پی ٹی آئی کی مجوزہ احتجاجی تحریک کی ناکامی یقینی کیوں؟

تحریک انصاف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کے اعلان نے ایک بار پھر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے، مگر سیاسی حلقوں میں اس تحریک کی کامیابی سے زیادہ اس کی سمت، قیادت اور حکمتِ عملی زیر بحث ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اسے پارٹی پالیسی سے الگ قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اسے عوامی اور خاندانی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے ہر قیمت پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا یہ تحریک ایک مؤثر سیاسی دباؤ میں تبدیل ہو سکے گی یا اندرونی اختلافات، غیر واضح حکمتِ عملی اور محدود سیاسی حمایت اس کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن جائیں گے۔

مبصرین کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والی تحریک نے پاکستان کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت واضح کر چکی ہے کہ عمران خان کی بہنوں کی سرگرمیوں کا پارٹی کی سرکاری حکمتِ عملی سے کوئی تعلق نہیں، لیکن دوسری جانب عمران خان کی بہنیں اس مؤقف پر قائم ہیں کہ وہ محض اپنے بھائی کی رہائی کے لیے میدان میں نکلی ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کو تیار ہیں۔ یہ صورت حال پی ٹی آئی کے اندر موجود حکمتِ عملی کے اختلافات کو بھی نمایاں کر رہی ہے۔ ایک طرف جماعت کی پارلیمانی قیادت مزاحمتی سیاست سے محتاط دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب کارکنوں کا ایک بڑا طبقہ زیادہ جارحانہ سیاسی حکمتِ عملی کا خواہاں نظر آتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تمام صورتحال میں خیبرپختونخوا کی سیاست خصوصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بظاہر عمران خان کی بہنوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو پارٹی کارکنوں کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس علی امین گنڈاپور تاحال کھل کر سامنے نہیں آئے، جس کے باعث سیاسی حلقوں کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ وہ آخرکار کس حکمتِ عملی کا انتخاب کرتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق پارٹی کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بیشتر ارکان بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی جماعت کے سیاسی مفاد میں نہیں، اسی لیے وہ محتاط طرزِ عمل اپنانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ادھر عمران خان کی بہنوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مرحلے پر بھرپور عوامی آواز نہ اٹھائی گئی تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی مزید مشکل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق وہ کسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہیں بلکہ صرف اپنے بھائی کی حمایت میں میدان میں نکلی ہیں، اور اگر اس راہ میں گرفتاری بھی پیش آئے تو اس کے لیے تیار ہیں۔

اسی دوران ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان پس پردہ رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم ان سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہو سکی۔ اس دوران اڈیالہ جیل سے بعض اپوزیشن رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے نامزد کیے جانے پر بھی پارٹی کے منتخب نمائندوں میں تحفظات پائے گئے، جس سے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہوئے۔

مبصرین کے بقول اگر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات سے شدید متاثر ہیں، جس کے باعث حکومت کے خلاف ناراضی ضرور موجود ہے، لیکن یہ ناراضی ابھی تک کسی منظم اور ملک گیر احتجاجی تحریک میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ ماضی میں اپوزیشن جماعتیں مشترکہ نکات پر متحد ہو کر حکومت پر دباؤ ڈالتی تھیں، مگر موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایسی ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔اگرچہ حکومت کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم فی الحال ایسی صورتحال بھی نظر نہیں آتی جس سے حکومت فوری سیاسی دباؤ میں آ جائے۔ البتہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اپنی صوبائی حکومت کی وجہ سے احتجاج منظم کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے، لیکن صرف ایک صوبے کی طاقت کسی ملک گیر سیاسی تحریک کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔اسی لیے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک کی کامیابی کا انحصار صرف عوامی جذبات پر نہیں بلکہ پارٹی کی داخلی یکجہتی، واضح حکمتِ عملی، مرکزی قیادت کے مشترکہ فیصلوں اور ملک گیر سیاسی حمایت پر بھی ہوگا۔ اگر یہ عناصر یکجا نہ ہو سکے تو یہ تحریک بھی ماضی کی کئی احتجاجی مہمات کی طرح محدود دائرے میں سمٹ سکتی ہے۔

Back to top button