ایران نے بہادری دکھائی، مگر ڈیل کے سوا راستہ نہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں تہران کے پاس مذاکرات اور معاہدے کے علاوہ کوئی مؤثر راستہ باقی نہیں۔

این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب اپنے مجموعی میزائل ذخیرے کا صرف 21 سے 22 فیصد حصہ باقی رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات ایران کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کریں گے جن کا اس نے پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ایران نے جنگ بندی کے معاملے پر طاقت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی حل کے لیے بالآخر مذاکرات ہی واحد راستہ ثابت ہوں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایسے پیچیدہ تنازعات فوری طور پر حل نہیں ہوتے اور انہیں وقت درکار ہوتا ہے، لیکن حالات بتدریج اس سمت بڑھ رہے ہیں جہاں ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔

اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے معاملے پر نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہ ایسی پوزیشن میں ہے کہ جوہری صلاحیت حاصل کر سکے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے بڑی تعداد میں تیل بردار جہاز گزر چکے ہیں اور موجودہ بحران کے حل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی اور ممکن ہے قیمتیں موجودہ سطح سے بھی نیچے چلی جائیں۔

Back to top button