کیا بلاول بھٹو واقعی کسی شہزادی سے شادی کرنے والے ہیں؟

پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی ممکنہ شادی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بن گئی ہے۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو رواں سال کے اختتام پر ایک یورپی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بلاول کی ممکنہ دلہن کا تعلق یورپ کی ریاست لیختن شٹائن سے ہے، جبکہ بعض دیگر رپورٹس میں اسے سابق آسٹرین شاہی خاندان سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تاحال کسی مستند سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
جیو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو کی شادی سے متعلق قیاس آرائیاں سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختن شٹائن کے دارالحکومت وادوز گئے ہیں جہاں بلاول بھٹو کی شادی کے حوالے سے بات چیت اور تاریخ طے کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شادی رواں سال کے آخر میں ہوسکتی ہے اور دلہن کا تعلق وادوز سے ہے۔ تاہم جیو نیوز نے ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے حلقوں نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض اطلاعات نے اس معاملے کو آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے بھی جوڑ دیا ہے۔ ان رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو ممکنہ طور پر آسٹریا کے آخری حکمران شہنشاہ کارل اول (Karl I) کی نسل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے شادی کرسکتے ہیں۔ بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں تو دلہن کا نام بھی سامنے لایا گیا ہے، تاہم اس نام اور خاندانی نسبت کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں بلاول بھٹو کو ایک خاتون کے ساتھ آسٹریا میں ایک فٹ پاتھ پر چہل قدمی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اس وقت آسٹریا میں موجود ہیں اور ان کا یہ دورہ بلاول بھٹو کی شادی کے معاملات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کو بھی احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ صدر زرداری کے دورے کے اصل مقصد اور شادی سے اس کے براہ راست تعلق کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی افواہوں میں یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ زرداری خاندان کے دیگر افراد بھی اس سلسلے میں یورپ میں موجود ہیں اور بلاول بھٹو کی دونوں بہنیں بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی ممکنہ شادی کے حوالے سے خاندان کے ہمراہ موجود ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے اسے فی الحال سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاع ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ میں بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے مؤقف کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ کراچی کے میئر اور بلاول بھٹو کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے سوشل میڈیا پر ان اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول کی منگنی یا شادی کے حوالے سے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ یوں اس پوری کہانی میں اس وقت دو مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک دعویٰ بلاول بھٹو کی ہونے والی دلہن کو لیختن شٹائن کے دارالحکومت وادوز سے جوڑتا ہے، جبکہ دوسرا دعویٰ اسے آسٹریا کے سابق شاہی خاندان سے منسلک کرتا ہے۔ یہی تضاد اس خبر کی غیر مصدقہ نوعیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
بعض رپورٹس میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر شادی طے ہوتی ہے تو اسکی تقریب ویانا میں منعقد ہوسکتی ہے اور اس میں یورپی اشرافیہ، بین الاقوامی شخصیات اور اہم سیاسی و سماجی افراد کی شرکت متوقع ہوگی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ بلاول بھٹو کی ذاتی زندگی کے حوالے سے ماضی میں بھی شادی سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اس مرتبہ سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں نے اس معاملے کو یورپی شاہی خاندان سے جوڑ کر غیر معمولی توجہ حاصل کرلی ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا صارفین ممکنہ دلہن کے خاندانی پس منظر اور شاہی نسبت پر بحث کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سیاسی حلقے اس خبر کی صداقت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
