بحیرۂ احمر میں بڑھتی کشیدگی،حوثیوں کی دھمکی پر پاکستان کیوں تپ گیا؟

ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے آبنائے باب المندب میں سعودی عرب کے خلاف سمندری پابندی کی دھمکی نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بعد اب بحیرۂ احمر کی اہم آبی گزرگاہ باب المندب بھی مشرقِ وسطیٰ کی نئی کشیدگی کا مرکز بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف سمندری پابندی کی دھمکی نے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ پاکستان کی توانائی، بحری تجارت اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھا دیے ہیں۔ پاکستان نے پہلی بار واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا ملکی بحری مفادات کے خلاف کسی بھی کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ممکن اقدام کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف آبنائے باب المندب میں سمندری پابندی کی دھمکی نے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی عملی طور پر متاثر ہونے کے بعد اب باب المندب پر بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں، جس کے باعث پاکستان سمیت کئی ممالک اپنی توانائی اور تجارتی سپلائی چین کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
پاکستان نے اس صورتحال پر غیرمعمولی ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی کے خلاف تصور کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے بحری مفادات کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات، بشمول قانون کے مطابق طاقت کے استعمال، کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اسلام آباد نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی تجارت، جہاز رانی کی آزادی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور قانونی تجارتی سرگرمیوں کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
دفاعی اور علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق اگر حوثی باب المندب میں حملوں یا رکاوٹوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں تو اس کے براہ راست اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی خام تیل کی درآمدات کا ایک اہم حصہ اسی بحری راستے سے گزرتا ہے، جبکہ یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں کے لیے پاکستانی تجارتی جہاز بھی اسی راہداری پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز متاثر ہونے کے بعد پاکستان نے تیل کی سپلائی کے لیے باب المندب اور فجیرہ کا متبادل راستہ اختیار کیا، لیکن اگر باب المندب بھی غیر محفوظ ہو گیا تو پاکستان کی تقریباً نصف خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل سمندری راستہ اختیار کرنا پڑے گا، جس سے ترسیل کا دورانیہ آٹھ دن سے بڑھ کر تقریباً پینتالیس دن تک جا سکتا ہے اور فریٹ، انشورنس اور درآمدی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان متبادل ذرائع سے خام تیل کی فراہمی پر بھی غور کر رہا ہے، جن میں نائجیریا، لیبیا اور امریکہ شامل ہیں، تاکہ کسی ممکنہ بحران کی صورت میں توانائی کی سپلائی برقرار رکھی جا سکے۔
علاقائی سلامتی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حوثیوں کی کارروائیاں بڑھتی ہیں تو پاکستان کو بحیرۂ احمر میں اپنی بحری موجودگی بڑھانا پڑ سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کار یہ امکان بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کے خلاف بڑے حملوں کی صورت میں پاکستان سعودی قیادت میں کسی ممکنہ دفاعی یا بحری تعاون کا حصہ بن سکتا ہے، تاہم ایسی پیش رفت پاکستان اور ایران کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تجارت کا بڑا حصہ اور دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تقریباً 12 فیصد خام تیل اور 8 فیصد مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ بھی متاثر ہوا تو نہ صرف عالمی توانائی منڈی میں مزید بے چینی پیدا ہوگی بلکہ پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک کو ایندھن کی قلت، مہنگائی اور سپلائی چین کے نئے بحران کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
