق ریپبلکنز کی انتخابی شکست کے باوجود پاکستان پر فوری اور براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ 2 سال تک امریکہ کے صدر رہیں گے۔ ان کے نزدیک اس وقت پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ انتخابی دھچکے کے بعد ٹرمپ ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کس سمت لے جاتے ہیں، کیونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور ایران سے متعلق کشیدگی کے دوران ہی اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں قربت بڑھی تھی۔
کامران یوسف کے مطابق اگر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ کرکے تنازع ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے پاکستان کے لیے مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان پر دفاعی اور سفارتی دباؤ کم ہونے کے ساتھ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، توانائی کے اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورت حال میں بھی کمی آسکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر انتخابی شکست کے بعد صدر ٹرمپ اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کے لیے ایران کے خلاف کسی بڑی فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو پاکستان بھی اس کے علاقائی، معاشی اور سفارتی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
کامران یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ باہمی مفادات اور ضرورتوں کی بنیاد پر استوار رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دور میں ان تعلقات میں گرم جوشی بڑھی ہے، لیکن ریپبلکنز کی شکست کے باوجود واشنگٹن میں پاکستان کی اہمیت ختم ہونے کا امکان نہیں۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے لیے کھلے عام تعریف اور خصوصی گرم جوشی میں کمی آجائے، تاہم اس کا مطلب دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑی خرابی نہیں ہوگا۔
ان کے خیال میں آئندہ 2 برس کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ امریکی داخلی سیاست، کانگریس کے ساتھ کشمکش اور آئندہ صدارتی انتخابات کی تیاریوں پر زیادہ مرکوز رہ سکتی ہے۔ اگر ایران کے ساتھ تنازع ختم بھی ہو جاتا ہے تو امریکہ کی ترجیحات میں داخلی مسائل کو زیادہ اہمیت ملنے کا امکان ہے۔ اس صورت میں پاکستان کے لیے واشنگٹن کی خصوصی توجہ حاصل کرنا پہلے کی نسبت مشکل ہو سکتا ہے۔
سیاسی و سفارتی مبصرین کے تجزیے کو سامنے رکھا جائے تو امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے کسی فوری سیاسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتے، تاہم واشنگٹن میں طاقت کے نئے توازن سے اسلام آباد کے لیے سفارتی ترجیحات تبدیل ہو سکتی ہیں۔ ایک طرف حزبِ اختلاف کو امریکی قانون سازوں تک رسائی اور اپنا مؤقف پیش کرنے کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں، تو دوسری طرف حکمران جماعت کو امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کے علاوہ کانگریس میں بھی اپنی سفارتی حمایت برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ سب سے اہم پہلو ایران کے ساتھ امریکی پالیسی ہے، کیونکہ اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی، توانائی، معیشت اور علاقائی تعلقات تک پہنچ سکتے ہیں۔ یوں پاکستان کے لیے اصل امتحان امریکی انتخابی نتائج سے زیادہ اس بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں اپنے قومی مفادات کے مطابق متوازن سفارتی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگا۔
