خیبرپختونخوا:گورنر راج کے نفاذ کے بعدPTIرہنما بِلوں میں کیوں چھپ گئے؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے پی ٹی آئی کے متعدد انقلابی ارکین اسمبلی اور اہم رہنماؤں نے خود کو منظرعام سے پیچھے ہٹا لیا ہے۔ یہاں تک کہ بیشتر پارٹی رہنماؤں نے اپنے موبائل فون بھی بند کر رکھے ہیں جبکہ بعض صرف واٹس ایپ کے ذریعے محدود رابطہ رکھتے ہیں، تاہم میڈیا سے بات کرنے کے لیے کوئی بھی تیار دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب پارٹی کے اندر مختلف گروپوں کے درمیان رابطوں، باہمی اختلافات اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے بھی نئی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بعض ارکان اسمبلی اپنی سیاسی پوزیشن محفوظ رکھنے، ممکنہ گرفتاری سے بچنے اور پارٹی کارکنوں کی ناراضی سے محفوظ رہنے کے لیے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے متعدد ارکان صوبائی اسمبلی اور اہم رہنماؤں سے مسلسل رابطوں کی کوشش کی گئی، تاہم کسی نے بھی باقاعدہ گفتگو پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض رہنما اپنے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے ذریعے پیغامات وصول کرتے ہیں، لیکن کچھ وقت بعد ان کے واٹس ایپ نمبر بھی بند ہو جاتے ہیں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے ایک اہم رہنما نے مبینہ طور پر اس خاموشی کی وجہ گرفتاری کا خوف، پارٹی کارکنوں کی ممکنہ مخالفت اور مستقبل میں انتخابی ٹکٹ سے محرومی کے خدشات کو قرار دیا۔

پارٹی کے اندرونی رابطوں کے حوالے سے رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ارکان اسمبلی نے واٹس ایپ پر مختلف گروپس بنا رکھے ہیں اور انہی کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ان گروپس میں بعض ایسے ارکان کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں اسد قیصر، بیرسٹر گوہر یا سہیل آفریدی کے سیاسی حلقے سے وابستہ سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہیل آفریدی کے گروپ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے علی امین گنڈا پور اور چارسدہ کے سیاسی گروپوں سے بھی رابطے کیے ہیں، تاکہ انہیں سہیل آفریدی کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے متعدد ارکان اور سابق وزرا اپنے اختلافات ختم کرکے کسی بھی صورت صوبائی حکومت کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ مستقبل کے سیاسی بندوبست میں ان کے لیے بھی جگہ برقرار رہے۔ مبینہ طور پر پشاور اور دیگر بڑے شہروں سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان اسمبلی کو دیہی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ گرفتاری کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ کچھ ارکان پہلے سے مقتدر حلقوں کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر اعلیٰ سطح کی ہدایات کے بعد خود کو سیاسی منظرنامے سے الگ کر لیا ہے۔

رپورٹ میں بعض ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ کچھ ارکان اسمبلی کو سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک جبکہ بعض کو سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے محفوظ مقامات پر پناہ فراہم کی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ذرائع کے مطابق ان رہنماؤں کو حالات سازگار ہونے پر دوبارہ سیاسی منظرنامے میں متحرک ہونے کا کہا جا سکتا ہے۔پشاور سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے بعض اہم ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں کی خاموشی کے پیچھے بیک وقت کئی خدشات موجود ہیں۔ ایک طرف وہ مقتدر حلقوں کی توجہ سے بچنا چاہتے ہیں، دوسری طرف عمران خان سے بے وفائی کا تاثر پیدا ہونے اور مقامی کارکنوں کی ناراضی کا بھی خوف ہے۔ ان کے مطابق ذاتی سیاسی مستقبل، پارٹی کے اندر گروپ بندی اور ممکنہ حکومتی تبدیلی کے تناظر میں کئی ارکان اسمبلی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا بحران صرف قیادت اور حکومت کی سطح تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے صوبائی پارلیمانی جماعت کے اندر اعتماد، رابطوں اور سیاسی وفاداری کے مسائل کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف ارکان اسمبلی مستقبل کی سیاسی گنجائش برقرار رکھنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف پارٹی کارکنوں اور مرکزی قیادت کے سامنے اپنی وفاداری ثابت کرنے کا دباؤ بھی موجود ہے۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی بحالی کی خواہش اور پارٹی کے اندر مختلف گروپوں کی اپنی اپنی سیاسی حکمت عملی ایک دوسرے سے متصادم ہو سکتی ہے۔

Back to top button