پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملے کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیوں؟

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منشیات کے بحالی مرکز پر رواں برس مارچ میں ہونے والے فضائی حملے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ تحقیق میں اس حملے کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے آزاد، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اپنے سابقہ مؤقف پر قائم ہے کہ کارروائی میں صرف دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، نہ کہ کسی طبی مرکز یا شہری تنصیب کو۔ یوں اس واقعے پر پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آ گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 16 مارچ 2026 کو ہونے والے فضائی حملے سے متعلق اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں نشانہ بننے والا "امید ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ٹریٹمنٹ سینٹر” ایک طبی مرکز تھا، اور دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اسے ہتھیاروں یا گولہ بارود کے ذخیرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
تنظیم کے مطابق حملے میں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 269 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ طبی مراکز کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت حاصل خصوصی تحفظ کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی بنیاد پر ایمنسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کارروائی کی آزاد، جامع اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی قسم کی قانونی ذمہ داری ثابت ہو تو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے درجنوں سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز، ڈیجیٹل شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لیا، تاہم انہیں ایسے شواہد نہیں ملے جو پاکستانی مؤقف کی تائید کرتے ہوں کہ حملے کے وقت یہ مقام فوجی مقاصد یا اسلحہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ حملے سے پہلے کسی قسم کی پیشگی وارننگ بھی جاری نہیں کی گئی، حالانکہ رات کے وقت مرکز میں بڑی تعداد میں مریض موجود تھے۔
دوسری جانب پاکستان اس واقعے پر پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کر چکا ہے۔ اسلام آباد نے بارہا اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ کسی طبی مرکز یا شہری تنصیب کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق کارروائی میں صرف دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر اور گولہ بارود ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ متعلقہ مقام کو دہشت گرد عناصر خودکش حملہ آوروں کی تیاری کے لیے استعمال کر رہے تھے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کارروائی کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ حملے کے دوران ہونے والے ثانوی دھماکے اسلحے کی موجودگی کا ثبوت تھے۔
تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ویڈیوز اور دیگر مواد کا بھی تکنیکی تجزیہ کیا، لیکن انہیں ایسی کوئی واضح علامت نہیں ملی جس سے گولہ بارود یا اسلحے کے ذخیرے کی موجودگی ثابت ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی شہری یا طبی مرکز کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا شبہ بھی ہو تو بین الاقوامی انسانی قانون حملہ آور فریق پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ہدف کی مکمل تصدیق کرے، شہریوں کو پیشگی انتباہ دے اور شہری جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کے لیے تمام ممکنہ احتیاطی اقدامات اختیار کرے۔
ایمنسٹی کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ایک جائز فوجی ہدف پر کارروائی ثابت نہیں ہوتا، جبکہ پاکستان اب تک اس موقف پر قائم ہے کہ کارروائی دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کی گئی تھی۔
یہ معاملہ اب صرف ایک فوجی کارروائی تک محدود نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ اور ریاستی احتساب سے متعلق ایک اہم سفارتی اور قانونی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔
