بلوچستان ریاست کے ہاتھوں سے نکلتا کیوں جا رہا ہے؟

بلوچستان میں مسلح قوم پرست تنظیموں کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے خلاف بڑھتی ہوئی دہشت گرد کارروائیوں، ریاستی تنصیبات پر حملوں اور امن و امان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اب یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ریاست کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ مسلسل حملوں، بڑھتی ہوئی شورش اور عوامی بے چینی کے بعد یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ اگر صرف عسکری حکمت عملی پر انحصار جاری رہا اور سیاسی و معاشی مسائل کو نظرانداز کیا جاتا رہا تو صوبے میں ریاستی رٹ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور کالعدم مسلح تنظیموں کے درمیان جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم یہ اعداد و شمار صوبے میں موجود بحران کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں موجود سیاسی، سماجی اور معاشی عوامل بھی ہیں، جنہیں طویل عرصے سے مؤثر انداز میں حل نہیں کیا جا سکا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال کو صرف سکیورٹی کے زاویے سے دیکھنے کی پالیسی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ اگرچہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے متعدد کامیاب کارروائیوں اور بڑی تعداد میں شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود دہشت گرد حملوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان میں مسلح مزاحمت اور شورش کی موجودہ لہر کوئی اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط سیاسی تنازعات اور احساسِ محرومی میں پیوست ہیں۔
تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے قیام کے بعد بلوچستان مختلف ادوار میں مسلح شورش کا سامنا کرتا رہا، تاہم موجودہ مرحلے کا آغاز زیادہ تر مبصرین جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت سے جوڑتے ہیں، جب نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد صوبے میں مزاحمت نے ایک نئی شدت اختیار کی۔ 1988 میں جمہوری نظام کی بحالی کے بعد بلوچ قوم پرست جماعتوں کو سیاسی عمل میں شامل ہونے کا موقع ملا تھا، جس سے صوبے میں نسبتاً سیاسی استحکام پیدا ہوا، اگرچہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، گیس رائلٹی اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کے حقوق جیسے بنیادی مسائل بدستور موجود رہے۔
سن 2004 میں بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی بڑھانے کے فیصلے نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔ اس اقدام کو صوبے پر وفاقی کنٹرول مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں پہلے سے موجود بے اعتمادی میں مزید اضافہ ہوا۔ اسی دوران سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی نے سوئی گیس رائلٹی میں اضافے اور بلوچستان کے سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے سفارشات بھی پیش کیں، تاہم ان سفارشات پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث مقامی سطح پر مایوسی مزید گہری ہوتی گئی۔
اگست 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی دستے کے ہاتھوں شہادت کے بعد حالات نے مزید سنگین رخ اختیار کیا۔ اسکے بعد شورش صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہ رہی بلکہ مکران، گوادر اور ساحلی علاقوں سمیت صوبے کے دیگر حصوں تک بھی پھیل گئی۔
اسی عرصے کے دوران جبری گمشدگیوں، لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے بھی ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد کے فقدان میں اضافہ کیا، جبکہ متعدد بلوچ نوجوانوں نے سیاسی عمل سے مایوس ہو کر مسلح تنظیموں کا رخ کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں نمائندہ سیاسی قوتوں کو کمزور کرنے اور غیر مؤثر سیاسی ڈھانچے کے قیام نے بھی بحران کو مزید پیچیدہ بنایا، جس کے نتیجے میں اختلاف رائے کے لیے جمہوری راستے محدود ہوتے گئے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ بعض بلوچ سردار ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں اور وفاق پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ مختلف ادوار میں کئی بااثر شخصیات خود بھی حکومتی سرپرستی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں، جس کے باعث مسئلے کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال بیرونی مداخلت کے امکانات کو بھی تقویت دے سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب افغانستان کی سرحد پر غیر یقینی صورت حال برقرار ہے اور پورا خطہ نئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی شورش زدہ علاقے میں مقامی آبادی کی بے چینی شدت پسند گروہوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے، جس سے دہشت گرد تنظیموں کو نہ صرف نئی بھرتیاں کرنے بلکہ اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ پچیس برسوں کے دوران طاقت کے استعمال پر مبنی حکمت عملی دیرپا امن قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق اگر بلوچستان میں سیاسی مفاہمت، عوامی اعتماد کی بحالی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، آئینی حقوق کے تحفظ اور حقیقی جمہوری عمل کو فروغ دینے کے لیے فوری اور جامع اقدامات نہ کیے گئے تو صوبے میں سلامتی کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور ریاستی عملداری کو درپیش چیلنج پہلے سے کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
