کیا نواز شریف واقعی آزاد کشمیر کے وزیراعظم بن سکتے ہیں؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس بیان نے نئی آئینی اور سیاسی بحث چھیڑ دی ہے کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا جائے۔ اس بیان کے بعد سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان کا کوئی سابق وزیراعظم محض سیاسی خواہش یا وفاقی حکومت کی حمایت سے آزاد جموں و کشمیر کا وزیراعظم بن سکتا ہے، یا اس کے لیے آئین اور قانون میں واضح شرائط موجود ہیں؟ قانونی ماہرین کے مطابق اس منصب تک پہنچنے کا راستہ صرف آئینی تقاضے پورے کرنے اور قانون ساز اسمبلی کا اعتماد حاصل کرنے سے ہی ممکن ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف سے کہیں گے کہ انہیں آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا جائے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث آ گیا ہے کہ آیا موجودہ آئینی اور قانونی نظام کے تحت ایسا ممکن بھی ہے یا نہیں۔
قانونی ماہرین کے بقول آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی کرتی ہے۔ وزیراعظم بننے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار اسمبلی کا رکن ہو اور ایوان کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرے۔ اس لیے کسی بھی شخص کو صرف سیاسی خواہش یا وفاقی حکومت کی حمایت کی بنیاد پر اس منصب پر فائز نہیں کیا جا سکتا۔قانونی ماہرین کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر بننے کے لیے امیدوار کا قانون ساز اسمبلی کی رکنیت کا اہل ہونا اور منتخب رکن کی حیثیت سے اسمبلی میں موجود ہونا بنیادی شرط ہے۔ اسی کے ساتھ اسے ایوان کی اکثریت کی حمایت بھی حاصل کرنا ہوتی ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں نواز شریف نہ تو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ ہی انہوں نے وہاں سے انتخاب لڑا ہے، اس لیے وہ فوری طور پر وزیراعظم آزاد کشمیر نہیں بن سکتے۔ اگر مستقبل میں وہ آزاد کشمیر اسمبلی کا انتخاب لڑیں، کامیاب ہوں اور اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل کر لیں تو آئینی طور پر ان کے لیے اس منصب تک پہنچنے کا راستہ موجود ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ تمام قانونی شرائط پر پورا اتریں۔
پارلیمانی نظام میں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شخص اسمبلی کا رکن نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم منتخب ہو جائے، تاہم اسے آئین میں مقررہ مدت کے اندر اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنا لازمی ہوتی ہے، ورنہ وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
تاریخی اعتبار سے بھی آج تک پاکستان کا کوئی سابق یا موجودہ وزیراعظم بعد میں آزاد جموں و کشمیر کا وزیراعظم نہیں بنا۔ آزاد کشمیر کے تمام وزرائے اعظم مقامی قانون ساز اسمبلی کے ذریعے منتخب ہوئے اور وہ مقامی سیاسی عمل کا حصہ رہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف کا بیان زیادہ تر انتخابی مہم کے تناظر میں دیا گیا ایک سیاسی اظہار خیال تھا، تاہم آئینی اعتبار سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم بننے کے لیے اسمبلی کا انتخاب لڑنا، کامیابی حاصل کرنا اور قانون ساز اسمبلی کا اعتماد حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ اسی لیے موجودہ قانونی صورتحال میں صرف کسی سیاسی اعلان یا خواہش کی بنیاد پر نواز شریف کا آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا ممکن نہیں۔
