پنجاب میں لینڈ مافیا کے خلاف بڑا اقدام، پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ نافذ

پنجاب میں زمینوں اور جائیدادوں پر غیرقانونی قبضوں کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیاجبکہ صوبے کے 36 اضلاع میں خصوصی ٹربیونلز بھی قائم کر دئیے گئے ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ کے تحت 36 ایڈیشنل سیشن ججز کو خصوصی ٹربیونلز کے ججوں کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ متعلقہ ججز کی فہرست پنجاب حکومت کو بھی ارسال کر دی ہے۔اس کے ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا 575 مقدمات میں جاری حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے ان کیسز کو مزید کارروائی کیلئے متعلقہ ٹربیونلز کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
نئے قانون کے تحت ٹربیونلز کو وسیع اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں غیرقانونی قبضے واگزار کرانے کیلئے پولیس کی مدد حاصل کرنا بھی شامل ہے۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا سنائی جا سکے گی۔حکام کے مطابق ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں قائم کمیٹیوں نے زمینوں پر قبضوں سے متعلق سفارشات مرتب کر کے متعلقہ ٹربیونلز کو بھجوا دی ہیں تاکہ مقدمات پر تیزی سے کارروائی کی جا سکے۔
قانون کے مطابق اگر کسی جائیداد کا مقدمہ پہلے سے کسی عدالت میں زیر سماعت ہو تو فریقین میں سے کوئی بھی درخواست دے کر کیس کو کمیٹی یا ٹربیونل منتقل کرنے کی استدعا کر سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال کے خدشات پر حکمِ امتناعی جاری کیا تھا، تاہم بعد میں پنجاب حکومت نے قانون میں ضروری ترامیم کیں، جس کے بعد عدالت نے زیر التوا تمام حکمِ امتناعی ختم کر دیے۔حکومتی حلقوں کے مطابق نئے نظام کا مقصد قبضہ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی، جائیداد کے مالکان کے حقوق کا تحفظ اور مقدمات کے جلد فیصلے یقینی بنانا ہے۔
