ایم کیو ایم رہنماؤں کے اندرونی اختلافات کی اصل وجہ کیا؟

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے اندر جاری اختلافات اب محض تنظیمی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ کھلے عام بیانات، پریس کانفرنسوں اور الزامات کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت انٹرا پارٹی انتخابات، تنظیمی کنٹرول اور فیصلہ سازی کے اختیار پر آمنے سامنے ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اس تمام کشمکش کے پیچھے مستقبل میں کراچی کی میئر شپ کا حصول ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور ذرائع کے مطابق اقتدار کی آئندہ تقسیم اور بلدیاتی سیاست میں ممکنہ کردار نے ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت کی اس جنگ کو مزید تیز کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان ایک بار پھر شدید داخلی اختلافات کی زد میں ہے، جہاں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اختلافات اب بند کمروں سے نکل کر عوامی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور وسیم اختر سمیت اہم رہنما تنظیمی ڈھانچے، انٹرا پارٹی انتخابات اور قیادت کے اختیار کے معاملے پر ایک دوسرے کے مقابل دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث بہادر آباد مرکز ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول حالیہ تنازع کی بنیادی وجہ بظاہر انٹرا پارٹی انتخابات، چیئرمین شپ کی مدت اور تنظیمی عہدوں کی تقسیم قرار دی جا رہی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے موجودہ قیادت کے فیصلوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کسی فرد کی ذاتی جاگیر نہیں، جبکہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے قریبی حلقے ان بیانات کو تنظیمی نظم و ضبط کے خلاف قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ جماعت کے تمام فیصلے مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے بقول ڈاکٹر فاروق ستار اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ سابق میئر کراچی وسیم اختر بھی موجودہ تنظیمی سیٹ اپ پر تحفظات رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بہادر آباد مرکز پر کارکنوں کے احتجاج اور تلخ بیانات نے بھی اس اندرونی کشمکش کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔پارٹی سے قریبی ذرائع کے مطابق اصل مقابلہ صرف تنظیمی عہدوں تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں کراچی کی میئر شپ کے فیصلے پر اثر و رسوخ حاصل کرنا بھی اس کشمکش کا ایک اہم پہلو ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گورنر سندھ کا منصب ختم ہونے کے بعد ایم کیو ایم کو مستقبل میں کراچی کی میئر شپ ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جس کے باعث مختلف رہنما اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں مصطفیٰ کمال، وسیم اختر اور ڈاکٹر فاروق ستار کے نام ممکنہ امیدواروں کے طور پر بھی زیر بحث آ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اختلافات صرف چیئرمین شپ تک محدود نہیں بلکہ پاک سرزمین پارٹی کے ایم کیو ایم میں انضمام کے بعد وجود میں آنے والے نئے طاقت کے توازن کا نتیجہ بھی ہیں۔ ان کے مطابق مصطفیٰ کمال گروپ کو جب اپنی تنظیمی قوت اور کارکنوں کی حمایت کا احساس ہوا تو انٹرا پارٹی انتخابات کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا، جبکہ دوسری جانب موجودہ قیادت مختلف وجوہات کی بنا پر ان انتخابات کو مؤخر کرتی رہی۔ یہی اختلافات رفتہ رفتہ پارٹی اجلاسوں سے نکل کر میڈیا تک پہنچ گئے اور اب کھلی سیاسی جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ جنوری 2023 میں پاک سرزمین پارٹی اور فاروق ستار گروپ کا ایم کیو ایم پاکستان میں انضمام دراصل ایک انتخابی ضرورت تھی، مگر مختلف دھڑوں کے درمیان اعتماد کی فضا مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ عام انتخابات کے بعد جب اقتدار میں شراکت اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں کا مرحلہ آیا تو ہر گروپ نے زیادہ سے زیادہ تنظیمی اختیار اور سیاسی حصہ حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اختلافات جلد ختم نہ ہوئے تو اس کے اثرات نہ صرف ایم کیو ایم کی تنظیمی یکجہتی بلکہ کراچی کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ قیادت کی عوامی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کارکنوں میں مایوسی پیدا کر سکتی ہے اور اس کا فائدہ دیگر سیاسی جماعتوں کو پہنچنے کا امکان بھی موجود ہے۔ ایسے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آیا موجودہ کشمکش صرف پارٹی قیادت تک محدود ہے یا واقعی اس کے پس منظر میں کراچی کی میئر شپ اور آئندہ سیاسی اختیارات کی جنگ جاری ہے۔

Back to top button