شہباز شریف کی کرسی اب مسلسل خطرے میں کیوں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی کرسی کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اگرچہ اب وفاقی وزیر داخلہ نے وزیراعظم کے پانچ سال مکمل کرنے کی نوید بھی سنا دی ہے، تاہم کلاسرا کے بقول وزیراعظم کے مستقبل بارے جو سوالات کھڑے ہوئے ہیں اب وہ گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں اور شہباز شریف کی کرسی مسلسل خطرے میں نظر آتی ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا شہباز شریف پاکستانی تاریخ میں پانچ سال کی آئینی مدت مکمل کرنے والے پہلے وزیراعظم بنیں گے یا وہ بھی 1985 کے بعد اقتدار میں آنے والے دیگر وزرائے اعظم کی طرح اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے عہدہ چھوڑ دیں گے یا انہیں عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وزیراعظم کی کرسی کو ذرا سا بھی خطرہ لاحق ہو تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے آسمان گرنے والا ہے اور قیامت آنے والی ہے۔ ان کے مطابق حالیہ صورتحال میں بھی وفاقی وزیر کے ایک بیان کے بعد ملک میں ایسی سیاسی ہلچل پیدا ہوئی جیسے وزیراعظم شہباز شریف کے اقتدار کا خاتمہ قریب آ گیا ہو اور ان کے جانے کی صورت میں ملک کا سیاسی نظام شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔
کلاسرا نے پاکستان اور بھارت کی سیاسی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل بھارت میں بھی وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مظاہروں کے بعد ایسی ہی فضا پیدا ہوئی تھی، جہاں یہ تاثر ابھرا کہ اگر مودی اقتدار سے چلے گئے تو بھارت کے لیے کوئی بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک میں وزیراعظم کی شخصیت کو نظام سے اس قدر جوڑ دیا گیا ہے کہ وزیراعظم کے اقتدار کو درپیش معمولی خطرہ بھی ریاستی بحران کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پاکستان میں چار مارشل لا ادوار کے بعد جو سیاسی افراتفری معمولی معاملات پر پیدا ہو جاتی ہے، بھارت میں وہی صورتحال بغیر مارشل لا کے بھی پیدا ہو رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کے دیگر جمہوری ممالک میں حکومت یا وزیراعظم کی تبدیلی اسی نوعیت کے بحران کو جنم کیوں نہیں دیتی۔
رؤف کلاسرا نے اس حوالے سے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو دنیا میں جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے اور وہاں گزشتہ دس برس کے دوران متعدد وزرائے اعظم تبدیل ہوئے، لیکن ہر تبدیلی کے بعد ریاستی نظام مفلوج نہیں ہوا اور نہ ہی عوام کو یہ خوف لاحق ہوا کہ وزیراعظم کے جانے سے ملک کا کیا بنے گا۔ ان کے مطابق برطانیہ میں وزیر اعظم تبدیل ہونا کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں۔ وہاں حکومتیں اور وزیراعظم تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن ریاستی ادارے، پارلیمانی نظام اور گورننس کا ڈھانچہ اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ اس لیے کسی وزیراعظم کے عہدہ چھوڑنے کو ریاست کے وجود یا مستقبل کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔
کلاسرا نے واضح کیا کہ برطانیہ اور پاکستان کے سیاسی نظام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ برطانیہ میں وزیراعظم کا انتخاب ایک باقاعدہ پارلیمانی اور جماعتی عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔ وزیراعظم اپنی پارٹی کی پارلیمانی حمایت سے اقتدار میں آتا ہے اور اگر پارٹی کے ارکان اس کی قیادت سے مطمئن نہ ہوں تو باقاعدہ ووٹنگ کے ذریعے اسے تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس عمل میں کسی غیر معمولی سیاسی بحران کی ضرورت نہیں پڑتی۔
انہوں نے کہا کہ برطانوی سیاسی نظام میں وزیراعظم کے پاس پاکستان جیسے وسیع صوابدیدی اختیارات بھی نہیں ہوتے۔ وہاں حکمران طبقے کے لیے ذاتی، خاندانی اور کاروباری مفادات کو اقتدار کے ساتھ اس طرح جوڑ دینا بھی ممکن نہیں جس طرح پاکستان میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ رؤف کلاسرا نے برطانیہ کے سیاسی کلچر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں معمولی سے معمولی مفاداتی ٹکراؤ بھی حکومتی عہدیدار کے لیے سیاسی اور اخلاقی مسئلہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وزیراعظم یا اس کے خاندان کے افراد بھی قانون اور احتساب کے دائرے سے باہر نہیں سمجھے جاتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں وزیر اعظم بننے کا راستہ اکثر پارلیمانی ووٹ سے زیادہ طاقت کے مختلف مراکز سے تعلقات، خفیہ ملاقاتوں، یقین دہانیوں اور سیاسی ضمانتوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعظم کے ساتھ اس کا خاندان، قریبی رشتہ دار، دوست، سیاسی حامی اور کاروباری مفادات بھی اقتدار کے نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔
کلاسرا کے بقول یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں وزیراعظم کے لیے اقتدار سے علیحدہ ہونا محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے ساتھ خاندان، کاروبار، سیاسی مستقبل اور دیگر مفادات بھی جڑے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وزیراعظم ہر قیمت پر اپنی کرسی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اقتدار ختم ہونے کے بعد اسے سیاسی مشکلات، مقدمات اور بعض اوقات جیل تک کا سامنا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سیاسی حکمرانوں کی توجہ اکثر ملکی معیشت، گورننس اور عوامی مسائل کے بجائے اپنے سیاسی مخالفین کو قابو کرنے، اپنے قریبی لوگوں کو اہم عہدے دینے اور خاندان کے کاروباری مفادات کو مستحکم کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں حکمران خاندانوں کے کاروبار ترقی کرتے ہیں جبکہ ملک معاشی تنزلی کا شکار رہتا ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ پاکستان میں اکثر ایسے افراد کو بھی اہم عہدوں پر فائز کر دیا جاتا ہے جو حکمران کے لیے مکمل وفاداری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ باصلاحیت اور آزاد سوچ رکھنے والے افراد ہمیشہ حکمران کی ہر بات تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اس طرز حکمرانی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اقتدار شخصیات کے گرد گھومنے لگتا ہے اور ادارہ جاتی نظام کمزور ہوتا جاتا ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے اسی بنیادی مسئلے کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اگرچہ بعد میں وضاحتیں پیش کی گئیں اور وزیراعظم شہباز شریف کے پانچ سال مکمل کرنے کی بات کی گئی، تاہم محسن نقوی کے بیان نے وزیراعظم کی مدت اور اقتدار کے مستقبل کے حوالے سے جو سوالات پیدا کیے، وہ محض وضاحت سے ختم نہیں ہو سکتے۔ کلاسرا کے مطابق اصل مسئلہ کسی ایک بیان یا اس کی وضاحت نہیں بلکہ وہ سیاسی ماحول ہے جس میں ایک وفاقی وزیر کے چند الفاظ پورے ملک میں وزیراعظم کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا طوفان پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کے بقول یہی فرق پاکستان اور مستحکم جمہوری نظام رکھنے والے ممالک کے درمیان بنیادی سوال بن کر سامنے آتا ہے۔
انہوں نے عمران خان اور شہباز شریف کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وزیراعظم کی کرسی سے چمٹے رہنے کی سیاست اس قدر مضبوط ہے کہ عمران خان نے تین سال جیل میں رہنا قبول کیا مگر ڈیڑھ سال اپوزیشن میں بیٹھنا قبول نہیں کیا، جبکہ شہباز شریف نے بھی اپنی حکومت اور کارکردگی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے باوجود وزارت عظمیٰ چھوڑنے کے بجائے اقتدار برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔
رؤف کلاسرا نے پاکستان اور برطانیہ کے سیاسی نظام کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیراعظم جانتا ہے کہ اقتدار پارٹی کی امانت ہے اور اگر پارٹی چاہے تو اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں وزیراعظم کی کرسی کے ساتھ ذاتی، خاندانی اور سیاسی مفادات اس قدر جڑ جاتے ہیں کہ اقتدار سے محرومی ایک انتہائی خوفناک امکان بن جاتی ہے۔
ان کے مطابق محسن نقوی کے حالیہ بیان نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں وزیراعظم کی آئینی مدت کا فیصلہ صرف پارلیمانی اور جمہوری عمل کرے گا یا اقتدار کے پس پردہ عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے رہیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی بعد کی وضاحتیں اپنی جگہ، لیکن ایک مرتبہ وزیراعظم کی کرسی کے مستقبل کے بارے میں سوال پیدا ہو جائے تو اسے محض وضاحتوں سے واپس نہیں لیا جا سکتا۔
کلاسرا کے مطابق اصل ضرورت کسی فرد کو پانچ سال پورے کرانے کے وعدے سے زیادہ ایسے مضبوط جمہوری اور ادارہ جاتی نظام کی ہے جس میں وزیراعظم کا آنا یا جانا ریاستی بحران نہ بنے۔ جب تک سیاسی نظام شخصیات، خاندانوں اور اقتدار سے وابستہ مفادات کے گرد گھومتا رہے گا، کسی بھی اہم حکومتی شخصیت کا ایک بیان سیاسی استحکام کے لیے بڑا سوال بن سکتا ہے۔
