طاقت کا حصول یا نظریاتی اختلافات، افغان طالبان آپس میں کیوں لڑنے لگے؟

افغانستان میں طالبان حکومت کے اندر نظریاتی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وزیرِ قانون عبدالحکیم شرعی کے حالیہ بیان نے نہ صرف بعض وزراء کے طرزِ عمل بلکہ کرکٹ سٹارز سے ملاقاتوں، مغربی لباس اور قیادت سے وفاداری جیسے معاملات پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین اس بیان کو وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی پر بالواسطہ تنقید قرار دے رہے ہیں، جس سے قندھار کی مرکزی قیادت اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان جاری اختلافات ایک مرتبہ پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔
مبصرین کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے اندر اختلافات کی خبریں ایک مرتبہ پھر منظرعام پر آ گئی ہیں۔ اس بار وزیرِ قانون عبدالحکیم شرعی کے سخت بیانات نے نہ صرف حکومتی حلقوں بلکہ سیاسی مبصرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ قندھار میں ایک عسکری ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بعض وزراء پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اقتدار میں نہ رہے تو کچھ وزراء اپنی موجودہ شناخت ترک کرکے فوراً مغربی طرزِ لباس اختیار کر لیں گے۔
عبدالحکیم شرعی نے اپنے خطاب میں ایسے وزراء کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بقول زخمی یا بیمار مجاہدین کی عیادت کے لیے وقت نہیں نکالتے، لیکن کرکٹ سٹارز سے ملاقاتوں اور ان کی خیریت دریافت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے کسی شخصیت کا نام نہیں لیا، تاہم سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی جانب اشارہ قرار دے رہے ہیں، جنہوں نے حالیہ عرصے میں قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی شاپور زدران سمیت متعدد کھلاڑیوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ وزیرِ قانون نے اپنے خطاب میں طالبان کے موجودہ نظام اور امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت کو استحکام کی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد اور قیادت سے وفاداری کے لیے امیر کی موجودگی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض وزراء صرف قیادت کے خوف اور نظم کی وجہ سے اپنی موجودہ روش برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے اندر قندھار کی مرکزی قیادت اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان اختلافات کی اطلاعات پہلے ہی گردش کر رہی تھیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق گلبدین حکمت یار کی رہائش گاہ اور دفتر سے بے دخلی، بعض تاجروں پر دباؤ اور دیگر انتظامی معاملات پر بھی دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات موجود رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سراج الدین حقانی طالبان کے نسبتاً معتدل رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں، جو افغانستان کے لیے نسبتاً لچکدار خارجہ پالیسی اور عالمی برادری کے ساتھ روابط بڑھانے کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس عبدالحکیم شرعی اور وزیرِ تعلیم ندا محمد ندیم جیسے رہنما قندھار کی مرکزی قیادت کے قریب تصور کیے جاتے ہیں اور زیادہ سخت نظریاتی مؤقف رکھتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران حقانی نیٹ ورک کے اختیارات میں بتدریج کمی بھی ان اختلافات کی ایک اہم وجہ قرار دی جا رہی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق خصوصی فوجی یونٹ "بدری 313” کے وسائل اور سازوسامان قندھار منتقل کیے گئے، جبکہ سراج الدین حقانی کے تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق اختیارات بھی محدود کیے گئے۔ اس سے قبل ان کے بھائی حافظ عزیز الدین حقانی کے خلاف کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں، جسے بعض مبصرین داخلی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی علامت قرار دیتے ہیں۔
اگرچہ طالبان کی مرکزی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ تنظیم کے اندر کسی قسم کی دھڑے بندی موجود نہیں، تاہم وزیرِ قانون کے حالیہ بیانات نے ایک مرتبہ پھر اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ طالبان حکومت کے اندر نظریاتی اور انتظامی اختلافات اب پہلے کی نسبت زیادہ نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ اختلافات طالبان حکومت کی داخلی سیاست اور انتظامی فیصلوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں، اس پر خطے کے سیاسی مبصرین کی گہری نظر رہے گی۔
