بھارتی کاکروچ پارٹی نے مودی حکومت کی بنیادیں کیسے ہلائیں؟

بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کی احتجاجی تحریک نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف ایک موثر احتجاجی تحریک چلاتے ہوئے اس کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ ابتدائی طور پر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب حکومت کی پالیسیوں، بے روزگاری، تعلیمی نظام میں بدعنوانی اور احتساب کے مطالبات پر مشتمل ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ احتجاج موجودہ رفتار سے جاری رہا تو اس کے اثرات صرف تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بھارتی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی پارلیمان کے مون سون سیشن کے آغاز کے ساتھ ہی صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب "کاکروچ جنتا پارٹی” کے کارکنوں نے پارلیمان ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان کر دیا۔ حکومت نے مظاہرین کو روکنے کیلئے پارلیمان جانے والی متعدد سڑکیں بند کر دیں، کئی میٹرو اسٹیشن سیل کر دیے گئے جبکہ دارالحکومت نئی دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ اس کے باوجود صبح سے شام تک مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں اور کئی علاقوں میں آنسو گیس کے استعمال سے حالات انتہائی کشیدہ رہے۔

دراصل اس احتجاجی تحریک کی بنیاد NEET امتحان سے جڑی ہے، جو بھارت میں سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے لیا جانے والا سب سے اہم امتحان سمجھا جاتا ہے۔ ملک بھر کے ایک لاکھ دس ہزار سے زائد سرکاری میڈیکل کالجوں کی نشستوں پر داخلہ اسی امتحان کے نتائج کی بنیاد پر دیا جاتا ہے، جبکہ ان نشستوں کیلئے ہر سال لاکھوں طلبہ سخت مقابلے میں حصہ لیتے ہیں۔ رواں سال منعقد ہونے والے NEET امتحان میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد طلبہ شریک ہوئے تھے، تاہم امتحان کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا کہ سوالیہ پرچہ پہلے ہی لیک ہو چکا تھا۔ راجستھان کے ایک امتحانی مرکز میں سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ تقریباً 120 سوالات ایک معروف "گیس پیپر” میں پہلے ہی موجود تھے، جس کے بعد امتحان کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے۔

بعدازاں تحقیقات کے دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ پونے میں قائم ایک کوچنگ سینٹر کا استاد، جو NEET کے پرچے تیار کرنے والے پینل سے بھی وابستہ تھا، اپنے طالب علموں کو انہی سوالات کی تیاری کرا رہا تھا جو بعد میں امتحان میں شامل کیے گئے۔ اس انکشاف کے بعد کوچنگ سینٹرز، گیس پیپر فروخت کرنے والوں اور امتحانی نظام سے وابستہ عناصر کے ایک مبینہ مافیا کے وجود پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس کے نتیجے میں امتحان کے نتائج منسوخ کر دیے گئے۔ تاہم نتائج منسوخ کیے جانے کے باوجود لاکھوں طلبہ اور ان کے والدین حکومتی اقدامات سے مطمئن نہ ہو سکے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم فوری طور پر استعفیٰ دیں، امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں اور پرچہ لیک کرنے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے احتجاجی تحریک کو نئی سمت دے دی۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ایک جج کی جانب سے سوشل میڈیا پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو "کاکروچ” قرار دینے کے ریمارکس سامنے آئے، جس پر نوجوانوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ بھارتی نوجوانوں نے اس لفظ کو اپنی توہین تصور کیا اور اسے احتجاج کی علامت بنا لیا۔

اسی ردعمل کے نتیجے میں امریکہ کی ایک معروف یونیورسٹی میں زیر تعلیم بھارتی طالب علم ابھی جیت دیپ نے سوشل میڈیا پر "کاکروچ جنتا پارٹی” کے قیام کا اعلان کیا۔ ابتدا میں یہ ایک طنزیہ آن لائن مہم سمجھی جا رہی تھی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نوجوان اس سے وابستہ ہو گئے اور یہ مہم ایک منظم احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔ ابھی جیت دیپ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر بھارت واپس آیا اور اس نے پارلیمان کے گھیراؤ سمیت ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔ نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے ایک دوسرے سے رابطے قائم کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے مختلف ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس نے حکومت کیلئے ایک نئی سیاسی مشکل پیدا کر دی۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کے تحفظ کیلئے ہے۔ ان کے مطابق امتحانی نظام میں شفافیت کا فقدان، بدعنوانی، روزگار کے محدود مواقع اور حکومتی بے حسی نے نوجوان نسل کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے خلاف آواز بلند کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ پارلیمان کی جانب مارچ کے دوران کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان واقعات میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور تقریباً 60 مظاہرین شامل تھے۔

حالات پر قابو پانے کیلئے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
ادھر معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور ان کی مبینہ جبری منتقلی کے واقعات نے بھی احتجاجی ماحول کو مزید گرما دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے نوجوانوں میں پہلے سے موجود بے چینی کو مزید تقویت دی، جس کے باعث احتجاج کا دائرہ مختلف ریاستوں تک پھیلتا چلا گیا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی حکومت کی تیسری مدت میں یہ نوجوانوں کی جانب سے سامنے آنے والا اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ تصور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ تحریک صرف ایک امتحانی اسکینڈل کا ردعمل نہیں بلکہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری، معاشی مشکلات، تعلیمی نظام پر عدم اعتماد اور حکومتی احتساب کے مطالبات کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی سماجی قوت ہے اور اگر یہی طبقہ مسلسل حکومت سے نالاں رہا تو اس کے اثرات آئندہ انتخابات، حکومتی پالیسیوں اور سیاسی منظرنامے پر نمایاں طور پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کے بقول ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” کی یہ تحریک مودی حکومت کیلئے کس حد تک سیاسی بحران ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس کا انحصار حکومت کے آئندہ اقدامات، ممکنہ مذاکرات اور عوامی حمایت کی سمت پر ہوگا۔

Back to top button