امریکی پابندیوں سے بچنے کےلیے ایران کا چین سے بارٹر تجارت کا انکشاف

 

 

 

 

امریکی پابندیوں اور عالمی بینکاری نظام کی سختیوں سے بچنے کےلیے ایران نے چین کے ساتھ بارٹر نما تجارت کا نظام اختیار کرلیا،جس کے ذریعے ایرانی تیل کے عوض چین سے مختلف اشیاء اور مبینہ طور پر فوجی سازوسامان بھی حاصل کیا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتےہوئے دو اعلیٰ ایرانی ذرائع سمیت تجارت سے باخبر افراد نے بتایاکہ ایران امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے اپنے تیل کی فروخت جاری رکھنے اور چین سے اربوں ڈالر مالیت کی اشیاء اور فوجی سازوسامان خریدنے کےلیے بارٹر نما تجارتی نظام استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس خفیہ نظام کےتحت ایرانی تیل کےبدلے چین سے درآمد کی جانے والی اشیاء کےلیے کریڈٹ حاصل کیےجاتے ہیں،ایران نے اس نظام کے ذریعے چین سے ادویات،گاڑیاں اور مواصلاتی آلات بھی حاصل کیےہیں جب کہ ان اشیاء کے مینوفیکچررز براہِ راست ایران کے ساتھ لین دین نہیں کررہے تھے۔

ایران-امریکا تنازع: خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی

ذرائع کاکہنا ہےکہ گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم ایک مرتبہ اس طریقہ کار کو ایران کو لاکھوں ڈالر مالیت کا فضائی دفاعی سازوسامان فراہم کرنےکے معاہدوں کے سلسلے میں بھی استعمال کیاگیا۔

ذرائع کےمطابق بارٹر نما تجارتی نظام کے علاوہ بھی ایران دیگر مختلف طریقوں سے بین الاقوامی بینکاری نظام سے گزرےبغیر چینی کمپنیوں سے اشیاء اور خدمات حاصل کرتا ہے۔

ذرائع نے مبینہ لین دین کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں جب کہ خبر ایجنسی بھی آزادانہ طور پر ان معاملات کی تصدیق نہیں کرسکی۔بارٹر نما تجارت سے متعلق خبر ایجنسی کے سوالات کے جواب میں چینی وزارت خارجہ نے کہاکہ وہ بیان کردہ صورت حال سے واقف نہیں اور چین ہمیشہ یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

 

Back to top button