خیبر پختونخوا میں ڈرون وار، پولیس نے یوکرین سے سبق کیسے سیکھا؟

خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کی جانب سے چھوٹے ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے سکیورٹی چوکیوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے ہوئے خطرے نے پولیس کو روایتی حفاظتی انتظامات کے ساتھ نئے اور نسبتاً کم لاگت والے طریقے اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ضلع خیبر میں بعض حساس پولیس چوکیوں کے اوپر مضبوط حفاظتی جال نصب کیے گئے ہیں تاکہ فضا سے آنے والے ڈرون، کواڈ کاپٹر یا ان کے ذریعے گرائے جانے والے بارودی مواد کے براہِ راست اثر کو کم کیا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی بڑی حد تک یوکرین کے تجربے سے متاثر ہے، جہاں روسی ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے اسی نوعیت کے جال بڑے پیمانے پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر وقار احمد کے مطابق تحصیل باڑہ میں چار سے پانچ پولیس چوکیوں پر یہ حفاظتی جال نصب کیے گئے ہیں، بالخصوص ان مقامات پر جہاں ڈرون یا کواڈ کاپٹر حملوں کا خطرہ زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ عام مچھلی پکڑنے والے جال نہیں بلکہ نسبتاً مضبوط مواد سے تیار کیے گئے خصوصی نیٹ ہیں، جنہیں چوکیوں کے اوپر اور سامنے زمین سے کئی میٹر بلند کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی ڈرون یا کواڈ کاپٹر چوکی کی طرف بڑھتا ہے یا اس کے ذریعے گرینیڈ اور دیگر بارودی مواد پھینکا جاتا ہے تو وہ جال میں پھنس جائے یا کم از کم حملے کا براہِ راست اثر عمارت اور وہاں موجود اہلکاروں تک پہنچنے سے پہلے کم ہو جائے۔
یہ طریقہ دراصل میدانِ جنگ میں تیزی سے تبدیل ہونے والی جنگی حکمتِ عملی کی ایک مثال ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یوکرین میں روسی ڈرونز کے خلاف ایسے جال بڑے پیمانے پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ روسی سرحد کے قریب یوکرین کے بعض علاقوں میں صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ سڑکوں اور رہائشی علاقوں کے اوپر بھی جال نصب کیے گئے ہیں تاکہ کم قیمت ڈرونز کے حملوں سے شہریوں اور بنیادی تنصیبات کو تحفظ دیا جا سکے۔ یوکرین میں بعض مقامات پر گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لیے استعمال ہونے والے مضبوط جال بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک سے پرانے اور استعمال شدہ جال بھی یوکرین پہنچائے گئے۔
خیبر پختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرون خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف جالوں پر انحصار نہیں کیا جا رہا بلکہ دیگر حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس میں ڈائریکٹر پبلک ریلیشن عبدالسلام خالد کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں، خصوصاً بنوں میں کواڈ کاپٹر اور ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے متعدد حفاظتی اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران مختلف اقدامات کی مدد سے درجنوں ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں کو ناکام بنایا گیا، جبکہ پولیس نے اینٹی ڈرون گنز جیسی جدید ٹیکنالوجی بھی حاصل کی ہے۔
تاہم دفاعی امور کے ماہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کے مطابق جال اگرچہ ایک حفاظتی تدبیر ضرور ہے لیکن اسے ڈرون حملوں کے خلاف مکمل یا انتہائی مؤثر حل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے جال اور کیموفلاج نیٹ استعمال ہوتے رہے ہیں، تاہم ہر قسم کے ڈرون یا حملے کے خلاف ان کی مؤثریت یکساں نہیں ہوتی۔ اس لیے جال کو ایک اضافی حفاظتی تہہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، نہ کہ ڈرون خطرے کا مکمل علاج۔
خیبر پختونخوا میں اس حکمتِ عملی کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سابق قبائلی اضلاع اور بنوں میں پولیس اور سکیورٹی تنصیبات کے خلاف چھوٹے کمرشل ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ضلع بنوں کے میران تھانے کی مثال سامنے آتی ہے جہاں گزشتہ دو برسوں کے دوران کواڈ کاپٹرز کے ذریعے مجموعی طور پر 13 حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں اور ان واقعات میں وہاں تعینات 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
ان حملوں میں استعمال ہونے والے ڈرون جدید فوجی طرز کے مہنگے طیارے نہیں بلکہ عام مارکیٹ میں دستیاب نسبتاً سستے کمرشل کواڈ کاپٹرز بھی ہو سکتے ہیں جن میں تبدیلیاں کرکے انہیں حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ گزشتہ رپورٹس کے مطابق بعض واقعات میں بارودی مواد کو پلاسٹک کی بوتل میں رکھ کر اس کے ساتھ بیڈمنٹن کی شٹل لگائی گئی تاکہ اسے ڈرون کے ذریعے ہدف تک پہنچایا جا سکے۔ اس طرح کی تکنیک نے سکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کیا ہے کیونکہ کم قیمت اور آسانی سے دستیاب ڈرونز نسبتاً کم وسائل رکھنے والے مسلح گروہوں کے لیے بھی ایک خطرناک ذریعہ بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں اس نوعیت کے ڈرون حملوں کی اطلاعات 2024 کے اوائل میں شمالی وزیرستان سے سامنے آنا شروع ہوئیں، جبکہ 2025 کے دوران شدت پسند گروہوں کی جانب سے بعض حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور ان کی ویڈیوز جاری کرنے کا رجحان بھی دیکھا گیا۔ بعض کالعدم گروہوں کے درمیان اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کی تشہیر پر اختلافات بھی سامنے آئے، کیونکہ ایک رائے یہ تھی کہ ڈرون حملوں کی صلاحیت ظاہر کرنے سے ان کی سپلائی اور طریقہ کار سکیورٹی اداروں کے لیے زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔
بعد ازاں شدت پسند گروہوں نے ڈرون حملوں کو اپنی کارروائیوں کی تشہیر کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کیا اور ان کی ویڈیوز کو کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ اس صورتحال نے خیبر پختونخوا کے سکیورٹی اداروں کے لیے خطرے کی نوعیت بدل دی ہے۔ اب خطرہ صرف زمین سے فائرنگ، خودکش حملوں یا روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ آسمان سے آنے والا ایک نسبتاً چھوٹا اور کم قیمت ڈرون بھی کسی حساس پولیس چوکی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں عام شہری اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، وہی ٹیکنالوجی اب جنگ اور دہشت گردی کے میدان میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔ اسی لیے خیبر پختونخوا پولیس کا یوکرین سے متاثر ہو کر حفاظتی جال کا استعمال اس وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جس میں سکیورٹی فورسز کو کم قیمت ڈرونز کے مقابلے کے لیے نسبتاً سستے مگر فوری طور پر قابلِ استعمال دفاعی طریقے تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں جالوں کی تنصیب بظاہر ایک سادہ اور روایتی اقدام دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے پیچھے بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کی ایک بڑی حقیقت موجود ہے: اب جدید جنگ کے لیے ہمیشہ مہنگے میزائل یا بڑے فوجی ڈرون ضروری نہیں۔ ایک معمولی کمرشل کواڈ کاپٹر، اس میں معمولی تبدیلی اور محدود مقدار میں بارودی مواد بھی کسی پولیس چوکی یا سکیورٹی تنصیب کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کو ایک طرف اینٹی ڈرون گنز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھانا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب یوکرین جیسے جنگ زدہ ممالک کے عملی تجربات سے ایسے کم لاگت حفاظتی طریقے بھی اپنانے پڑ رہے ہیں جو کسی حملے کی شدت کو کم کر سکیں۔
