آزادکشمیر میں ’جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ پر پابندی کیوں لگائی گئی؟

آزاد کشمیر میں ایک اہم اور متنازع سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حکومت نے عوامی حقوق کی تحریک چلانے والے پلیٹ فارم "جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کو دہشت گردی اور ریاست میں انتشار پھیلانے کے الزامات کے تحت کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوامی ایکشن کمیٹی 9 جون کو بڑے احتجاج اور اسمبلی کے سامنے دھرنے کی تیاری کر رہی تھی، جبکہ چند ہی ہفتوں بعد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات بھی منعقد ہونے جا رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کی سیاست ایک نئے اور حساس موڑ پر داخل ہو گئی ہے۔ حکومت نے "جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی” کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیتے ہوئے اس پر دہشت گردی، عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام "آزاد جموں و کشمیر اینٹی ٹیررازم ایکٹ 2014” کی دفعہ 12 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق کسی بھی تنظیم کو دہشت گردی یا انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ نوٹیفکیشن میں الزام لگایا گیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی ریاست میں انارکی، منافرت اور عدم استحکام پیدا کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔

whatsapp image 2026 06 05 at 11.24.31 pm

خیال رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ تین برسوں سے عوامی حقوق، مہنگی بجلی، آٹے کی قیمتوں، ٹیکسوں اور دیگر عوامی مسائل کے خلاف مسلسل احتجاجی تحریک چلا رہی تھی۔ گزشتہ سال اسی تحریک کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے جن میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا تھا۔ بعد ازاں وفاقی حکومت کی مداخلت سے مذاکرات ہوئے اور کئی مطالبات تسلیم کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا تھا۔

تاہم عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔ اسی پس منظر میں تنظیم نے 9 جون کو مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی کے سامنے بڑے احتجاج اور دھرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی اعلیٰ سطحی مذاکراتی کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کئی گھنٹے طویل مذاکرات بھی ہوئے، لیکن کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔

مبصرین کے مطابق تنازع کا ایک بڑا محور قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں بھی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ حکومت اس معاملے پر عدالتی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر چکی ہے۔ یہی مسئلہ حالیہ سیاسی کشیدگی کا ایک اہم سبب بھی سمجھا جا رہا ہے۔

screenshot 2026 06 06 100306 0

تاہم اب حکومت کی جانب سے عائد پابندی کے فوراً بعد خطے میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں جبکہ موبائل فون سروس بھی جزوی طور پر متاثر رہی۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر ان گرفتاریوں کی مکمل تصدیق نہیں کی گئی۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب راولاکوٹ کے علاقے کھائی گلہ میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق اس واقعے میں ان کے رہنما عمر نذیر زخمی جبکہ ان کے ساتھی شاہ زیب حبیب جان کی بازی ہار گئے۔ دوسری جانب پولیس کا مؤقف ہے کہ ایک مشتبہ گاڑی کو روکنے کی کوشش کے دوران گاڑی میں موجود مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے بھی کارروائی کی اور حملہ آور فرار ہو گئے۔

whatsapp image 2026 06 06 at 02.09.14

سیاسی مبصرین کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا فیصلہ آزاد کشمیر کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایک جانب حکومت اسے ریاستی رٹ کے قیام اور امن و امان کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین اسے ایک عوامی احتجاجی تحریک کے خلاف سخت ترین اقدام قرار دے رہے ہیں۔ ایسے میں جب 27 جولائی کو قانون ساز اسمبلی کے انتخابات بھی ہونے جا رہے ہیں، یہ معاملہ انتخابی ماحول اور سیاسی صف بندیوں پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا پھر مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نکالا جاتا ہے۔

Back to top button