6 دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں63 روپے اضافہ، عوام کی چیخیں نکل گئیں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کے نئے نظام نے عوام کو مہنگائی کے ایک اور شدید جھٹکے سے دوچار کر دیا ہے۔ صرف 6 روز کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی مجموعی قیمت میں 63 روپے سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مسلسل تیسرے روز بھی نرخ بڑھا دیے گئے۔ ڈیزل کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہونے سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس کے باعث مہنگائی کی نئی لہر سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کے نئے نظام کے تحت عوام کو مسلسل مہنگائی کے جھٹکوں کا سامنا ہے۔ صرف 6 روز کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 63 روپے 51 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عوام، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور کاروباری حلقوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ روز میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مجموعی طور پر 52 روپے 19 پیسے اضافہ ہوا، جبکہ صرف گزشتہ تین روز میں ڈیزل 20 روپے 69 پیسے مزید مہنگا ہو گیا۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 375 روپے 4 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

اسی عرصے میں پیٹرول کی قیمت بھی مسلسل اضافے کی زد میں رہی۔ گزشتہ تین روز کے دوران پیٹرول 11 روپے 32 پیسے مہنگا ہوا، جبکہ صرف ایک روز معمولی 35 پیسے کمی کی گئی۔ تازہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

اوگرا کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ نوٹیفکیشن کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مسلسل تیسرے روز بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ نئی قیمتوں کے تحت پیٹرول میں 6 روپے 39 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔

اس سے قبل بھی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد مختصر عرصے میں مجموعی اضافہ غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں مسلسل اضافے کے اثرات سب سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کرایوں، زرعی لاگت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر مرتب ہوں گے، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا شکار عوام پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آنے والے دنوں میں مزید اضافے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

Back to top button