ڈان لیکس: جنرل باجوہ کی پیٹھ میں خنجر کس نے گھونپا

 سینئر سیاسی تجزیہ کار اور مسلم لیگ نون کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ڈان لیکس پر نواز شریف حکومت کےفیصلے کو مسترد کرنے کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سخت مشتعل تھے کیونکہ ان کے مطابق یہ ٹویٹ کر کے ان کو دھوکہ دیا گیا اور ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا. اپنے ایک کالم میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ڈ ان لیکس والی سازش کا احوال بیان کرتے ہوۓ عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ نام نہاد ڈان لیکس پر سات رُکنی تحقیقاتی کمیٹی اُس وقت بنی جب پرویز رشید کی برطرفی کو نو دِن اور ڈان لیکس سامنے آئے ایک ماہ ہوچلا تھا۔ جسٹس (ر) عامر رضا خان اِس کے سربراہ تھے۔ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، پنجاب کے محتسب اعلیٰ نجم سعید، ڈائریکٹر ایف۔آئی۔اے عثمان انور، انٹیلی جنس بیورو کے ایک نمائندے کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس کےبریگیڈئیر کامران خورشید اور آئی۔ایس۔آئی کے بریگیڈئیر نعمان سعید بھی اس کمیٹی کے رُکن تھے۔ حسنِ کارکردگی کے باعث یہی دو بریگیڈئیر صاحبان، پانامہ کی شہرۂِ آفاق جے۔آئی۔ٹی کا حصہ بھی بنے ۔ کمیٹی کو ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنا تھی لیکن وزیراعظم کو مبتلائے اذیت رکھنے کے لئے وہ کچھوے کی چال چلتی رہی۔

راحیل شریف تواپنی ناآسودہ حسرتوں کی راکھ، دفتر کے لان میں دفن کرکے گھر چلے گئے لیکن اُن کی ’’متروکہ املاک‘‘ سرگرم رہیں اور اس کمیٹی کو بھی مادرِمشفق کی طرح آغوش میں لے لیا۔ عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ جنرل باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری میں میرا بھی خاصا سرگرم کردار رہا تھا میں مضطرب رہتا تھا کہ صورتِ حال جنرل راحیل شریف جیسی ہی رہی تو وزیراعظم کیا سوچیں گے؟۔ اِسی نفسیاتی خلجان کے زیراثر میں نے 21 مارچ 2016کو جنرل باجوہ کے اسٹاف آفیسر کو پیغام بھیجا کہ مجھے چیف سے ملنا ہے۔ 22 مارچ کو ملاقات میں جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ’’سَر اَب تو کمیٹی میں سب کچھ طے پاگیا ہے۔ میں ہرگز وزیراعظم کو پریشان نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہ معاملہ تو مجھے ورثے میں ملا ہے۔ جس دِن پرویز رشید کو فارغ کیاگیا، اُسی دِن یہ مسئلہ ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ مجھے تویہ بتایاگیا ہے کہ کمیٹی بنانے اور معاملہ انجام تک پہچانے پر اصرار چوہدری نثار علی نے کیاتھا۔‘

‘ آج کم وبیش سات برس بعد جنرل باجوہ نے یہی بات صحافی شاہد میتلا کو بتائی ہے کہ ’’چوہدری نثار نے کہا تھا کہ ہمیں ڈان لیکس کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔‘‘ میں نے ملاقات کی تفصیل وزیراعظم کو سنائی تو وہ خفگی اور آزردگی سے بوجھل لہجے میں بولے ’’دیکھیں صدیقی صاحب! یہ حال ہے وزیراعظم کا جو آئین کے تحت ملک کا چیف ایگزیکٹو ہے لیکن مرضی کی کابینہ بھی نہیں بناسکتا۔ ایک خبر جو نہ جانے کہاں سے آئی ،حکومت کے خلاف چارج شیٹ بنادی گئی ہے۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ وزارتِ عظمیٰ ایک طرح کی نوکری بن کر رہ گئی ہے۔ سرجھکا کر ہر جائزناجائز مانتے رہو تو ٹھیک ورنہ وزیراعظم کو کٹہرے میں کھڑا کردیاجاتا ہے۔

 عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ کوئی پونے چھ ماہ بعد 29اپریل کو ایک اعلامیہ میڈیا کی زینت بنا کہ’ ’ وزیراعظم نے رپورٹ کے پیراگراف 8 کی تمام سفارشات منظور کرلی ہیں۔ظفر عباس، ڈان اخبار اور سرِل المیڈا کا معاملہ اے۔پی۔این۔ایس کے سپرد کردیاگیا ہے۔طارق فاطمی کو منصب سے ہٹایاجارہا ہے۔ رائو تحسین کے خلاف انضباطی کارروائی ہوگی۔‘‘ کچھ ہی دیر بعد آئی۔ایس۔پی۔آر کا ایک ٹویٹ رعد کی طرح کڑکا اور چار سو برق پاشیاں کرنے لگا۔فوج کے محکمہ تعلقات عامہ نے بہ صدتمکنت اعلان کیا کہ ’’سرکاری اعلامیہ نامکمل ہے اور انکوائری بورڈ کی سفارشات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سو نوٹی فکیشن مسترد کیاجاتا ہے۔ ’’Notification is Rejected‘‘۔سخت مزاج باپ کی گھن گرج رکھنے والے فوجی اعلامیے کے سامنے وزیراعظم ہائوس کا اعلامیہ معصوم بچے کی طرح میڈیا کے ایک کونے میں دبک گیا۔

نفسیاتی خلجان ہی کے زیراثر میں نے فیصلہ کیا کہ فوری طورپر آرمی چیف سے مل کر اِس آگ کو ٹھنڈا کیاجائے۔ وزیراعظم کسی سیاسی جلسے کے لئے اوکاڑہ میں تھے۔ بصد مشکل اُن سے رابطہ ہوا۔ اسٹاف آفیسر نبیل اعوان کے ذریعے پیغام آیا کہ ’’آپ جو مناسب سمجھتے ہیں کریں۔‘‘ آنکھ کے تازہ تازہ آپریشن کے باوجود میں بھاگم بھاگ آرمی چیف کے سسر میجر جنرل (ر) اعجاز امجد کے گھر پہنچا۔وہیں سے جنرل باجوہ کے اسٹاف افسر کو پیغام دیا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔ وہ لاہور سے واپسی کے سفر پہ تھے۔ ہم چائے پی رہے تھے کہ ملازم نے جنرل صاحب کے کان میں سرگوشی کی . عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ جلد ہی آرمی چیف کا اسٹاف آفیسر آگیا۔ ’’سَر چیف انتظار کررہے ہیں۔‘‘ جنرل اعجاز امجد کے انکار کے باوجود میں نے اپنی کمک کے لئے اِصرار کرکے انہیں ہمراہ لیا۔

تین چار منٹ بعد ہی وہ مجھے ڈرائنگ روم میں تنہا چھوڑ کر اندر چلے گئے۔ دروازہ کھلا۔نیلے رنگ کے سوٹ میں ملبوس جنرل باجوہ کمرے میں داخل ہوئے۔چہرہ سپاٹ تھا اور بدن بولی کے انگ انگ سے اشتعال کو چھوتا اضطراب ٹپک رہا تھا۔ میں پچھلے کئی گھنٹوں سے اِس ادھیڑ بُن میں تھا کہ گفتگو کا آغاز کیسے کروں گا ! ’’ریجیکٹڈ‘‘ جیسے انتہائی کرخت، ناتراشیدہ اور مذمت کی حدوں کو چھوتے عسکری ردّعمل پر وزیراعظم کے متوقع ردّعمل کی ترجمانی کے لئے اپنے مکالمے کو کس طرح موثر بنائوں گا ؟عین ممکن ہے کہ جنرل باجوہ کہہ دیں کہ یہ سب کچھ اُن کی منظوری کے بغیر ہوا ہے۔ لیکن آرمی چیف نے آن واحد میں مجھےاِن سارے اندیشوں سے آزاد کردیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد میرے سامنے بچھی کرسی سنبھالی اور عسکری جلال کے بارود پاش لہجے میں انگریزی میں بولے (سَر میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیاگیا ہے۔ مجھے دھوکہ دیا گیا ہے۔ مجھے شدید صدمہ پہنچا ہے

عمرانڈو وزیر اعظم آزاد کشمیر توہین عدالت پر فارغ

Back to top button