غیر ملکی سازش، پاکستانی صحافی کو خریدنے کی کوشش بے نقاب

پاکستان میں اطلاعاتی جنگ اور بیانیے کی سیاست کے تناظر میں ایک نئی مبینہ پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک غیرملکی نیٹ ورک نے پاکستانی صحافی کو مالی مراعات، بیرونِ ملک ملازمت اور مستقبل کی ضمانتوں کا لالچ دے کر بیرونِ ملک تیار کردہ سیاسی مضامین شائع کرانے اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق آٹھ ماہ پر محیط تحقیقات میں واٹس ایپ اور فیس بک پر ہونے والی گفتگو، ریکارڈ شدہ کالز، مالی لین دین اور دستاویزات کی بنیاد پر اس مبینہ نیٹ ورک کے طریقۂ کار کو ریکارڈ کیا گیا، جبکہ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔
پاکستان میں میڈیا، قومی سلامتی اور اطلاعاتی جنگ سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک سے سرگرم ایک نیٹ ورک نے ایک پاکستانی صحافی کو مالی فوائد، بیرونِ ملک ملازمت اور دیگر مراعات کی پیشکش کر کے مخصوص سیاسی بیانیہ فروغ دینے اور غیر شائع شدہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقات آٹھ ماہ تک جاری رہیں، جن کے دوران مبینہ رابطوں، واٹس ایپ اور فیس بک پر ہونے والی گفتگو، ریکارڈ شدہ فون کالز، مالی لین دین اور مضامین کے مسودوں کو دستاویزی شکل دی گئی۔ تحقیقات کے مطابق جب صحافی نے ممکنہ غیرملکی تعلقات پر سوالات اٹھائے تو مبینہ طور پر اسے زیادہ معاوضہ، بیرونِ ملک روزگار اور کسی بھی ممکنہ مشکل کی صورت میں اہلِ خانہ سمیت بیرونِ ملک منتقل کرنے جیسی پیشکشیں بھی کی گئیں۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ رابطہ کرنے والے افراد میں سے ایک نے پیگاسس اسپائی ویئر سے متعلق واقعے میں محدود کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
تحقیقات کے مطابق پہلا رابطہ نومبر 2025 میں فیس بک کے ذریعے ہوا، جہاں ایک خاتون نے خود کو دبئی میں قائم ایک پبلک ریلیشنز کمپنی کی نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے ایسے صحافیوں کی تلاش کا دعویٰ کیا جو مختلف ممالک میں رائے عامہ پر مبنی مضامین شائع کرانے میں معاونت کر سکیں۔ ابتدا میں پیشہ ورانہ معلومات اور میڈیا روابط کے بارے میں سوالات کیے گئے، تاہم بعد ازاں اصل مقصد سامنے آیا۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر بتایا گیا کہ بیرونِ ملک تیار کردہ مضامین پاکستان کے مرکزی اخبارات میں شائع کرانے ہوں گے، جبکہ صحافی سے نہ تو تحقیق اور نہ ہی مواد کی تصدیق کا تقاضا کیا جائے گا، بلکہ صرف اشاعت کا انتظام مطلوب ہوگا۔ ان مضامین کے موضوعات میں پاکستان کی عسکری قیادت، معیشت، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، پاک۔چین تعلقات، افغانستان اور بلوچستان جیسے حساس معاملات شامل تھے۔
تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر ایک مضمون کی اشاعت کے لیے ستر ہزار روپے کی پیشکش کی گئی، جن میں سے پینتیس ہزار روپے پیشگی دینے کی بات کی گئی۔ ادائیگی کے لیے کرپٹو کرنسی استعمال کرنے پر زور دیا گیا، تاہم انکار کے بعد مبینہ طور پر رقم ایک ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے منتقل کی گئی۔ بعد ازاں مزید رقوم بھی بھیجی گئیں، جس سے موصول ہونے والی مجموعی رقم ایک لاکھ تین ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق بعد کے مراحل میں واٹس ایپ کے ذریعے اشاعت کے لیے تیار تین مضامین بھی بھیجے گئے، جن میں پاکستان کی عسکری قیادت، حکومتی معاشی پالیسی اور ایس آئی ایف سی پر تنقیدی مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔ ایک مضمون میں مبینہ طور پر مخصوص شخصیات کے نام شامل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی، جبکہ ہر ترمیم کے لیے نامعلوم کلائنٹ سے منظوری لینے کی شرط رکھی گئی۔
تحقیقات کے مطابق جب مضامین میں کیے گئے دعووں کے ثبوت طلب کیے گئے تو کسی مستند دستاویز کے بجائے صرف سوشل میڈیا پوسٹس اور بیرونِ ملک مقیم پاکستان مخالف عناصر کی آن لائن سرگرمیوں کا حوالہ دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال نے پورے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا۔
رپورٹ کے مطابق معاملے کی حساس نوعیت اور ممکنہ قومی سلامتی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ سرکاری اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا تاکہ اس مبینہ نیٹ ورک اور اس کے طریقۂ کار کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔
