کیا اسد عمر کپتان کا متبادل بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟

معروف صحافی اور اینکر پرسن سلیم صافی نے کہا کہ حکومتی جماعت کا اتنا برا حال ہو چکا ہے کہ خاندانی اور روایتی سیاستدانوں کے لئے پی ٹی آئی میں رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے لہذا درجنوں ایم این ایز اور وزیر دیگر جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ(ن) کے ساتھ رابطے کرنے لگے ہیں۔

دوسری جانب عمران خان تیزی کے ساتھ سابق افغان صدر اشرف غنی کے راستے پر گامزن ہونے لگے ہیں۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ویسے تو سب خوشامدی اپنی بساط کے مطابق کپتان کی خوشامد میں مصروف ہیں لیکن ان میں سب سے آگے اسد عمر ہیں جو خوشامدی ہونے کے ساتھ ساتھ سازشی ذہن بھی رکھتے ہیں اور ملکی معیشت برباد کرنے کے بعد اب عمران خان کا متبادل بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ دن دور نہیں جب ایک روز اسد عمر اپنے کپتان سے کہیں گے سر! اگر آپ نے حکومت نہیں چھوڑی تو ہم سب مارے جائیں گے۔
صافی دو سابق افغان صدور اشرف غنی اور حامد کرزئی کا موازنہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اشرف غنی، حامد کرزئی کے نسبت زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ حامد کرزئی بھی تعلیم یافتہ ہیں لیکن اشرف غنی پی ایچ ڈی ہیں، امریکی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے رہے اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ عمران کی طرح محض کرکٹر نہیں بلکہ ماہر معیشت تھے اور صدر بننے سے قبل وزیرخزانہ بھی رہے تھے لیکن حامد کرزئی، اشرف غنی کی نسبت کئی گنا کامیاب حکمران ثابت ہوئے۔

انہیں افغانستان زیادہ تباہ حال شکل میں ملا تھا اور صفر سے آغاز کرنا پڑا تھا لیکن وہ امریکہ سے بھی نسبتا بہتر کھیلے اور طالبان کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے بھی روکے رکھا۔ اپنی الیکشن مہم یا پھر حکومت کے دوران حامد کرزئی نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کم انحصار کیا جبکہ اشرف غنی نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔ اس کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں نہایت پاپولر نظر آتے تھے ۔

بقول صافی، اشرف غنی صدر بننے کے بعد بھی عمران کی طرح الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر زیادہ انحصار کرتے رہے۔ حامد کرزئی کی ٹیم میں زمینی حقائق جاننے والے لوگ شامل تھے جبکہ اس کے بر عکس اشرف غنی نے مغرب اور دیگر ممالک سے جدید پڑھے لکھے غیرتجربہ کار نوجوانوں کو مشیر خاص بنائے رکھا، جبکہ تجربہ کار لوگوں کو مختلف طریقوں سے سائیڈ لائن رہے۔

انکا کہنا یے کہ عمران خان دراصل اشرف غنی کے راستے پر گامزن ہیں۔ انہوں نے جاوید ہاشمی، پرویز خٹک، جہانگیر ترین، اسحاق خاکوانی، نور عالم خان اور ندیم افضل چن جیسے تجربہ کار سیاستدانوں پر مراد سعید ، فیصل واوڈا، شبلی فراز، علی زیدی اور انہی جیسے دیگر لوگوں کو ترجیح دی۔ حماد اظہر جیسے لوگوں کو پرویز خٹک کو آنکھیں دکھانے کے قابل بنایا۔ برطانیہ سے مختصر دورے پر آئے ہوئے زلفی بخاری اور شہباز گل وغیرہ کو سیاہ و سفید کا مالک بنایا۔ یہ سب لوگ خوشامد کرسکتے ہیں، مخالفین کو گالیاں دے سکتے ہیں، چیخ و پکار کرسکتے ہیں لیکن نہ تو سیاست کر سکتے ہیں اور نہ ہی حکومت کرنا جانتے ہیں۔

لیکن جب مشکل وقت آیا اور طالبان کابل کے گرد جمع ہونے لگے تو اشرف غنی نے بھی اپنی ٹیم کی بجائے حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ وغیرہ کو اختیار دیا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کریں۔ یہاں بھی جب بحران آتا ہے تو خان صاحب پرویز خٹک وغیرہ سے رجوع کرتے ہیں۔ پرویز خٹک، اسحاق خاکوانی، غلام سرور اور شاہ محمود قریشی جتنے بے اختیار ہیں، اتنے شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور بابر اعوان جیسے اجنبی زیادہ بااختیار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اب خان کی خوشنودی کے لئے شبلی فراز جیسے وہ لوگ بھی اب مخالفین کے ساتھ بدتمیزی کرنے اور ان کی خوشامد کی تمام حدود پھلانگنے لگے ہیں۔ چنانچہ جاتے جاتے اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ تمام خاندانی تجربہ کار سیاستدانوں کے لئے پی ٹی آئی میں رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ ابھی سے درجنوں ایم این ایز اور وزیر دیگر جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ(ن) کے ساتھ رابطے کرنے لگے ہیں۔ جبکہ عمران خان تیزی کے ساتھ اشرف غنی کے راستے پر گامزن ہو رہے ہیں۔

رانا شمیم سمیت تمام فریقین فرد جرم عائد کرنے کیلئے طلب

سلیم صافی کہتے ہیں کہ کپتان کے خاشامدیوں کی ٹیم میں اسد عمر سب سے آگے ہیں جو خوشامدی ہونے کے ساتھ سازشی ذہن بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا لیکن پھر بھی عمران خان کی نظروں میں خود کو افلاطون اور مسیحا بنا رکھا ہے۔

انہوں نے پہلے زلفی بخاری کو استعمال کرکے بنی گالہ کے راستے جہانگیر ترین کا پتہ کاٹا اور اب عمران کے کان بھر رہے ہیں کہ پرویز خٹک ان کا متبادل بننے کی کوشش کررہا ہے، حالانکہ در اصل اس مشن پر وہ خود لگے ہوئے ہیں۔ وہ عمران خان کو معیشت اور سیاست کے بارے میں سب اچھا کی رپورٹ دے رہے ہیں لیکن اشرف غنی کی طرح عمران بھی زمینی حقائق سے بے خبر ہیں۔

لہذا اب کسی بھی روز وہ لمحہ آسکتا ہے کہ اسد عمر اپنے کپتان سے کہیں کہ سر! اگر آپ نے حکومت نہیں چھوڑی تو ہم سب مارے جائیں گے ۔ لیکن اشرف غنی کے ساتھ ایک کردار اور بھی تھا جس نے ہر چیز کا مالک بننے کی خاطر کسی کو اشرف غنی کا دوست بننے نہیں دیا۔ ان کا نام تھا امراللہ صالح۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کا امراللہ صالح کون ہے؟ ۔میر ی دانست میں امراللہ صالح کا رول یہاں پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سنبھال رکھا ہے۔

بقول صافی، عمران اور ان کے حمداللہ محب وغیرہ کی منزلیں تو معلوم ہیں کہ اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ کہاں جائیں گے لیکن مجھے فکر ہے کہ پاکستان میں رہنے والوں کے ساتھ کیا ہوگا؟۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہ نہ ہونے پائے جو اشرف غنی اور حمد اللہ محب کی خاطر دوسروں کی پگڑیاں اچھالتے رہے لیکن اب طالبان کے رحم وکرم پر ہیں۔ طالبان نے تو ان کے لئے معافی کا اعلان کردیا لیکن ان لوگوں نے عمران خان کی خوشنودی کے لئے جس طرح سیاسی اور صحافتی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کا طریقہ کار اختیار کئے رکھا، مجھے نہیں لگتا کہ انہیں اسی طرح معافی مل جائے گی جس طرح اشرف غنی کے چھوڑے ہوئے لوگوں کو افغانستان میں مل گئی۔

Back to top button