سانحہ کاہنہ کی رپورٹ وزیراعلیٰ مریم نوازکوپیش کردی گئی

زیادہ ملبہ ڈالنےسےٹی آراورگارڈرکی چھت گری،سانحہ کاہنہ کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی گئی۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے  ٹیوشن سنٹر کی چھت پر بچوں کی موجودگی میں مٹی ڈلوانا غفلت تھی، کمزور ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت نہ کر سکا۔

ذرائع کے مطابق چھت گرنے کے وقت خاتون ٹیچر اور 20 بچے چھت کے نیچے موجود تھے، بچوں کی اموات سر کی ہڈیوں پر زیادہ چوٹیں آنے سے ہوئیں، تاحال کسی متعلقہ سرکاری ادارے کے کسی اہلکار کی کوئی غفلت نظر نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق مقدمہ درج کرکے گھر کے مالک اور اس کے بھائی سمیت 5 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ماہرین کی رائے بھی رپورٹ میں شامل کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔

دوسری جانب سانحہ کاہنہ ٹیوشن سینٹر کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل ٹربیونل تشکیل دینے کیلئے خط لکھ دیا گیا۔

خط ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق کی جانب سے گورنر  اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر کو ارسال کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ لاہور میں غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر میں چھت گرنے کا واقعہ متعلقہ اداروں کی ناکامی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کو رجسٹرڈ کیا جائے اور کاہنہ سانحہ کی تحقیقات کیلئےجوڈیشل ٹربیونل تشکیل دیا جائے۔

دوسری جانب کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کی وجہ سے زخمی ہونے والی خاتون ٹیچر کا بیان سامنے آیا ہے۔

ٹیچر کا کہنا ہے کہ چھت پکی کرائی تھی، اتنے پیسے نہیں تھے کہ لینٹر ڈال سکتے ، چھت گرنے کے وقت گھر میں تعمیراتی کام نہیں ہورہا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ شوہر گھر کے پاس ہی پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے ۔

واضح رہے کہ دو روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔

Back to top button