9/11 کے 25 سال:حملوں کے ماسٹر مائنڈ کو کس نے سزا سے بچا رکھا ہے؟

گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کو 25 سال گزر چکے ہیں۔ چار مسافر طیارے ہائی جیک ہوئے، تقریباً تین ہزار افراد مارے گئے، امریکہ کی سلامتی کی پالیسی ہمیشہ کے لیے بدل گئی اور دنیا نے دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ دیکھی جس کے اثرات آج بھی عالمی سیاست پر موجود ہیں۔ لیکن اس ہولناک واقعے کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کے خلاف مقدمہ آج تک اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔ اسامہ بن لادن کو امریکی آپریشن میں مارے ہوئے بھی 15 برس گزر چکے ہیں، مگر 9/11 کے مرکزی ملزم کے خلاف سزا کا فیصلہ آج بھی زیر التوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟

خالد شیخ محمد کا نام 9/11 کی سازش کے ساتھ سب سے زیادہ نمایاں طور پر جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ اس کی قومیت کویتی تھی اور اس کی پیدائش کے بارے میں بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم اس کا خاندانی تعلق بلوچستان سے بتایا جاتا ہے۔ اس کا والد 1950 کی دہائی میں بطور امام کویت منتقل ہوا تھا۔ خالد شیخ محمد نے بچپن کویت میں گزارا اور بعدازاں امریکہ میں مکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن اس کی زندگی کا رخ اس وقت بدل گیا جب وہ افغانستان پہنچا اور سوویت افواج کے خلاف جنگ کے ماحول میں عسکریت پسند حلقوں سے وابستہ ہوا۔

افغانستان میں اس نے عبداللہ عزام کے کیمپ میں تربیت حاصل کی اور اسی دور میں اس کی ملاقات اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور بعد میں انڈونیشیا میں سرگرم عسکریت پسند تنظیم جماعت اسلامیہ کے رہنما رضوان اسام المعروف حمبلی سمیت کئی اہم شخصیات سے ہوئی۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد وہ پشاور پہنچا جہاں اس نے افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم ایک تعلیمی ادارے میں انجینیئرنگ بھی پڑھائی۔ بظاہر ایک انجینیئر کی حیثیت سے زندگی گزارنے والا یہ شخص دراصل عالمی سطح پر بڑے دہشت گرد منصوبوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔

1992 میں خالد شیخ محمد نے اپنے بھانجے رمزی یوسف کو رقم فراہم کی، جس کا تعلق 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے بم حملے سے جوڑا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا ابتدائی اشارہ تھا کہ خالد شیخ محمد کی سرگرمیاں محض افغانستان یا پاکستان تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا رخ براہ راست امریکی اہداف کی طرف ہو چکا تھا۔

اس کے بعد اس نے رمزی یوسف کے ساتھ مل کر فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ’بوجنکا منصوبے‘ پر کام کیا۔ اس منصوبے کے تحت متعدد امریکی مسافر طیاروں کو بم دھماکوں سے تباہ کرنے کی سازش کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ امریکی صدر بل کلنٹن اور پوپ جان پال دوم کو بھی نشانہ بنانے کے منصوبے پر غور کیا گیا۔ تاہم بم بنانے کے دوران ایک حادثاتی دھماکے نے پوری سازش بے نقاب کر دی۔ رمزی یوسف پاکستان فرار ہو گیا جبکہ خالد شیخ محمد بھی گرفتاری سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔

امریکی حکام نے 1996 میں خالد شیخ محمد کے خلاف فرد جرم عائد کی اور اسے گرفتار کرنے کی کوششیں شروع کر دیں، لیکن وہ مسلسل ملک بدلتا رہا۔ بالآخر وہ افغانستان پہنچا جہاں اس کی ملاقات اسامہ بن لادن سے ہوئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں 9/11 کی تاریخ نے ایک خطرناک رخ اختیار کیا۔ خالد شیخ محمد نے اسامہ بن لادن کے سامنے امریکہ پر ایک بڑے حملے کا تصور پیش کیا۔ اس کا ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ طیاروں کو ہائی جیک کرکے انہیں امریکی اہم عمارتوں سے ٹکرایا جائے۔ ابتدا میں اسامہ بن لادن نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا، لیکن بعد میں خالد شیخ محمد کے القاعدہ میں شامل ہونے اور منصوبے کو مالی و تنظیمی مدد فراہم کرنے پر اتفاق ہوا۔

1998 اور 1999 کے دوران اس منصوبے نے عملی شکل اختیار کرنا شروع کی اور 1999 میں خالد شیخ محمد قندھار منتقل ہو گیا۔ وہاں اس نے حملے کی منصوبہ بندی پر باقاعدہ کام شروع کیا۔ بعدازاں اسے القاعدہ کی میڈیا کمیٹی کی ذمہ داری بھی دی گئی اور اسی دوران اس نے پاکستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کیے۔ 11 ستمبر 2001 کو جب امریکہ کے خلاف وہ خوفناک حملہ ہوا تو خالد شیخ محمد پاکستان کے شہر کراچی میں موجود تھا اور ایک انٹرنیٹ کیفے سے حملے کی پیش رفت دیکھ رہا تھا۔

حملوں کے بعد بھی اس کی سرگرمیاں نہیں رکیں۔ امریکی حکام کے مطابق وہ مزید حملوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا، القاعدہ کے بیرونی آپریشنز سے متعلق ذمہ داریاں سنبھالتا رہا اور مختلف دہشت گرد منصوبوں کی معاونت کرتا رہا۔ اس کا نام صحافی ڈینیل پرل کے قتل سے بھی جوڑا گیا اور امریکی تفتیش کاروں کے سامنے اس نے اس قتل میں براہ راست ملوث ہونے کا دعویٰ کیا۔

لیکن خالد شیخ محمد تک پہنچنا امریکی اداروں کے لیے آسان نہیں تھا۔ کراچی میں اس کے رابطے، محفوظ ٹھکانے اور القاعدہ کے دیگر اہم ارکان سے تعلقات نے اسے ایک انتہائی اہم ہدف بنا دیا تھا۔ 2002 میں کراچی سے رمزی بن الشبا کی گرفتاری نے امریکی تفتیش کاروں کو القاعدہ کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔ اس کے بعد خالد شیخ محمد پر بھی گرفتاری کا دائرہ تنگ ہوتا گیا۔

بالآخر یکم مارچ 2003 کی رات راولپنڈی میں خالد شیخ محمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گرفتاری اس وقت ہوئی جب اس کے ساتھ موجود ایک ذریعے نے خفیہ طور پر حکام کو اس کے ٹھکانے کی اطلاع دی۔ کارروائی کے دوران اس کے قبضے سے اہم دستاویزات، القاعدہ کے ارکان سے متعلق معلومات اور اسامہ بن لادن سے وابستہ مواد بھی برآمد ہوا۔ امریکی حکام کو امید تھی کہ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد وہ جلد اسامہ بن لادن تک پہنچ جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

خالد شیخ محمد کو پہلے بگرام منتقل کیا گیا، پھر سی آئی اے کے خفیہ حراستی نظام کے تحت بیرون ملک ایک مرکز میں رکھا گیا اور بالآخر 2006 میں گوانتانامو بے منتقل کر دیا گیا۔ یہی مرحلہ آج اس مقدمے کی سب سے بڑی قانونی پیچیدگی بن چکا ہے۔ دورانِ حراست امریکی تفتیش کاروں نے واٹر بورڈنگ سمیت ایسے سخت تفتیشی طریقے استعمال کیے جنہیں بعد میں شدید قانونی اور اخلاقی اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہی وجہ ہے کہ خالد شیخ محمد کے مبینہ اعترافات کی قانونی حیثیت شروع ہی سے متنازع رہی۔ دفاع کا بنیادی مؤقف یہ رہا کہ اگر کسی ملزم سے تشدد یا غیر قانونی دباؤ کے ذریعے اعتراف حاصل کیا جائے تو اسے عدالت میں قابل قبول ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ یوں امریکہ کے لیے سب سے بڑے دہشت گرد مقدمات میں سے ایک کا سب سے اہم مسئلہ خود ثبوت بن گیا۔

2008 میں خالد شیخ محمد اور دیگر ملزمان کے خلاف گوانتانامو میں فوجی کمیشن کے ذریعے مقدمہ چلانے کی کوشش کی گئی، لیکن مقدمہ مسلسل قانونی اعتراضات، خفیہ حراستی پروگرام، تشدد کے الزامات اور اعترافات کی قابل قبولیت جیسے مسائل میں الجھتا چلا گیا۔ عدالت میں یہ سوال بار بار اٹھا کہ ایسے اعترافات، جو خفیہ حراستی مراکز میں شدید دباؤ کے دوران حاصل کیے گئے، کیا واقعی منصفانہ مقدمے میں استعمال کیے جا سکتے ہیں؟

یہ تنازع دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہو سکا۔ 2024 میں ایک معاہدے کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی جس کے تحت خالد شیخ محمد اور اس کے ساتھی جرم قبول کرنے کے بدلے سزائے موت سے بچ سکتے تھے اور انہیں عمر قید دی جا سکتی تھی، لیکن امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس معاہدے کو مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد معاملہ دوبارہ ٹرائل کی طرف چلا گیا۔

اب فوجی کمیشن نے مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو 27 سال ہونے کے قریب ہوں گے جب اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے کی توقع ہے۔ یوں تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ اپنے مرکزی ملزم کے خلاف قانونی فیصلے کا انتظار کرتا رہے گا۔

خالد شیخ محمد کی کہانی صرف ایک دہشت گرد کی گرفتاری یا ایک مقدمے کے تاخیر کا معاملہ نہیں بلکہ یہ امریکی نظام انصاف، خفیہ حراستی پروگراموں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار کا بھی امتحان ہے۔ امریکہ کے پاس خالد شیخ محمد کے خلاف وسیع شواہد موجود ہونے کے باوجود مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے کون سے شواہد عدالت میں قانونی طور پر قابل قبول ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومی سلامتی اور قانون کی حکمرانی ایک دوسرے کے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔

اس پورے معاملے کا ایک بڑا سبق یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف کسی بڑے ملزم کو گرفتار کر لینا کافی نہیں ہوتا۔ ایک مضبوط عدالتی نظام میں الزام، تفتیش، ثبوت اور سزا سب کو قانونی معیار پر پورا اترنا ہوتا ہے۔ اگر تفتیش کے دوران قانون کی حدود عبور کی جائیں تو برسوں بعد وہی اقدامات عدالت میں پورے مقدمے کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

11 ستمبر 2001 کو دنیا نے دہشت گردی کی ایک نئی شکل دیکھی تھی۔ اس حملے کے بعد افغانستان پر جنگ مسلط ہوئی، القاعدہ کے خلاف عالمی کارروائیاں ہوئیں، گوانتانامو وجود میں آیا اور دنیا بھر میں سکیورٹی قوانین تبدیل ہوئے۔ لیکن 25 سال بعد بھی اس سانحے کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز کے خلاف فیصلہ نہ آنا اس جنگ کے ایک بڑے قانونی تضاد کو سامنے لاتا ہے: ایک طرف دنیا کا سب سے طاقتور ملک اپنے سب سے بڑے دہشت گرد مقدمے میں مکمل انصاف چاہتا ہے، دوسری طرف اسی مقدمے میں تفتیش کے دوران اختیار کیے گئے طریقوں نے اس انصاف کے راستے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یوں خالد شیخ محمد آج بھی گوانتانامو میں موجود ہے، اسامہ بن لادن دنیا سے جا چکا ہے، 9/11 کے ہزاروں متاثرین کی یادیں آج بھی زندہ ہیں، لیکن اس سانحے کا قانونی باب ابھی مکمل نہیں ہوا۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ خالد شیخ محمد پر کیا الزام ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا امریکی عدالت ایسا قابلِ قبول ثبوت پیش کر سکے گی جس کی بنیاد پر 9/11 کے مبینہ مرکزی منصوبہ ساز کو قانون کے مطابق سزا سنائی جا سکے؟ 25 سال بعد بھی اس سوال کا حتمی جواب باقی ہے۔

Back to top button