کیا صدر زرداری کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بقول نظام گر جانے کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرے گی، تاہم صدر آصف زرداری کے مستقبل کے حوالے سے سوالات ضرور اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ایوان صدر میں ججوں کی منظوری کی سمری دو ہفتوں سے زیر التوا ہے جبکہ وزیر قانون، وکلا کے ایک طاقتور گروپ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حامی حلقے صدر سے خفا دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر میں نئے ججوں کی منظوری کی سمری طویل عرصے سے زیر التوا ہے اور اس معاملے پر صدر کے دفتر اور بااثر حلقوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہوسکتا ہے جب صدر کی منظوری کے بغیر وزیر اعظم اپنے آئینی اختیار کے تحت ججوں کی تقرری کا عمل آگے بڑھائیں، جبکہ صدر کی منظوری کی صورت میں بھی یہ محض مجبوری کے تحت ہونے کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بنانے کے منصوبے پر بھی صدر زرداری کو نہ پہلے اعتماد میں لیا گیا اور نہ ان سے مشاورت ضروری سمجھی گئی، حالانکہ سندھ کی تقسیم کا معاملہ اس منصوبے کا سب سے متنازع پہلو ہے۔ ان کے بقول سندھ میں حکومت صدر زرداری کی جماعت کی ہے لیکن اس معاملے میں وہ بے خبر نظر آتے ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اس منصوبے پر آن بورڈ ہوچکے ہیں اور صدر پاکستان اس معاملے میں تنہا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سہیل وڑائچ نے اپنی تحریر میں ملکی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے موجودہ نظام کی خرابیوں، حکومتی کارکردگی، کابینہ کے اندرونی اختلافات، معاشی پالیسیوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو طنزیہ طور پر ’’ریڈیو تضادستان‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مسلسل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نظام ناکام ہوچکا ہے، معیشت مشکلات کا شکار ہے، سیاست میں بے یقینی ہے اور حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، لیکن دوسری جانب بار بار یقین دلایا جا رہا ہے کہ حکومت ہر صورت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔
ان کے مطابق موجودہ سیاسی بیانیے کا بنیادی تضاد یہی ہے کہ نظام کی ناکامی کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے لیکن حکومت کی تبدیلی کے امکان کو مسلسل مسترد کیا جاتا ہے۔
سہیل وڑائچ نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ اگر نظام دس سال بھی چلتا رہے تو شاید کچھ نہ بدلے، لیکن حکومت ضرور پانچ سال مکمل کرے گی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی طویل اوقات کار کے باوجود حکومتی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق وزیراعظم 18،18 گھنٹے کام کرتے ہیں اور طویل اجلاس منعقد کرتے ہیں، لیکن ان اجلاسوں کے باوجود تیز رفتار فیصلے سامنے نہیں آتے اور اکثر معاملات کو کمیٹیوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت حال کے باوجود وزیراعظم کی حکومت کو بہترین قرار دے کر اس کی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔
تجزیہ کار نے ملکی معیشت کے حوالے سے بھی حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس سال بمپر فصل ہوئی، لیکن اس کے باوجود گندم مہنگے داموں درآمد کرنا پڑی کیونکہ مقامی کسانوں سے مناسب قیمت پر گندم خریدنے کا مؤثر انتظام نہ کیا جاسکا۔ ان کے بقول یہ صورتحال حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کے لیے کافی ہے، لیکن پھر بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شاندار قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے چینی کے معاملے پر بھی حکومتی پالیسیوں میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ ملک میں ضرورت سے زیادہ چینی موجود ہے، جس کے بعد چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے، لیکن سال کے اختتام پر قلت پیدا ہونے کے بعد اسے مہنگے داموں درآمد کرنا پڑتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اس صورتحال کو بھی حکومتی کارکردگی کے خلاف چارج شیٹ نہیں سمجھا جاتا۔
کابینہ کے اندرونی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ عام طور پر وفاقی کابینہ ایک مضبوط اور متحد ٹیم کا نام ہوتی ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں بعض وزرا کابینہ کے اندر ہی نہیں بلکہ کھلے عام ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ ایک مضبوط ٹیم ہے اور حکومت اسی رفتار سے پانچ سال مکمل کرے گی۔
انہوں نے وزیراعظم سیکریٹریٹ اور بعض وزرا کے درمیان مبینہ کشیدگی کی خبروں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان خبروں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایک جونیئر اور ٹیکنوکریٹ وزیر کو مبینہ طور پر ویٹو پاور حاصل ہونے کی اطلاعات کو بھی محض افواہ قرار دیا جاتا ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق حکومتی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ حکومت بہترین دماغوں پر مشتمل ہے اور اپنی آئینی مدت مکمل کرے گی۔ سہیل وڑائچ نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، یعنی ایس آئی ایف سی، کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اسے طاقتور ون ونڈو کے طور پر تشکیل دیا گیا، لیکن اگر یہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ان کے مطابق اس ناکامی کی ذمہ داری بیوروکریسی پر ڈال دی جاتی ہے اور حکومت بدستور اپنی مدت پوری کرنے کے لیے محفوظ قرار پاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم طویل اجلاسوں اور مسلسل مشاورت کے باوجود فیصلہ سازی میں تیزی نہیں دکھا پاتے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ وزیراعظم نے اب تک کسی بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرکے اپنا جامع معاشی وژن اور آئندہ کا پروگرام تفصیل سے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا، تاہم اس کے باوجود انہیں بہترین وزیراعظم قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ سہیل وڑائچ نے حکومت میں ’’دو کابینہ‘ ہونے‘ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق سیاسی حلقوں میں یہ باتیں گردش کرتی ہیں کہ ایک باقاعدہ کابینہ کے علاوہ ایک ’’سپر کابینہ‘‘ بھی موجود ہے جو اہم فیصلے کرتی ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس تاثر کو مسترد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت کے درمیان مبینہ دوریوں کی خبروں کو بھی بے بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔
انہوں نے موجودہ سیاسی نظام اور حکومت اور فوج کے تعلقات پر بھی طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ نظام کو خراب اور تباہ حال قرار دیا جا رہا ہے، لیکن وزیراعظم اور فوج کے ایک صفحے پر ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کو کسی خطرے سے دوچار نہیں سمجھا جا رہا اور مسلسل کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف پانچ سال تک وزیراعظم رہیں گے۔
کابینہ کی تشکیل پر سوالات اٹھاتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ موجودہ حکومت میں ٹیکنوکریٹس اور سابق پرسنل اسٹاف افسران کی تعداد اور آواز بعض اوقات منتخب نمائندوں پر بھاری محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک ہی خاندان کے متعدد رشتہ داروں، قریبی دوستوں اور دوسرے خاندان کے قریبی رشتہ داروں کی اہم عہدوں پر موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اس طرز کی تشکیل واقعی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے؟ ترقیاتی اداروں اور مختلف محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سہیل وڑائچ نے میرٹ کے دعووں پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق بعض اہم تقرریوں کے حوالے سے مخصوص بااثر افراد کے کردار کی خبریں سامنے آتی ہیں، جبکہ دوسری جانب حکومت کی جانب سے مکمل شفافیت اور میرٹ پر عمل درآمد کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
سہیل وڑائچ نے وزیراعظم کی عوام اور پارلیمان سے رابطے کی پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق وزیراعظم دفتر خارجہ کی طرح ہفتہ وار بریفنگ کے ذریعے عوام کو ملکی اور عالمی معاملات سے آگاہ نہیں کرتے اور نہ ہی آئی ایس پی آر کی طرز پر ملکی اور بین الاقوامی صورتحال پر باقاعدہ تفصیلی موقف سامنے آتا ہے۔ ان کے بقول وزیراعظم پارلیمان میں بھی کم کم جاتے ہیں اور وہاں پالیسی بیانات کے ذریعے ارکان اور عوام کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ محدود ہے۔
