آزاد کشمیر میں نون لیگی حکومت کو بڑے چیلنجز کا سامناکیوں؟

آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی نے وزیراعظم منتخب ہو کر ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا ہے جب سیاسی بے یقینی، حالیہ الیکشن پر سوالات اور امن و امان کی صورتحال سمیت متعدد بڑے چیلنجز موجود ہیں۔ حالیہ الیکشن کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب ہونے والے 46 سالہ گیلانی نے قانون ساز اسمبلی سے 30 ووٹ حاصل کیے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار مختار احمد عباسی کو 14 ووٹ ملے۔

بیرسٹر افتخار علی گیلانی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ وہ 2010 سے آزاد کشمیر کی سیاست میں سرگرم ہیں اور ماضی میں آزاد کشمیر کی کابینہ کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا وزیراعظم بننا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خطے میں نسبتاً نوجوان قیادت کو آگے لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ان کی نامزدگی پر خود مسلم لیگ (ن) کے اندر شدید تحفظات سامنے آئے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے ان کی نامزدگی کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ ان لوگوں کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ افتخار گیلانی عام انتخابات میں مظفرآباد کی نشست پر ہار گے تھے۔ چونکہ انہیں وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا لہذا انکو ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی میں پہنچایا گیا۔ ناقدین نے اسے مسلم لیگ (ن) کے اس سیاسی مؤقف سے متصادم قرار دیا جس میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت کا اصرسر یے کہ اس نے آزاد کشمیر میں پرانی قیادت کے بجائے ایک نسبتاً نوجوان چہرے کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی گیلانی حکومت کے لیے سب سے بڑا اور فوری چیلنج آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام بحال کرنا ہوگا۔ یاد رہے آزاد کشمیر میں پچھلے کئی ماہ سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اسکے علاوہ حالیہ انتخابات شدید تنازعات کی زد میں رہے، سیاسی حلقوں کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے، جبکہ انتخابی عمل کے دوران بعض علاقوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور پرتشدد واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔ ان واقعات نے نہ صرف سیاسی ماحول کو متاثر کیا بلکہ ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کے بحران کو بھی نمایاں کیا ہے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں وزیراعظم کا حلف تو ہو گیا ہے لیکن عام انتخابات کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا کیونکہ پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کی سات نشستوں پر انتخابات امن و امان کی صورتحال کے باعث نہیں ہو سکے۔ اس وقت 53 رکنی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 46 ارکان موجود ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) اور اسکے اتحادیوں کے 32 جبکہ پیپلز پارٹی کے 14 ارکان شامل ہیں۔ وزیر اعظم کے انتخاب کے موقع پر 44 ووٹ ڈالے گئے کیونکہ سپیکر چوہدری طارق فاروق نے ووٹ نہیں دیا جبکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر بھی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ نئے وزیر اعظم افتخار گیلانی نے اپنی پہلی تقریر میں بھی سات نشستوں پر انتخابات میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل جلد مکمل ہوگا۔

نومنتخب اسمبلی کہ پہلے اجلاس سے خطاب کرنے والے بعض ارکان نے خبردار کیا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر میں بدامنی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایسے میں وزیراعظم گیلانی کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ احتجاج اور سیاسی اختلافات کو طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات، انتظامی اصلاحات اور عوامی اعتماد کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ خطے میں بڑا بحران پیدا ہونے کے امکانات کم ہو سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گیلانی کی نئی حکومت کے سامنے دوسرا بڑا چیلنج بے روزگاری خصوصاً نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ آزاد کشمیر میں محدود معاشی مواقع اور سرکاری ملازمتوں پر زیادہ انحصار کے باعث روزگار کا مسئلہ حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی اور سماجی امتحان بن سکتا ہے۔ میرٹ اور شفافیت بھی حکومت کے بڑے وعدوں میں شامل ہیں۔ تاہم یہ وعدے اس وقت عملی امتحان سے گزریں گے جب حکومت سرکاری اداروں میں تقرریوں، ترقیوں، ٹھیکوں اور وسائل کی تقسیم کے معاملات میں سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر فیصلے کرے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر افتخار گیلانی کو اقتدار ایک نسبتاً کمزور اور متنازع سیاسی ماحول میں ملا ہے۔ انہیں ایک طرف اپنی ہی جماعت کے اندر اپنے خلاف موجود تحفظات ختم کرنا ہوں گے، تو دوسری طرف حالیہ انتخابات کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ بھی کرنا ہو گا۔ ان کی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہی ہوگا کہ وہ سیاسی اختلافات کو کم کرتے ہوئے عوامی مسائل حل کرنے اور آزاد کشمیر میں مستحکم، شفاف اور مؤثر حکومتی نظام قائم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

Back to top button