امریکی یونیورسٹی کا طالب علم 9/11 حملوں کا مبینہ منصوبہ ساز کیسے بنا؟

گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے حملوں نے صرف تین ہزار کے قریب انسانی جانیں نہیں لیں بلکہ دنیا کی سیاست، عالمی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا پورا نقشہ بدل دیا۔ چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کرکے امریکہ کی اہم عمارتوں کو نشانہ بنانے کا یہ منصوبہ اچانک وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس کے پیچھے برسوں پر محیط ایک پیچیدہ منصوبہ بندی، مختلف ممالک میں پھیلا ہوا ایک خفیہ نیٹ ورک اور ایسے افراد شامل تھے جنہوں نے افغانستان، پاکستان، مشرق وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور امریکہ کے درمیان اپنے رابطوں کو استعمال کیا۔ اس پوری سازش میں جس شخص کا نام مبینہ مرکزی منصوبہ ساز کے طور پر سب سے نمایاں سامنے آتا ہے، وہ خالد شیخ محمد ہے۔
دلچسپ اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ خالد شیخ محمد کی زندگی کا ایک حصہ اسی ملک میں گزرا جہاں بعد میں وہ تاریخ کے بدترین دہشت گرد حملوں میں سے ایک کی منصوبہ بندی کے خلاف کھڑا ہوا۔ وہ کویت میں پیدا ہوا، امریکہ میں مکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور ایک وقت میں بظاہر ایک عام طالب علم کی زندگی گزار رہا تھا۔ لیکن افغانستان کی جنگ، شدت پسند حلقوں سے روابط اور عالمی سیاست کے بارے میں اس کے تصورات نے اس کی زندگی کا رخ تبدیل کر دیا۔ چند ہی برسوں میں ایک امریکی یونیورسٹی کا طالب علم القاعدہ کے سب سے اہم منصوبہ سازوں میں شمار ہونے لگا۔
خالد شیخ محمد 14 اپریل 1965 کو کویت میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ایک مسجد کے پیش امام تھے اور ان کا تعلق پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔ خالد نے نوجوانی میں اخوان المسلمون سے وابستگی اختیار کی۔ 1983 میں سیکنڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ گیا اور نارتھ کیرولائنا میں مکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ دسمبر 1986 میں اس نے اپنی ڈگری مکمل کر لی، لیکن اسی دوران اس کے نظریات میں نمایاں تبدیلی آچکی تھی۔
1987 میں خالد شیخ محمد افغانستان پہنچا اور سوویت افواج کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔ یہی وہ ماحول تھا جہاں اس کے عسکری اور شدت پسند حلقوں سے روابط مضبوط ہوئے۔ پشاور اور افغانستان کے درمیان اس کی آمدورفت جاری رہی اور اس کی ملاقات ایسے افراد سے ہوئی جو بعد میں القاعدہ اور عالمی جہادی نیٹ ورک میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔
خالد شیخ محمد کا تعلق رمزی یوسف سے بھی تھا، جو اس کا بھتیجا تھا اور 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر بم حملے کا مرکزی ملزم بنا۔ 1993 کا یہ حملہ اگرچہ ٹوئن ٹاورز کو گرانے میں ناکام رہا، لیکن اس نے امریکی سرزمین کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے تصور کو ایک نئی حقیقت میں تبدیل کر دیا۔ حملے میں چھ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ خالد شیخ محمد نے اس منصوبے میں مبینہ طور پر مشاورتی کردار ادا کیا اور رمزی یوسف کو مالی مدد بھی فراہم کی۔
1993 کے حملے کے بعد خالد شیخ محمد نے دہشت گردی کے مزید بڑے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی۔ 1994 میں وہ رمزی یوسف کے ساتھ فلپائن پہنچا، جہاں امریکی صدر بل کلنٹن اور پوپ جان پال دوم کو قتل کرنے کے منصوبوں پر غور کیا گیا۔ اس کے بعد ’بوجنکا‘ نامی ایک بڑے منصوبے پر کام شروع ہوا، جس کے تحت متعدد امریکی مسافر طیاروں کو بحرالکاہل کے خطے میں بم دھماکوں سے تباہ کرنے کی سازش کی گئی تھی۔
یہ منصوبہ جنوری 1995 میں اس وقت بے نقاب ہوا جب اس اپارٹمنٹ میں حادثاتی طور پر آگ لگ گئی جہاں بم بنانے کا کام جاری تھا۔ پولیس کو وہاں سے بم بنانے کا سامان اور ایک ایسا کمپیوٹر ملا جس میں سازش سے متعلق اہم معلومات موجود تھیں۔ خالد شیخ محمد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ رمزی یوسف پاکستان پہنچ گیا۔ بعدازاں رمزی یوسف کو کراچی سے گرفتار کرکے امریکہ منتقل کر دیا گیا۔
خالد شیخ محمد کے لیے اگلا اور سب سے اہم مرحلہ اسامہ بن لادن سے دوبارہ ملاقات تھا۔ 1996 کے اواخر میں القاعدہ کے فوجی کمانڈر محمد عاطف نے تورا بورا میں خالد اور اسامہ بن لادن کی ملاقات کا انتظام کیا۔ خالد نے اسامہ کے سامنے ایک ایسا منصوبہ رکھا جس نے بعد میں دنیا کی تاریخ بدل دی۔ اس کا تصور تھا کہ امریکی مسافر طیاروں کو ہائی جیک کرکے انہیں امریکہ کی اہم عمارتوں سے ٹکرا دیا جائے۔
ابتدائی منصوبہ موجودہ 9/11 حملے سے بھی کہیں زیادہ بڑا تھا۔ اس میں متعدد طیارے ہائی جیک کرنے اور امریکی اہم عمارتوں کو نشانہ بنانے کا تصور شامل تھا۔ اسامہ بن لادن نے منصوبے کو فوراً عملی شکل نہیں دی، لیکن اسے مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا۔ تقریباً دو سال بعد اسامہ کی جانب سے خالد کو پیغام ملا کہ منصوبہ پسند ہے لیکن اسے محدود اور قابلِ عمل بنایا جائے۔ یوں دس طیاروں کے تصور کو کم کرکے چار یا پانچ طیاروں تک لایا گیا اور مخصوص اہداف کا انتخاب کیا گیا۔
اسی مرحلے پر ان افراد کا انتخاب شروع ہوا جنہیں بعد میں 9/11 کے ہائی جیکرز کے طور پر شناخت کیا گیا۔ جرمنی کے شہر ہیمبرگ سے آنے والے افراد میں محمد عطا سمیت چند ایسے افراد شامل تھے جنہیں مغربی معاشرے میں رہنے کا تجربہ تھا۔ انہیں افغانستان میں تربیت کے بعد کراچی بھیجا گیا اور بعدازاں وہ امریکہ پہنچے جہاں انہوں نے طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کی۔
خالد شیخ محمد نے مبینہ طور پر پورے آپریشن کو انتہائی رازداری کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ کراچی میں رہتا رہا، القاعدہ کے دیگر ارکان سے اپنے روابط محدود رکھتا اور مختلف ذرائع سے رابطہ کرتا تھا۔ منصوبے کے لیے رقم کی ترسیل بھی کی گئی اور حملہ آوروں کی ضروریات پوری کی گئیں۔ اگست 2001 میں اسے بتایا گیا کہ محمد عطا نے حملے کے لیے 11 ستمبر کی تاریخ منتخب کر لی ہے۔ اور پھر وہ دن آیا جس نے دنیا بدل دی۔11 ستمبر 2001 کو جب چار طیارے ہائی جیک ہوئے اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹوئن ٹاورز، پینٹاگون اور ایک اور ہدف کو نشانہ بنایا گیا تو خالد شیخ محمد کراچی میں موجود تھا۔ بی بی سی کے مطابق بعض کتابوں میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے کراچی کے ایک انٹرنیٹ کیفے میں بیٹھ کر طیاروں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکراتے ہوئے دیکھا۔ یوں جس منصوبے پر اس نے برسوں کام کیا تھا، وہ اس کی آنکھوں کے سامنے حقیقت بن رہا تھا۔
حملوں کے بعد خالد شیخ محمد امریکی انٹیلیجنس کے لیے انتہائی مطلوب شخص بن گیا۔ تاہم وہ تقریباً ڈیڑھ سال تک گرفتاری سے بچا رہا۔ بالآخر یکم مارچ 2003 کو ایک مخبر کی اطلاع پر راولپنڈی کے ایک گھر سے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری نے القاعدہ کے خلاف امریکی کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت پیدا کی، لیکن اسی کے ساتھ ایک ایسا باب بھی شروع ہوا جو آج تک خالد شیخ محمد کے مقدمے کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھائے ہوئے ہے۔
گرفتاری کے بعد خالد شیخ محمد کو فوری طور پر امریکی تحویل میں لے لیا گیا۔ اسے افغانستان منتقل کیا گیا اور بعدازاں سی آئی اے کے خفیہ حراستی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ اس سے پوچھ گچھ کے دوران انتہائی سخت طریقے استعمال کیے گئے۔ بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے مارا پیٹا گیا، دیوار سے ٹکرایا گیا، قید کے دوران مختلف جسمانی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے زیادہ مشہور معاملہ واٹر بورڈنگ کا تھا۔
خالد شیخ محمد کے بارے میں یہ رپورٹ کیا گیا کہ اسے کم از کم 183 مرتبہ واٹر بورڈ کیا گیا۔ واٹر بورڈنگ میں قیدی کو اس کیفیت سے دوچار کیا جاتا ہے کہ اسے ڈوبنے یا دم گھٹنے کا احساس ہوتا ہے۔ اس طریقۂ تفتیش پر انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین کی جانب سے شدید اعتراضات کیے گئے۔ خالد کے اپنے بیان کے مطابق اسے شدید مارپیٹ، برہنہ کیے جانے اور جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
بعدازاں اسے 2006 میں گوانتانامو بے منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ آج تک زیر حراست ہے۔ لیکن یہاں سے معاملہ محض دہشت گردی کے الزامات کا نہیں رہا بلکہ قانونی ثبوت کی حیثیت کا بھی بن گیا۔ امریکی عدالتوں کے سامنے بنیادی سوال یہ پیدا ہوا کہ ایسے اعترافات اور معلومات کو کس حد تک قابلِ قبول قرار دیا جا سکتا ہے جو ایسے حالات میں حاصل کیے گئے ہوں جہاں ملزم کو شدید تشدد اور دباؤ کا سامنا رہا ہو۔
یہی مسئلہ خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ امریکہ کے پاس اس کے خلاف وسیع معلومات اور انٹیلیجنس مواد موجود ہونے کے باوجود عدالت میں قابل قبول ثبوت پیش کرنا ایک الگ قانونی چیلنج بن گیا۔ اگر کسی اعتراف کو تشدد کا نتیجہ قرار دیا جائے تو دفاع اسے عدالت سے خارج کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 9/11 جیسے تاریخی حملے کے باوجود اس مقدمے کو مکمل ہونے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی۔
2024 میں اس مقدمے کو ایک ممکنہ معاہدے کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان اعتراف جرم کے بدلے سزائے موت سے بچنے اور عمر قید قبول کرنے پر آمادہ ہوئے، لیکن یہ معاہدہ شدید سیاسی اور قانونی تنازع کا شکار ہو گیا۔ متاثرین کے بعض خاندانوں نے بھی اس پر اعتراض کیا اور امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے معاہدہ منسوخ کر دیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ 9/11 کے 25 سال مکمل ہونے کے باوجود خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمہ اب بھی اپنے حتمی فیصلے سے دور ہے۔ ایک ایسا شخص جس پر امریکہ کے خلاف تاریخ کے سب سے تباہ کن دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کا الزام ہے، آج بھی گوانتانامو میں قید ہے، مگر اسے حتمی سزا نہیں سنائی جا سکی۔
خالد شیخ محمد کی کہانی دراصل 9/11 کے سانحے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ یہ افغانستان کی جنگ، پاکستان میں شدت پسند نیٹ ورکس، القاعدہ کے عالمی پھیلاؤ، امریکہ کی مشرق وسطیٰ پالیسی، خفیہ حراستی مراکز اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اختیار کیے گئے غیر معمولی تفتیشی طریقوں کی ایک ایسی زنجیر ہے جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر امریکہ کے پاس خالد شیخ محمد کے خلاف اتنا مواد موجود ہے تو پھر اسے سزا کیوں نہیں دی جا سکی؟ جواب یہ ہے کہ مقدمہ صرف الزام ثابت کرنے کا نام نہیں۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ ثبوت کس طریقے سے حاصل کیے گئے، اعتراف کس ماحول میں ہوا اور کیا ملزم کو منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق دیا گیا۔ یہی قانونی اصول آج خالد شیخ محمد کے مقدمے کو برسوں سے روکے ہوئے ہیں۔
9/11 کے 25 سال بعد اس داستان کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ اس حملے کے متاثرین کے خاندان آج بھی حتمی انصاف کے منتظر ہیں۔ اسامہ بن لادن مارا جا چکا ہے، القاعدہ کی اصل قیادت کا بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے، دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف قوانین تبدیل ہو چکے ہیں، لیکن 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز کے خلاف عدالتی باب ابھی مکمل نہیں ہوا۔
یوں خالد شیخ محمد کی داستان ایک ایسے شخص کی کہانی بن چکی ہے جس نے مبینہ طور پر امریکہ کے خلاف سب سے بڑا دہشت گرد منصوبہ تیار کیا، کراچی سے اس کے آخری مراحل کی نگرانی کی، راولپنڈی سے گرفتار ہوا، برسوں خفیہ حراست میں رہا، شدید تفتیش کا سامنا کیا اور بالآخر گوانتانامو پہنچا؛ مگر ایک چوتھائی صدی گزرنے کے باوجود اس مقدمے کا آخری فیصلہ ابھی تاریخ کے صفحات میں درج ہونا باقی ہے۔
