اسلام آباد میں گداگر بچے جنسی تشدد اور نشے کا شکار کیوں ہونے لگے؟

 

 

وفاقی دارالحکومت میں بچوں سے گداگری کا مسئلہ محض سڑکوں پر بھیک مانگنے تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ایسے خطرناک سماجی جال کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں کم عمر بچے مبینہ طور پر نشے، تشدد، جنسی استحصال اور دیگر سنگین مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات نے بچوں کے تحفظ اور بحالی کے موجودہ نظام پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں گداگری میں ملوث 97 لڑکوں میں انرجی ڈرنکس اور دیگر مشروبات میں نشہ آور اشیا ملا کر استعمال کرنے کا رجحان سامنے آیا، جبکہ 137 گداگر لڑکیوں کے بھی نشے کی لت میں مبتلا ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گداگری میں ملوث 20 سے 30 فیصد ہائی رسک بچے جنسی ہراسانی، تشدد اور زیادتی کا شکار رہے ہیں۔

چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق مسلسل نشے، جسمانی و جنسی تشدد اور مختلف اقسام کے استحصال کا سامنا کرنے والے بعض بچوں میں شدید نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ طویل عرصے تک غیر محفوظ ماحول میں رہنے کے باعث ان بچوں کی شخصیت اور رویوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، جس سے یہ مسئلہ محض گداگری کے خاتمے کے بجائے بچوں کے تحفظ، ذہنی صحت اور معاشرتی بحالی کا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

رپورٹ میں ایک نوعمر گداگر بچے کا کیس بھی شامل کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر خود جنسی تشدد کا شکار رہا اور بعد ازاں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے بھی خطرہ بن گیا۔ یہ کیس اس امر کی سنگینی کو واضح کرتا ہے کہ تشدد اور استحصال کا شکار بچوں کو صرف سڑکوں سے ہٹانا کافی نہیں، بلکہ انہیں محفوظ ماحول، نفسیاتی معاونت، تعلیم اور مناسب تربیت فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ دوبارہ اسی خطرناک ماحول میں واپس نہ جائیں۔

خیبرپختونخوا پولیس تھانوں پر بلندوبالا جال کیوں لگانے لگی؟

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے کھنہ پل، ضیا مسجد اور شکریال کے علاقوں میں 20 سے 30 خاندان منظم گداگری میں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ان خاندانوں کی جانب سے بچوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ سعودی عرب تک بھیک مانگنے کیلئے بھیجے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس سے گداگری کے اس نیٹ ورک کی وسعت اور پیچیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گداگری کے خلاف کارروائیوں کے دوران بچوں کو سڑکوں سے ریسکیو تو کرلیا جاتا ہے، تاہم جامع بحالی کا مؤثر نظام موجود نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں بچے دوبارہ سڑکوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ یوں وہ ایک مرتبہ پھر گداگری، نشے، تشدد اور استحصال کے اسی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف گداگروں کے خلاف آپریشن، گرفتاریوں اور بچوں کو سڑکوں سے ہٹانے سے اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ اس مقصد کیلئے گداگر بچوں کیلئے الگ اور مخصوص بحالی مراکز قائم کرنے، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بڑھانے اور ریسکیو کیے جانے والے بچوں کی مسلسل نگرانی کا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کے مطابق سڑک پر بھیک مانگتا ہوا بچہ صرف گداگری کا مرتکب فرد نہیں بلکہ ممکنہ طور پر استحصال، نشے، تشدد اور جرائم کے ایک وسیع نظام کا متاثرہ ہو سکتا ہے۔ ایسے بچوں کو محض قانونی کارروائی یا عارضی ریسکیو کے ذریعے مسئلے سے باہر نہیں نکالا جا سکتا بلکہ انہیں محفوظ رہائش، تعلیم، طبی و نفسیاتی معاونت اور خاندان کی سطح پر بحالی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسلام آباد میں گداگری سے متعلق یہ انکشافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کو منظم گداگری سے نکالنے کیلئے فوری کارروائی کے ساتھ ساتھ ایک طویل المدتی اور مربوط پالیسی بھی ناگزیر ہے، جس میں بچوں کے تحفظ، بحالی اور مستقبل کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ اگر ریسکیو کیے جانے والے بچوں کیلئے مؤثر بحالی اور نگرانی کا نظام قائم نہ کیا گیا تو ان کے دوبارہ اسی استحصالی ماحول میں جانے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

 

Back to top button