وزیراعظم کی ’مینگو ڈپلومیسی‘: 76 ممالک کو پاکستانی آم تحفے میں بھیجنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کی ’’مینگو ڈپلومیسی‘‘ مہم کے تحت دنیا کے 76 ممالک کے سربراہانِ مملکت، اعلیٰ حکومتی شخصیات، سفارت کاروں اور دیگر اہم عالمی شخصیات کو اعلیٰ معیار کے پاکستانی آم بطور تحفہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) کےمطابق اس خصوصی سفارتی مہم کےتحت 34 ٹن سے زائد اعلیٰ معیار کے پاکستانی آم 5 کلوگرام کے 6 ہزار 896 خصوصی پیکنگ باکسز میں دنیا کے مختلف ممالک روانہ کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق اس بار سب سے بڑی کھیپ سعودی عرب، ترکیہ، برطانیہ اور چین کو بھیجی جارہی ہے، جب کہ دیگر اہم دوست اور شراکت دار ممالک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔آموں کی پیکنگ اور ترسیل بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جارہی ہے تاکہ منزل تک پہنچنے تک ان کی تازگی اور معیار برقرار رہے۔
ٹی ڈی اےپی کاکہنا ہ کہ اس اقدام کا مقصد صرف پاکستانی آموں کو بطور تحفہ پیش کرنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے اعلیٰ معیار کے زرعی اور باغبانی مصنوعات کو فروغ دینا بھی ہے۔پاکستانی آم اپنی منفرد خوشبو،ذائقے اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں خاص شہرت رکھتے ہیں اور یہ مہم ان کی عالمی مارکیٹ میں مزید پذیرائی حاصل کرنےمیں معاون ثابت ہوگی۔
حکام کےمطابق “مینگو ڈپلومیسی” پاکستان کی سافٹ ڈپلومیسی کا اہم حصہ ہے،جس کے ذریعے دوست ممالک کے ساتھ خیرسگالی،باہمی اعتماد اور دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ورلڈ بینک کا پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ فارمولے پر نظرثانی کا مطالبہ
ماہرین کاکہنا ہےکہ اس طرح کی سفارتی مہمات نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص اجاگرکرتی ہیں بلکہ ملکی زرعی برآمدات میں اضافے،نئی منڈیوں تک رسائی اور پاکستانی آموں کی عالمی طلب بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
