ایران کی امریکا کو سخت وارننگ، آبنائے ہرمز مکمل بند کرنے کی دھمکی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی مبینہ طور پر ایران کی جانب سے داغے گئے چار ڈرونز کے جواب میں کی گئی، جبکہ امریکی فوج نے دعویٰ کیا کہ تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔امریکی حکام کا مزید کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی جانب آنے والے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو بھی روک لیا گیا اور اس دوران کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسیوں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کو خبردار کرنے کیلئے وارننگ فائر کیے گئے تھے۔پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ چار ایسے آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی جو مبینہ طور پر اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سات میزائل داغے گئے، جن میں سے چھ کو راستے میں ہی ناکام بنا دیا گیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی بندش عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

Back to top button