الیکشن کمیشن نے اچانک عام انتخابات کی تیاریاں کیوں شروع کر دیں؟

ملکی سیاست میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ممکنہ آئندہ عام انتخابات کیلئے معمول سے خاصا پہلے انتخابی تیاریوں کا عمل شروع کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں انتخابی عملے کا ڈیٹا بینک اپ ڈیٹ کرنے اور پولنگ اسٹیشنز کی موجودہ فہرستوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی آئندہ انتخابات سے متعلق قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنرز کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے ملک بھر میں انتخابی افسران اور عملے کا تازہ ترین ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ غیر معمولی طور پر دو سال قبل انتخابی عملے کے ڈیٹا بینک کو اپ ڈیٹ کرنے کی یہ سرگرمی اس مقصد کیلئے شروع کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں انتخابی عمل کے دوران درکار عملہ اور انتظامی وسائل بروقت دستیاب ہوں اور الیکشن کمیشن کسی بھی انتخابی مرحلے میں تاخیر سے بچ سکے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبائی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام اضلاع میں موجود سرکاری محکموں میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ اس سلسلے میں تمام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو ڈیٹا بینک مکمل کرنے کیلئے 10 روز کی مہلت دی گئی ہے اور انہیں مقررہ مدت میں معلومات مکمل کرکے الیکشن کمیشن کو تصدیق بھیجنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانے والا انتخابی عملے کا ڈیٹا بینک آئندہ انتخابات کے دوران بروقت انتظامات اور انتخابی ذمہ داریوں کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت انتخابی ڈیوٹی انجام دینے کے اہل افسران و اہلکاروں کا ریکارڈ منظم کیا جائے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر مختلف اضلاع میں انتخابی عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامی امور کو بہتر انداز میں مکمل کیا جاسکے۔
الیکشن کمیشن نے صرف انتخابی عملے کے ڈیٹا تک ہی تیاریوں کو محدود نہیں رکھا بلکہ ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز کی فہرست بھی اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چاروں صوبوں کے تمام اضلاع میں موجودہ پولنگ اسٹیشنز کی تصدیق اور ان کی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔
ضلعی الیکشن کمشنرز کو نئے پولنگ اسٹیشنز کیلئے موزوں عمارتوں کی نشاندہی کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد میں اضافے کے باعث بعض علاقوں میں اضافی پولنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، جس کیلئے پہلے ہی ممکنہ عمارتوں اور مقامات کی نشاندہی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے تمام اضلاع میں موجودہ پولنگ اسٹیشنز کی فہرست کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے پولنگ اسٹیشنز کیلئے سرکاری اور دیگر موزوں عمارتوں کی نشاندہی کی جائے۔ اس عمل کا مقصد مستقبل کے انتخابی مرحلے میں ووٹرز کیلئے مناسب سہولیات اور پولنگ کے انتظامات کو بہتر بنانا بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
انتخابی عملے کے ڈیٹا بینک اور پولنگ اسٹیشنز کی فہرستوں کو بروقت اپ ڈیٹ کرنے کی یہ سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی سیاست پہلے ہی سیاسی کشیدگی اور آئندہ کے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیوں کی زد میں ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے ان اقدامات کا آغاز بذاتِ خود عام انتخابات کے جلد انعقاد کا اعلان نہیں، بلکہ انتخابی ادارے کی انتظامی اور پیشگی تیاریوں کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں البتہ الیکشن کمیشن کے معمول سے پہلے شروع کیے گئے ان اقدامات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ انتخابی عملے کا ڈیٹا، پولنگ اسٹیشنز کی تصدیق اور نئے پولنگ اسٹیشنز کیلئے عمارتوں کی نشاندہی ایسے بنیادی انتظامی مراحل ہیں جو کسی بھی بڑے انتخابی عمل کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں گداگر بچے جنسی تشدد اور نشے کا شکار کیوں ہونے لگے؟
الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ مدت میں ڈیٹا مکمل کرنے کی ہدایات کے بعد اب ضلعی سطح پر انتخابی افسران کی سرگرمیاں بڑھنے کا امکان ہے۔ آنے والے دنوں میں مکمل ہونے والے ڈیٹا بینک اور پولنگ اسٹیشنز کی نظرثانی سے یہ بھی واضح ہوگا کہ ملک کے مختلف اضلاع میں انتخابی انتظامات کیلئے مزید کتنے وسائل اور مقامات درکار ہوں گے۔
یوں الیکشن کمیشن کی جانب سے دو سال قبل ہی انتخابی عملے اور پولنگ اسٹیشنز کی تیاری کا آغاز ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیشرفت ضرور ہے، تاہم اس اقدام کو فوری انتخابات کے حتمی فیصلے سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ حتمی انتخابی شیڈول اور انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ آئینی و قانونی تقاضوں اور متعلقہ حکام کے فیصلوں کے مطابق ہی ہوگا۔
