بچوں میں ذیابیطس کی نشاندہی کیلئےٹیسٹ متعارف

سائنسدانوں نےخون کاٹیسٹ متعارف کرایاہےجو لپیڈپروفائلز کی مدد سےبچوں میں موٹاپےسےمتعلق قبل ازوقت صحت کےمسائل کےخطرےکی نشاندہی شناخت کرسکتاہے۔
کنگز کالج لندن کے محققین نےلپڈز اور بچوں کے میٹابولزم کو متاثر کرنے والے امراض کے درمیان ایک نیا ربط دریافت کیاہےاور یہ دریافت جگر کی بیماری سمیت بیماریوں کےلیےابتدائی انتباہی نظام فراہم کر سکتی ہے۔
مطالعہ جو کہ نیچرمیڈیسن میں شائع ہوا ہے۔میں محققین تجویز کرتےہیں کہ اس سےطبی پیشہ ور افرادکوبچوں میں بیماری کےابتدائی اشارےکو زیادہ تیزی سے شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مزیدبرآں اس سےاسپتالوں میں موجود بلڈپلازما ٹیسٹنگ مشینوں کااستعمال کرکے بچوں کےمناسب علاج تک رسائی کوآسان بنایاجاسکتا ہے۔
واضح رہےکہ سکاٹ لینڈ میں ایک تحقیق کاآغاز کیاجارہا ہےجس کامقصد بچوں میں ٹائپ ون ذیابیطس پرقابوپاناہے۔تحقیق کارملک بھرمیں اس مرض سے متاثرہ تقریباً 6400خاندانوں سےرابطے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔وہ بچے جن کےوالدین یا بہن بھائیوں میں سے کوئی ذیابیطس قسم اول کےمرض کاشکارہے،ان کےخون کے ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ان کویہ مرض لاحق ہونےکےکتنے امکانات ہیں۔وہ بچےجنھیں یہ مرض لاحق ہونےکاخطرہ ہو گاان کومیٹفورمِن نامی دوا دی جائےگی تاکہ اندازہ لگایا جاسکےکہ یہ دوا اس بیماری پرقابوپانے میں کتنی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔۔
کوئٹہ میں کانگو وائرس سےایک اورمریض جاں بحق
میٹفورمِن پہلےہی سےذیابیطس کےعلاج کےلیےاستعمال کی جا رہی ہے۔لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس دوا کےاستعمال سےمرض کولاحق ہونےسے پہلے ہی روکا جا سکتاہے یانہیں۔اگریہ تجربہ کامیاب ہوگیا تواس سےذیابیطس قسم اول کےبارےمیں پرانے خیالات پرسوال اٹھایاجاسکتا ہے۔
