پاکستان میں کون کون سے کرنسی نوٹ بدلنے والے ہیں؟

پاکستان میں کرنسی نوٹوں کی شکل و صورت تبدیل کرنے اور انہیں جدید حفاظتی خصوصیات سے آراستہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائنز کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ 10 روپے کے کاغذی نوٹ کی جگہ نیا سکہ متعارف کروانے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستانی کرنسی میں ایک اہم تبدیلی کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس کا مقصد جعلی نوٹوں کی روک تھام، کرنسی کی پائیداری میں اضافہ اور قومی اخراجات میں کمی لانا ہے۔
حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں میں جعلی کرنسی کی روک تھام اور سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے عالمی معیار کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ نئے ڈیزائنز میں ہر مالیت کے نوٹ کا رنگ اور جسامت تبدیل کی گئی ہے تاکہ شہریوں کے لیے مختلف مالیت کے نوٹوں کی شناخت آسان ہو سکے۔ نوٹوں کے اگلے حصے پر بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ پچھلے حصے پر پاکستان کے ثقافتی ورثے، تاریخی عمارتوں، قومی علامات اور قدرتی مناظر کو نمایاں کیا جائے گا۔
نئے نوٹوں کی سکیورٹی کے لیے کئی جدید خصوصیات بھی شامل کی جا رہی ہیں۔ بڑے مالیت کے نوٹوں پر ایسی خصوصی سیاہی استعمال ہوگی جو زاویہ تبدیل کرنے پر اپنا رنگ بدلتی ہے، جبکہ ہولوگرافک سکیورٹی دھاگے اور واضح واٹر مارکس بھی ان کا حصہ ہوں گے۔ نابینا اور کمزور بینائی رکھنے والے افراد کی سہولت کے لیے ابھری ہوئی چھپائی کے مخصوص نقوش بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ وہ نوٹوں کی مالیت کی شناخت کر سکیں۔
سٹیٹ بینک کے مطابق نئے نوٹوں کی تیاری میں اعلیٰ معیار کا کاٹن پیپر اور حفاظتی تہہ استعمال کی جائے گی، جس سے نوٹ جلد میلے یا خراب نہیں ہوں گے اور ان کی استعمال کی مدت میں اضافہ ہوگا۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سٹیٹ بینک نے نئے نوٹوں کی چھپائی اور انہیں مرحلہ وار مارکیٹ میں متعارف کروانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اس منصوبے کا ایک اہم پہلو 10 روپے کے کاغذی نوٹ کا خاتمہ اور اس کی جگہ 10 روپے کا سکہ جاری کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی کا بنیادی مقصد کم مالیت کی کرنسی کو زیادہ پائیدار بنانا اور بار بار نئے نوٹ چھاپنے پر آنے والے اخراجات کم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزمرہ لین دین میں زیادہ استعمال ہونے کے باعث چھوٹی مالیت کے کاغذی نوٹ نسبتاً جلد خراب ہو جاتے ہیں، جس کے بعد انہیں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل نئے نوٹ چھاپنے پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس دھاتی سکے طویل عرصے تک قابلِ استعمال رہتے ہیں، جس سے طویل مدتی بنیادوں پر قومی خزانے کو بچت ہو سکتی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ 10 روپے کے موجودہ کاغذی نوٹ فوری طور پر منسوخ نہیں کیے جائیں گے بلکہ نئے سکوں کی دستیابی کے ساتھ انہیں بتدریج مارکیٹ سے واپس لیا جائے گا۔ اسی طرح دیگر پرانے کرنسی نوٹ بھی ایک مقررہ مدت تک قانونی طور پر قابلِ قبول رہیں گے، لہٰذا شہریوں کو فوری طور پر اپنے پاس موجود نوٹ تبدیل کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
مبصرین کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کا اجرا محض ڈیزائن کی تبدیلی نہیں بلکہ پاکستان کے نقد ادائیگی کے نظام کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانے کی کوشش ہے۔ تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئے نوٹ اور سکے کس رفتار سے مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں، عوام کو ان کی شناخت کے بارے میں کس حد تک آگاہ کیا جاتا ہے اور پرانی کرنسی کی واپسی کا عمل کس انداز میں مکمل کیا جاتا ہے۔
