مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پنجابی کا محاورہ ہے ’’ شوق دا کوئی مل نئیں‘‘اور اگریہ شوق راجوں، مہاراجوں،بادشاہوں یا طاقتوروں کا ہوتو پھر کئی بار یہ شوق تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ آج سے پچاس ساٹھ ہزار سال پہلے جب سےموجودہ انسانی نسل Homo Sapiens ظہور پذیر ہوئی ہے، اسکی تاریخ میں سب سے پہلے گدھا،گھوڑا، ہاتھی ،کتا اور بلی وہ جانور ہیں جو انسان نے سدھائے۔ انسانوں اور ان جانوروں کا تاریخ، تصاویر، کہانیوں اور لڑائیوں میں بار بار ذکر ملتا ہے۔ کتا اور گھوڑا ان جانوروں میں سے بھی زیادہ انسانی زندگی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ گھوڑا، بہادروں، راجوں اور جرنیلوں کےشانہ بہ شانہ جنگوں اور مہموں میں ساتھ ساتھ رہا ہے، سکندر اعظم کے گھوڑے بیوسی فالس کی ہزاروں میل سفر وحضر میں ہمراہی رہی اور پھر وہ پورس کے ساتھ جنگ میں زخمی ہوکر منڈی بہاؤ الدین ضلع کے شہر پھالیہ میں دفن ہوا، سکندر اعظم اسکو دفن کرنے کے جلوس میں خود شامل ہوا۔نپولین بونا پارٹ کے گھوڑے کا نام مارنگو تھا جبکہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے وفادار گھوڑے کا نام چیتک تھا۔ گھوڑوں کے دنیا بھر میں ایسے شوقین رہے ہیں جنہوں نےبہت نام کمایا مگر ان سب میں مشہور ملک پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ تھے، انکے شاہی اصطبل میں ہر نسل کے1000سے زائد گھوڑے تھے۔ مہاراجہ کے زمانے میں اچھے گھوڑے رکھنا مشغلہ توتھا ہی یہ اس وقت کا سامانِ حرب بھی تھا اسے آپ آج کے جہاز، بکتر بند گاڑی، میزائل یا جس مرضی اسلحہ سے تشبیہ دے لیں۔دراصل اس وقت سپاہی کی سواری بھی جنگ کا حصہ ہوتی تھی اور اسے سپاہی سے کہیں زیادہ بہادری دکھانی ہوتی تھی۔ گھوڑا اس لئے اہم ترین ہوتا تھا۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کے 3 مشہور گھوڑوں کے نام لیلیٰ، گوہر بار اور سفید پری تھے تاہم لیلیٰ سب سے پسندیدہ اور مشہور ہوا،تقریباََ 14یاپندرہ فٹ کاگہرا سرمئی گھوڑا لیلیٰ یونان کی ٹروجن جنگوں کے بعد تاریخ کا سب سے قیمتی گھوڑا تصور کیا جاتا ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے اپنے الفاظ میں اس گھوڑے کی قیمت ایک بادشاہی جتنی تھی ، اس گھوڑے کے حصول کیلئے رنجیت سنگھ کو اپنے پشاوری گورنر یار محمد خان بار کزئی سے جنگ کرناپڑی تھی جس پر 60لاکھ روپے خرچ ہوئے اور1200سپاہی بھی کھیت رہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے سونے کے زیور پہنے ہوئے لیلیٰ کو بڑے فخر سے برطانوی گورنر جنرل ولیم بینٹنگ کو بھی دکھایا آسٹریائی سیاح ہیوگل نے بھی لاہور کے شاہی اصطبل میں اس نادر گھوڑے کو نہ صرف دیکھا بلکہ اپنی تحریر میں اسکا قد، ناک نقشہ اور13سال کی عمر بیان کی ہے۔
میرے پیدائشی علاقے کی روایت ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ماضی کے ضلع شاہ پور اور حالیہ ضلع خوشاب کے غلام محمد بندیال کی بھی ایک گھوڑی پسند آگئی غلام محمد بندیال، گورنر یار محمد خان جتنا زور آور تو نہیں تھا مگر اسے اپنی گھوڑی بڑی عزیز تھی چنانچہ اس نے اُسے چھپا دیا اور جب مہاراجہ کے سپاہی زور زبردستی گھوڑی لینے پہنچے تو غلام محمد بندیال نے ایک دوسری گھوڑی انہیں دیدی مگر مہاراجہ کے سپاہیوں کو جاسوسی ہو گئی اور انہوں نے جہاں گھوڑی چھپا رکھی تھی اسے برآمد کرلیا اور لاہور لے گئے۔ ہمارے علاقے میں افسانہ یہ مشہور ہے کہ مہاراجہ کے سپاہیوں کو جاسوسی ایک دھوکہ تھا اور غلام محمد بند یال نے کوئی اور گھوڑی دیکر اصلی والی گھوڑی بچالی تھی ظاہر ہے بندیال، یارمحمدبارکزئی تھوڑا تھا جو گھوڑے کیلئے جنگ کرتا وہ تو حیلے بہانے، دھوکے اور مکر و فریب سے ہی مہاراجہ کے عتاب سے بچ سکتا تھا۔ سیاست اسی اونچ نیچ کا نام ہے دونوں فریق طاقتور ہوں تو وہ اپنے موقف اور اپنے اپنے حق کیلئے لڑ سکتے ہیں لیکن ایک فریق طاقتور اور دوسرا فریق کمزور ہوتو وقت ٹالا جاتا ہے، حیلے بہانے کئے جاتے ہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے میں بھی یہی طور اطوار تھے اور آج کل کی نئی سیاست کا بھی یہی چلن ہے۔
ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبے بنانے کی مخالف ضرور ہیں مگر غلام محمد بندیال کی طرح لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کمزور ہیں، مفادات ہیں اور لڑائی میں ہونیوالا نقصان بھی برداشت نہیں کرپاتیں اس لیے بہترین رویہ وقت کوٹالنا ہے نون کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی پہلے لڑے جبکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ نون کا خون جوش مارے۔ دیکھئے کیا ہوتاہے؟
پنجاب کے مہاراجوںکو گھوڑوں کا شوق تھا پاکستان کے حکمرانوں کو نئے نئے نظام لانے اور سب کچھ بدلنے کا شوق ہے، شوق تو شوق ہے اسکی جتنی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ادا کی جاتی ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو بنیادی جمہوریتوں اور صدارتی نظام کا شوق چرایا اور انہوں نے اسے نافذالعمل کر بھی دیا، بنیادی جمہوریت کے نظام کو بڑی پذیرائی ملی۔ گاؤں گاؤں شہر شہر لوگ اس نظام سے جڑگئے مگر جب اس نظام کا غلط طور پر سیاسی استعمال کیا گیا توہر کوئی بد دل ہوگیا اور پھر گول میز کانفرنس میں خود صدر ایوب مان گئے کہ صدارتی نظام اور بنیادی جمہورتیوں کو ختم کرکے پارلیمانی نظام لانا چاہئے۔صدرضیاءالحق نےاپنےدور میں1979میں پہلے بلدیاتی الیکشن کروائے لوگوں نے بھرپور انداز میں ان میں شرکت کی، پیپلز پارٹی نے بھی عوام دوست کے نام سےہر جگہ پینل بنائے پنجاب کے شہروں میں عوام دوست اکثریت حاصل کرگئے تو جنرل ضیاء الحق کا اصل ایجنڈا سامنے آگیا سر نہ جھکانے اور پیپلز پارٹی نہ چھوڑنے والے سب کونسلرز کو نااہل قرار دیدیا گیا ایسی بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی کہ اسے1985ءکا غیر جماعتی جنرل الیکشن مزید مکدرکر گیا، جنرل ضیاء کے اس بلدیاتی نظام سے عوامی فلاح کے شاندار کام ہوئے مگر چونکہ اسکی بنیاد سیاسی ریاکاری پرتھی اسلئے جنرل ضیاء کے اقتدار کے بعد یہ نظام اپنی موت آپ مرگیا۔ جنرل پرویز مشرف نے جو بلدیاتی نظام دیا وہ آئیڈیل مغربی نظام کے قریب قریب تھا مگر وہ جنرل مشرف کے مخالفوں اور نئے آنیوالے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو پسند نہ آیا اور یوں وہ نظام بھی صوبوں کی ضلعوں پر آمریت کی خواہش کی نذر ہوگیا۔ ایوب، ضیاء الحق اور مشرف کے نظام برے نہیں تھے لیکن ان کاسیاسی مقصد اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنا نہیں بلکہ اپنے سیاسی مخالفوں کو نقصان پہنچانا تھا اسلئے یہ سارے نظام بالآخر قبرستانوں کی نذر ہوئے۔ اب نئے صوبوں کا آئیڈیا سامنے آیا ہے، یہ شوق کہیں گھوڑوں کے مشغلے جیسا مہنگا ثابت نہ ہو، اس میں بھی سندھ میں خونریزی کا خطرہ ہے۔ اگر جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کی چند خامیاں دور کرکے ضلع یا ڈویژن کو مقامی اختیارات کا مرکز بنادیا جائے تو عوام کا بھلا ہوگا لیکن اگر مہاراجہ کے شوق کی طرح نئے صوبوں پر زور دیا گیا تو میرے جیسے کمزور غلام محمد بندیال سوائے صبر کے گھونٹ پینے کے اور کیا کرسکتے ہیں لیکن کوئی یار محمد بار کزئی کی طرح کھڑا ہوگیا تو کئی نئی مصیبتیں نازل ہوجائیں گی۔ مہاراجہ کا زمانہ تو شغلوں اور شوقوں کو برداشت کرلیتا تھا۔ آجکل مشغلوں، تجربوں اور نئی مشقوں کا دور نہیں، آئین اور متفقہ راستوں پر چلنا ہی سب سے بہترین ہوتا ہے۔
