پی ٹی آئی رہنماؤں نے پشاور میں ڈیرے کیوں ڈال لئے؟

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں ممکنہ گرفتاریوں کا خوف شدت اختیار کرگیا ہے اور پارٹی کے متعدد اہم رہنماؤں نے اسلام آباد اور پنجاب کے بجائے خیبر پختونخوا، خصوصاً پشاور، میں قیام کو ترجیح دینا شروع کردیا ہے۔ حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد مختلف مقدمات میں مطلوب یا عدالتی وارنٹس کا سامنا کرنے والے دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی تیز ہونے کے امکانات نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو نئی حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کو اس وقت قیادت کے لیے نسبتاً محفوظ ترین سیاسی پناہ گاہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی کے اہم رہنما گرفتاریوں سے بچنے کے لیے پشاور میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ پارٹی قیادت کو خدشہ ہے کہ ڈی چوک احتجاج، جوڈیشل کمپلیکس اور دیگر مقدمات میں پہلے سے جاری عدالتی وارنٹس پر عمل درآمد تیز کیا جاسکتا ہے۔ اسی پس منظر میں مرکزی قیادت کی نقل و حرکت محدود کرنے اور اہم رہنماؤں کو خیبر پختونخوا میں رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے تاکہ احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی پارٹی کی قیادت کو گرفتاریوں کے ذریعے غیر مؤثر نہ بنایا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد مختلف مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف پہلے سے جاری وارنٹس پر عمل درآمد تیز کیے جانے کا امکان ہے۔ نومبر 2024 کے ڈی چوک احتجاج سمیت مختلف مقدمات میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے والے رہنماؤں کی گرفتاریوں کو بھی 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ حکام کی جانب سے ان کارروائیوں کو قانونی اور عدالتی معاملات قرار دیا جا رہا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق جنید اکبر اور عبدالغنی کے خلاف ڈی چوک احتجاج سے متعلق مقدمات میں جاری وارنٹس پر عمل درآمد کا امکان ہے، جبکہ مراد سعید اور شبلی فراز کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس سے متعلق مقدمات میں جاری عدالتی وارنٹس بھی زیرِ عمل لائے جاسکتے ہیں۔ مراد سعید پہلے ہی طویل عرصے سے روپوش ہیں۔ زرتاج گل، ڈاکٹر امجد علی اور مینا خان آفریدی بھی مختلف مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی رہنماؤں میں شامل ہیں، جبکہ علی امین گنڈاپور کے خلاف فیض آباد احتجاج سے متعلق قانونی کارروائی بھی آگے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ممکنہ گرفتاریاں کسی نئے مقدمے کے بجائے پہلے سے درج ایف آئی آرز اور ماضی میں جاری کیے گئے عدالتی وارنٹس کی بنیاد پر ہوسکتی ہیں۔ اسلام آباد پولیس کو مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی رہنماؤں کے عدالتی وارنٹس پر قانون کے مطابق عمل درآمد کی ہدایات دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یہی صورتحال تحریک انصاف کی قیادت کے لیے سب سے بڑا خدشہ بن چکی ہے، کیونکہ پارٹی کو اندیشہ ہے کہ اگر مرکزی قیادت کے مزید اہم چہروں کو گرفتار کرلیا گیا تو 27 ستمبر کی احتجاجی سرگرمی کو منظم کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اسی خطرے کے پیش نظر تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے فی الحال خیبر پختونخوا کو اپنا مرکز بنا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں نے 27 ستمبر تک پشاور میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں سے تعلق رکھنے والے مزید سینئر رہنما بھی گرفتاری کے خدشے کے باعث خیبر پختونخوا کا رخ کرسکتے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ تاثر موجود ہے کہ صوبائی حکومت کی موجودگی میں قیادت کو سیاسی اور انتظامی سطح پر نسبتاً زیادہ تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم اجلاس پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت آن لائن ہوا، جس میں مرکزی اور صوبائی قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ، ممکنہ گرفتاریوں، عدالتی احکامات اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ پارٹی قیادت نے واضح کیا کہ احتجاجی پروگرام کو ختم کرنے کے بجائے مختلف متبادل راستوں اور منصوبوں پر بھی غور کیا جائے گا تاکہ کسی ممکنہ قانونی یا انتظامی رکاوٹ کی صورت میں تحریک کو جاری رکھا جاسکے۔

ذرائع کے مطابق کور کمیٹی کے اجلاس میں اس امکان پر بھی غور کیا گیا کہ اگر اسلام آباد میں احتجاج کے راستے محدود کیے گئے تو ملک کے بڑے شہروں میں بیک وقت احتجاجی سرگرمیاں شروع کی جاسکتی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت کو مختلف مقامات سے سیاسی طور پر دباؤ میں لانے سمیت کئی آپشنز زیر غور ہیں، تاہم حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایات اور اس وقت کی سیاسی و قانونی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔

پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اجلاس میں اس خدشے پر بھی بات کی کہ اگر ہائی کورٹ کی جانب سے لانگ مارچ روکنے کے احکامات جاری کیے گئے یا پارٹی کی فعال قیادت میں مزید گرفتاریاں ہوئیں تو تحریک انصاف کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک نئے بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی میں اس وقت محدود تعداد میں ایسے رہنما موجود ہیں جو کھل کر تحریک انصاف کا مؤقف پیش کر رہے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے بھی اہم افراد گرفتار ہوگئے تو تنظیمی اور سیاسی خلا مزید گہرا ہوسکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے لیے اصل چیلنج اب صرف یہ نہیں کہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ پارٹی اپنی قیادت کو ممکنہ گرفتاریوں سے بچاتے ہوئے احتجاجی تحریک کو کس طرح منظم رکھتی ہے۔ ایک طرف عدالتوں کے احکامات اور پہلے سے موجود مقدمات کا قانونی دباؤ ہے، دوسری طرف پارٹی قیادت پر کارکنوں اور حامیوں کو متحرک رکھنے کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا کا سیاسی اور انتظامی ماحول تحریک انصاف کے لیے وقتی طور پر ایک اہم سہارا ضرور بن گیا ہے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ پشاور میں قیادت کا جمع ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پارٹی 27 ستمبر سے پہلے ممکنہ گرفتاریوں کو ایک سنجیدہ سیاسی خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

اگر آنے والے دنوں میں مزید رہنماؤں کے خلاف عدالتی وارنٹس پر عمل درآمد شروع ہوتا ہے تو یہ صورتحال تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی کو براہِ راست متاثر کرسکتی ہے۔ دوسری جانب اگر پارٹی قیادت گرفتاریوں سے بچنے میں کامیاب رہتی ہے اور متبادل احتجاجی منصوبوں کو عملی شکل دیتی ہے تو 27 ستمبر کا احتجاج حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشمکش میں ایک اہم مرحلہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یوں پشاور میں پی ٹی آئی قیادت کے ڈیرے محض گرفتاری سے بچنے کی حکمت عملی نہیں بلکہ آنے والے بڑے سیاسی معرکے سے قبل پارٹی کی تنظیمی بقا اور احتجاجی منصوبہ بندی کا بھی حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

Back to top button