اڈیالہ میں 24،24گھنٹےقیدتنہائی کاٹ چکی ہوں،مریم نوازکاسہیل آفریدی کوجواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی تنقید پرجواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اڈیالہ جیل میں 24، 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔

جیل ریفارمز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمریم نواز نے کہا کہ جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں، مجھے جیل جاکر احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے۔

مریم نواز سے قبل وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے خطاب کیا۔ خطاب سے پہلے مریم نواز نے پنجاب میں جیل اصلاحات سے متعلق ڈاکومنٹری چلوائی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ میں نے جیل میں اصلاحات کی ہیں اور وہ اصلاحات کیں جو خود جیل میں کاٹ کر دیکھا، میں یہاں اس فورم پر کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتی۔قید تنہائی کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہے مجھے، جیل میں جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے، پنجاب کی جیلوں میں تمام قیدیوں کے لیے ویڈیو لنک کی سہولت ہے، جیل میں میرے ساتھی کتابیں اور جائے نماز تھیں، جیل میں جو دیکھا اس پر پنجاب کی جیلوں کو ماڈرنائز کیا، جیلوں میں نئی جدید ریفارمز کو متعارف کروایا۔

مریم نواز نے بتایا کہ میں اور میرے والد ایک ساتھ جیل میں تھے، دوران قید میری والدہ بیمار تھیں لیکن ہمیں والدہ سے نہیں ملنے دیا گیا، جیل کاٹنے کی قید کی میری بھی اپنی کہانی ہے، جیل میں ہر قیدی کی اپنی کہانی ہے، جیل میں میری شوگر ڈاؤن ہوئی تو مدد کو کوئی نہیں آیا، میرے ہاتھ کانپ رہے تھے گڑ والی بوتل ہاتھ سے گر کرٹوٹ گئی، میں نے زمین پر گرا گڑ اٹھا کر کھایاتو اس میں کانچ کے ٹکڑے تھے، جیل میں میری چیخیں کسی نے نہیں سنیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جیل میں کوئی پرائیویسی نہیں تھی، جیل کے کمرے میں ایک سائیڈ پر واش روم دوسرا حصہ سونے کے لیے تھا، جیل کے کمرے میں پارٹیشن نہیں تھے، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جائے نماز کہاں بچھاؤں، اسی لیے قیدیوں کے لیے ریفارمز متعارف کرائیں، ایمرجنسی بٹن متعارف کرایا، مجھے جیل میں احساس ہوا کہ بے بس قیدی کیسا محسوس کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جس سیل میں رکھا گیا اس کے ساتھ کم عمر بچوں کا سیل تھا، سیل سے روز بچوں کے چیخنے کی آوازیں آتی تھیں۔

 

 

Back to top button