امریکہ کی ایران پر نئی معاشی ضرب، 12 اداروں پر پابندیاں عائد

امریکہ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تہران سے منسلک 12 اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے مارشل آئی لینڈز، متحدہ عرب امارات اور چین میں قائم متعدد ایرانی کمپنیوں اور ان سے وابستہ نیٹ ورکس کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چھ ایل پی جی ٹینکرز بھی نئی پابندیوں کی زد میں آئے ہیں، جن پر ایران کے توانائی شعبے سے منسلک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کا ایل پی جی نیٹ ورک فرنٹ کمپنیوں کے ذریعے لاکھوں بیرل توانائی مصنوعات کی ترسیل اور ان کی اصل شناخت چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی کے دوران پاناما کے پرچم تلے چلنے والے چار ٹینکرز سمیت متعدد بحری جہازوں کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔امریکی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے مبینہ "شیڈو فلیٹ” اور "شیڈو بینکنگ نیٹ ورک” کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی تاکہ پابندیوں سے بچنے کے راستے بند کیے جا سکیں۔

مزید برآں واشنگٹن نے بعض ایرانی ایکسچینج ہاؤسز اور ان سے وابستہ شخصیات پر اربوں ڈالر کی مالی لین دین میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران کے توانائی اور مالیاتی نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھانا اور عالمی پابندیوں کے نفاذ کو مؤثر بنانا ہے۔

Back to top button