نورین نیازی کے متنازع بیان پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی وضاحتیں

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین نیازی کے معرکۂ حق سے متعلق حالیہ بیان نے ملکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ پارٹی نے باضابطہ طور پر اس بیان کی مذمت یا لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا، تاہم متعدد رہنماؤں نے اسے نورین نیازی کی ذاتی رائے قرار دے کر پارٹی مؤقف سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب سابق رہنما شیر افضل مروت نے ایسے بیانات کو نہ صرف پارٹی بلکہ قومی مفاد کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات مخالف قوتوں اور بھارتی میڈیا کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ آخر پی ٹی آئی قیادت اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہن نورین نیازی کے معرکۂ حق سے متعلق حالیہ بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اس بیان سے باضابطہ لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا، تاہم پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے اسے نورین نیازی کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا جماعت کی پالیسی یا مؤقف سے کوئی تعلق نہیں۔
ناقدین کے بقول اس معاملے پر سب سے سخت ردعمل سابق پی ٹی آئی رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کی جانب سے سامنے آیا۔ ان کے مطابق عمران خان کی بہنوں کے ایسے بیانات ماضی میں بھی پارٹی کے لیے مشکلات کا باعث بنتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے بیانات نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بھارتی میڈیا بھی انہیں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرتا ہے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ نورین نیازی کے بیان سے نہ صرف پارٹی بلکہ خود عمران خان کی سیاسی پوزیشن بھی متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق معرکۂ حق کو متنازع انداز میں پیش کرنا ایسے وقت میں مناسب نہیں جب عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ ان کے اثرات ملکی ساکھ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو فوری طور پر اس بیان سے باضابطہ لاتعلقی اختیار کرنی چاہیے تھی، تاہم ایسا نہ ہونے سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ پارٹی اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنے میں تذبذب کا شکار ہے، جس کا سیاسی نقصان خود جماعت کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اور پی ٹی آئی رہنما شفیع جان نے واضح کیا کہ نورین نیازی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے اور پاکستان تحریک انصاف کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اس بیان سے جوڑنا مناسب نہیں کیونکہ قومی سلامتی کے معاملات پر عمران خان ہمیشہ پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔
سینیٹر ہمایوں مہمند نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ نورین نیازی کا بیان پارٹی پالیسی نہیں بلکہ ان کی ذاتی رائے ہے، اس لیے اسے تحریک انصاف کے سرکاری مؤقف کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بیان کی ذمہ داری نہیں لیتے اور نہ ہی اس پر مزید تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔
مجموعی طور پر نورین نیازی کے بیان نے تحریک انصاف کے اندر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ پارٹی رہنما مسلسل اسے ذاتی رائے قرار دے رہے ہیں، لیکن باضابطہ سطح پر واضح اعلان نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی مبصرین کے نزدیک اس معاملے پر اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنازع صرف ایک بیان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پارٹی کی داخلی حکمت عملی، سیاسی بیانیے اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
