ملک میں فوری نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ناممکن کیوں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام، نئی انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ تاہم موجودہ سیاسی صورتحال اور مختلف حکومتی بیانات کا جائزہ لیا جائے تو فوری طور پر نئے صوبوں کے قیام کے بجائے بااختیار انتظامی یونٹس اور مؤثر بلدیاتی نظام کی جانب پیش رفت کے امکانات زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی و انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ یہ ہے کہ عام شہری کو اس کے گھر کی دہلیز پر ریاستی سہولیات، فیصلوں میں شمولیت اور وسائل تک منصفانہ رسائی کیسے فراہم کی جائے۔

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی کے مطابق موجودہ حالات میں فوری طور پر نئے صوبوں کا قیام مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے ذریعے ایک درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مختلف حکومتی شخصیات کے بیانات اور سیاسی حلقوں میں جاری گفتگو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بحث اب صرف صوبائی حدود تبدیل کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ انتظامی اختیارات، مالی وسائل اور فیصلہ سازی کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت زیادہ اہمیت اختیار کر رہی ہے۔

انصار عباسی کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے بھی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر حکومتی شخصیات کی گفتگو سے بھی یہ اشارے ملتے ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایسے میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فوری طور پر نئے صوبے نہیں بنتے تو پھر عوام کو انتظامی سہولت اور اختیارات کی منتقلی کس شکل میں دی جائے گی؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سوال کا ایک ممکنہ جواب بااختیار انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ عام شہری کے لیے ریاست کا سب سے اہم ادارہ وہی ہوتا ہے جو اس کے گھر کے قریب ہو اور اسے صاف پانی، سڑک، اسپتال، اسکول، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ اگر مقامی حکومت کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار تو موجود ہو لیکن اس کے پاس مالی وسائل نہ ہوں تو ایسا اختیار عملاً بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض بلدیاتی انتخابات کرانا کافی نہیں، بلکہ مقامی نمائندوں کو حقیقی انتظامی اور مالی اختیارات دینا بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کا عمل آگے بڑھا، تاہم صوبوں سے مزید نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے کا معاملہ توقعات کے مطابق پیش رفت نہیں کر سکا۔ نتیجتاً تعلیم، صحت، صفائی، ترقیاتی منصوبوں اور شہری سہولیات جیسے معاملات میں مقامی سطح پر فیصلہ سازی اب بھی بڑی حد تک صوبائی حکومتوں کے کنٹرول میں ہے۔ یہی مرکزیت کئی علاقوں میں احساس محرومی اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی شکایات کو جنم دیتی ہے۔

کراچی اور نئے صوبوں کے معاملے پر سینیئر تجزیہ کار شہزاد اقبال کے مطابق فی الحال نئے صوبوں کا قیام یا کراچی کو وفاق کے زیر انتظام دینے کی تجویز عملی شکل اختیار کرتی نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی تجویز کسی صورت قبول نہیں کرے گی، کیونکہ صوبے کے معاشی وسائل میں کراچی کا کردار انتہائی اہم ہے۔ تاہم ان کے نزدیک اس مسئلے کا ایک ممکنہ درمیانی راستہ آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا اور صوبائی سطح پر وسائل کے ارتکاز کو کم کرنا ہو سکتا ہے۔

شہزاد اقبال نے ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم کی مثال دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ لاہور میں فی شہری تقریباً 13 ہزار 240 روپے جبکہ لودھراں میں صرف 460 روپے خرچ ہونے کی مثال اس بڑے فرق کو واضح کرتی ہے جو مختلف علاقوں کے درمیان موجود ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب، جہاں ملک کی تقریباً 30 فیصد آبادی آباد ہے، ترقیاتی بجٹ میں اس کا حصہ صرف 4 فیصد رہنے کا معاملہ بھی وسائل کی تقسیم کے موجودہ نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جو نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی بحث کو بار بار زندہ کرتی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار اطہر کاظمی کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی بحث کے پیچھے دراصل وسائل اور انتظامی کنٹرول کی تقسیم کا بنیادی سوال موجود ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومتیں اپنے مالی وسائل اور انتظامی اختیارات کو مزید تقسیم کرنے کے لیے آسانی سے تیار نہیں ہوں گی، کیونکہ نئی انتظامی اکائیاں بننے کی صورت میں اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور وزرائے اعلیٰ کا ترقیاتی ترجیحات طے کرنے اور وسائل خرچ کرنے کا اختیار محدود ہو سکتا ہے۔

اطہر کاظمی کے مطابق یہی سیاسی مفادات اس قسم کی اصلاحات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اصولی طور پر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں، لیکن جب اس کے نتیجے میں ان کے اپنے سیاسی اور انتظامی اختیارات محدود ہونے کا خدشہ ہو تو اصلاحات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ ان کے مطابق صرف نئے نام رکھنے یا نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اصل ضرورت ایسی انتظامی تبدیلی کی ہے جس کے نتیجے میں عوام کو حقیقی سہولت اور اختیارات حاصل ہوں۔

دوسری جانب سینیئر تجزیہ کار عمر چیمہ کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھانا چاہیے، لیکن سیاسی قیادت اس موضوع پر واضح اور کھل کر مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کریں گے، اپنے اندر کئی آئینی اور سیاسی سوالات رکھتا ہے۔ اگر فیصلہ عوام نے کرنا ہے تو کیا اس کے لیے ریفرنڈم ہوگا، پارلیمان فیصلہ کرے گی یا کوئی اور آئینی طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ اس بارے میں ابھی تک کوئی واضح اور جامع منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئے صوبوں کے قیام میں آئینی ترامیم، سیاسی اتفاق رائے، وسائل کی تقسیم، نئی اسمبلیوں اور انتظامی ڈھانچے سمیت کئی پیچیدہ معاملات شامل ہیں، اس لیے فوری طور پر اس سمت میں بڑی پیش رفت کے امکانات محدود ہیں۔ اس کے مقابلے میں موجودہ صوبائی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے نئی انتظامی اکائیوں، ڈویژنل یا علاقائی سطح پر زیادہ اختیارات اور آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت بااختیار بلدیاتی نظام کی تشکیل نسبتاً قابلِ عمل راستہ ہو سکتا ہے۔

یوں موجودہ بحث کا اصل محور شاید نئے صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ ریاستی اختیارات کو عوام کے قریب لانا بنتا جا رہا ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی خودمختاری دی جاتی ہے، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جاتی ہے اور شہریوں کو اپنے علاقوں کے ترقیاتی فیصلوں میں مؤثر کردار دیا جاتا ہے تو نئے صوبوں کے مطالبات کی شدت بھی کم کی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر اختیارات اور وسائل بدستور صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہے تو انتظامی محرومی، علاقائی عدم مساوات اور نئے صوبوں کے مطالبات کا معاملہ آئندہ بھی پاکستانی سیاست کا اہم موضوع بنا رہے گا۔

Back to top button