کیا سپریم کورٹ کے ججز کی واقعی ہاتھا پائی ہوئی؟

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ججوں کے درمیان مبینہ جھگڑے، ہاتھا پائی اور تلخ کلامی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش خبروں کو سراسر جھوٹ، شر انگیزی اور بد نیتی پر مبنی قرار دے کر سختی سے مسترد کردیا ہے۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ کے سینئر ججز کے مابین تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی خبریں کئی دنوں سے زیر گردش تھیں جبکہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری، نسیم زہرہ اور اسد طور نے بھی ذرائع کے حوالے سے ان اطلاعات کی تصدیق کی تھی۔ تاہم اب سپریم کورٹ پاکستان کے ججز کے درمیان مبینہ جھگڑے اور ہاتھا پائی کی خبروں پر عدالت عظمیٰ نے اہم بیان جاری کردیا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہےکہ 13 اپریل کو ججز کالونی پارک میں شام کو چہل قدمی کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججوں کے درمیان مبینہ جھگڑے، تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے حوالے سے سراسر جھوٹی اور بے بنیاد خبریں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلایا گیا۔سپریم کورٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس طرح کی خبروں کی سخت ترین الفاظ میں تردید کی جاتی ہے، یہ خبریں جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہیں، ججز کے درمیان ایسا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔جاری میں بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججز کے بارے میں جعلی اور من گھرٹ رپورٹنگ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ کچھ عناصر کی جانب سے جان بوجھ کر پھیلائی جانے والی ان جھوٹی، بد نیتی پر مبنی خبروں کا مقصد عدالت اور اس کے معزز ممبران کے وقار کو کم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لکھے گئے خطوط اور عدالتی نوٹ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان تقسیم اور اختلافات کا تاثر مضبوط ہو گیا تھا جبکہ قاضی فائز عیسیٰ کے نوٹس اور خطوط میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے طرز عمل پر سوال اٹھایا گیا تھا اور سپریم کورٹ کے چھ ججوں کے حالیہ حکم نامے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اختلافات کی قیاس آرائیوں کے پس منظر میں منگل کے روز اس وقت ایک پیش رفت دیکھنے میں آئی جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال سے ملاقات کی جو 30 منٹ تک جاری رہی۔اس پیشرفت سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ ملاقات میں عدلیہ میں اختلافات بڑھنے کے تاثرات، عدلیہ کے امیج کو بہتر بنانے اور شہریوں کا اعتماد بحال کرنے کے حوالے سے خیالات زیر بحث آئے۔ تاہم سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا تھا جب سپریم کورٹ میں ہم خیال بنچ پروسیجر اینڈ پریکٹس بل کی سماعت کر رہا تھا، تو دوسری طرف جوڈیشل کونسل کا بھی اجلاس بھی منعقد ہونا تھا جس میں ایڈیشنل ججز، ہائیکورٹ ججز اور سپریم کورٹ ججز کی تعیناتی اور کنفرمیشن وغیرہ ہونا تھی،  جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بڑے اچھے موڈ میں ہوا اور خیبرپختونخوا کی پہلی خاتوں چیف جسٹس کی کنفرمیشن کر دی گئی لیکن اجلاس ختم ہونے کہ بعد چیف جسٹس نے جوڈیشل کونسل کہ 3 سئنیر ممبران جسٹس طارق مسعود، جسٹس فائز عیسٰی اور جسٹس منصور علی شاہ کو اپنے چیمبر میں آنے کی دعوت دی، جب تینوں معزز ججز چیف جسٹس کہ چیمبر میں گئے تو وہاں جسٹس اعجاز الحسن پہلے سے چیف جسٹس کہ ساتھ موجود تھے۔

سپریم کورٹ ذرائع کہ مطابق اندر کسی بات پر ججز میں تلخی پیدا ہوئی اور پھر وہ تلخی شدت اختیار کر گئی اورایک وقت ایسا بھی آیا ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ ججز آپس میں ہاتھا پائی نہ شروع کر دیں، اس دوران بہت سخت اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، اور یہ سب اتنی اونچی آواز میں ہو رہا تھا کہ چیف جسٹس کا اتنا بڑا آفس ہونے کہ باوجود آوازیں باہر آ رہی تھی،اور یہ آوازیں سپریم کورٹ کےتیسرے فلور پرسب طرف گونج رہی تھی، پھر جب خدشہ ہوا کہ بات ہاتھا پائی تک نہ پہنچ جائے تو پھر بیچ بچاو کروایا گیا، تب جسٹس منصور علی شاہ جسٹس طارق مسعود اسی فلور میں قائم جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے چیمبر میں چلے گئے، اس کے بعد باقی ججز جسٹس مندوخیل جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین خان بھی قاضی فائز عیسٰی کے چیمبر میں چلے گئے اور دوسری طرف باقی ججز چیف جسٹس کہ چیمبر میں اکٹھے ہو کر صلاح مشورہ کرنے لگے، اور سپریم کورٹ ذرائع کہ مطابق ایک بار تو سبکو اندیشہ ہوا جو آج ہوا ھے شاید اس کہ بعد کوئی پریس ریلیز نہ آ جائے لیکن ایسا ہوا نہیں۔دوسری جانب سینئر صحافی نسیم زہرہ نے بتایا تھا کہ سپریم کورٹ میں تقسیم باہمی اختلافات سے شروع ہو کر اب نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی ہے معلوم نہیں بات مزید کہاں تک جائے گی۔

دوسری طرف سینئر صحافی اسد طور نے بھی اپنے وی لاگ میں ججز کے مابین ہاتھا پائی اور تلخ کلامی کی تصدیق کی تھی جبکہ اسد علی طور سپریم کورٹ کی جانب سے تردید کے باوجود اب بھی ثابت قدم اور پراعتماد ہیں کہ ججز صاحبان کے درمیان لڑائی بلکہ شدید لڑائی ہوئی اور چیف جسٹس کے چیمبر میں ہوئی ان کا کہنا ہے کہ اپنی خبر کو ثابت کرنے کیلئےان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے مابین جھگڑے کی واضح تردید کے باوجود سینئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور قاضی فائز عیسیٰ کے مابین چیف جسٹس چیمبر میں تلخ کلامی اور لڑائی کی تصدیق کی ہے۔

گلزار امام شنبے کی گرفتاری ISI کا بڑا کارنامہ کیوں؟

Back to top button