حکومت نے عوام کیلئے پینشن کا حصول آسان کیسے بنایا؟

 

 

 

 

 

ملک کے لاکھوں سول اور ملٹری پینشنرز کے لیے اہم تبدیلی سامنے آگئی، حکومت نے پینشن کی وصولی کے روایتی نظام میں بنیادی اصلاحات کرتے ہوئے بینکوں سے بائیومیٹرک تصدیق اور لائف سرٹیفیکیٹ وصول کرنے کا اختیار واپس لے لیا ہے۔ نئے ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت اب تصدیق کا مرکزی نظام نادرا کے ذریعے چلایا جائے گا، جبکہ بینکوں کا بنیادی کردار پینشن کی رقم منتقل کرنے تک محدود ہوگا۔ نئے قواعد کے تحت بائیومیٹرک تصدیق میں تاخیر یا ناکامی کی صورت میں بینک پینشنرز کے اکاؤنٹس بلاک یا غیر فعال نہیں کر سکیں گے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پینشنرز کے لیے مارچ اور ستمبر میں لازمی تصدیق کی سابقہ شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اب پینشنرز ہر 180 دن کے اندر اپنی بائیومیٹرک تصدیق کسی بھی وقت مکمل کرا سکیں گے، جس سے انہیں مخصوص مہینوں میں بینکوں کے چکر لگانے اور طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

نئے نظام میں نادرا کے ڈیٹا بیس کو براہِ راست کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہوتے ہی ایک ڈیجیٹل لائف سگنل متعلقہ اکاؤنٹس آفس تک پہنچ سکے گا، جس سے کاغذی کارروائی کم ہونے اور پینشن کے نظام میں شفافیت بہتر ہونے کی توقع ہے۔

 

حکومت نے پینشنرز کے لیے نادرا کی تصدیقی خدمات بھی مفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ پینشنرز اور ان کے اہل خانہ پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے اسمارٹ فون سے گھر بیٹھے بائیومیٹرک یا فیشل ریکگنیشن کے ذریعے تصدیق مکمل کر سکیں گے۔ یوں نئے نظام کا مقصد صرف بینکوں کے چکر ختم کرنا نہیں بلکہ پینشن کی تصدیق کو زیادہ آسان، تیز اور ڈیجیٹل بنانا بھی ہے۔

 

نادرا سینٹرز کے علاوہ ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد ای سہولت مراکز کو بھی اس عمل کے لیے فعال کیا گیا ہے۔ بیمار، انتہائی ضعیف اور معذور پینشنرز کے لیے نادرا کی موبائل وینز اور بائیکر سروس کے ذریعے گھر جا کر تصدیق کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ ایسے افراد جن کے لیے مرکز یا بینک تک پہنچنا مشکل ہے، وہ بھی اس عمل سے مستفید ہو سکیں۔

 

حکومت کے مطابق پینشن نظام میں تبدیلی کی بنیادی وجہ بزرگ شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہے۔ سابقہ طریقہ کار کے تحت خصوصاً 70 یا 80 سال سے زائد عمر کے بیمار اور معذور پینشنرز کو سال میں دو مرتبہ بائیومیٹرک تصدیق کے لیے بینک جانا پڑتا تھا۔ شدید گرمی، سردی یا بیماری کے باوجود بینکوں کے چکر لگانا ان شہریوں کے لیے ایک بڑا انتظامی اور جسمانی مسئلہ بن چکا تھا۔

 

پرانے نظام میں ایک اور اہم مسئلہ عمر رسیدہ افراد کے فنگر پرنٹس کا واضح نہ آنا تھا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انگلیوں کے نشانات مدھم ہونے کے باعث کئی مرتبہ بینک کی بائیومیٹرک مشینیں تصدیق نہیں کر پاتی تھیں۔ ایسی صورتحال میں پینشن کی ادائیگی متاثر ہونے اور اکاؤنٹ غیر فعال ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا تھا، جس سے بعض بزرگ شہری اپنی ماہانہ ضروریات، ادویات اور دیگر اخراجات کے لیے مالی مشکلات کا شکار ہوتے تھے۔

 

نئے ڈیجیٹل نظام کا ایک اہم مقصد پینشن میں ممکنہ بے ضابطگیوں اور جعلی وصولیوں کی روک تھام بھی بتایا جا رہا ہے۔ ماضی کے کاغذی نظام میں ایسے معاملات سامنے آتے رہے ہیں جن میں پینشنر کی وفات کے بعد بھی مبینہ طور پر پینشن وصول ہوتی رہی۔ نادرا کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور وفات کے اندراج کے نظام کو پینشن کے ڈیٹا سے منسلک کرنے سے حکومت کو ایسی غیر قانونی یا جعلی ادائیگیوں کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم نئے نظام کے باوجود ماہرین نے اس کی عملی کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق لاکھوں سول اور ملٹری پینشنرز کی تصدیق کا بوجھ نادرا کے ڈیجیٹل نظام اور پاک آئی ڈی ایپ پر منتقل ہونے کے بعد ضروری ہے کہ یہ نظام مسلسل اور مؤثر انداز میں کام کرے۔ اگر تکنیکی خرابی، سرور ڈاؤن ہونے یا ڈیجیٹل لائف سگنل کی ترسیل میں تاخیر کا مسئلہ پیدا ہوا تو یہی سہولت بعض پینشنرز کے لیے نئی مشکل بن سکتی ہے۔

اسلام آباد میں گداگر بچے جنسی تشدد اور نشے کا شکار کیوں ہونے لگے؟

یوں حکومت کی جانب سے پینشن کے نظام میں کی جانے والی یہ تبدیلی ایک طرف بزرگ شہریوں کو بینکوں کے بار بار چکر، قطاروں اور بائیومیٹرک کی مشکلات سے نجات دلانے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف نادرا کے مرکزی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پینشن کی تصدیق اور نگرانی کو مزید شفاف بنانے کا منصوبہ بھی ہے۔ اب اس اصلاحات کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نیا نظام لاکھوں پینشنرز کے لیے کس حد تک آسان، قابلِ اعتماد اور بلا تعطل ثابت ہوتا ہے۔

 

Back to top button