اعلی عدلیہ ملکی ترقی میں رکاوٹ کیسے ڈالے بیٹھی ہے ؟

سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے کشمیر ہڑپ کر لیا جب کہ ہم 63 اے اور نوے دنوں میں الیکشن کا فیصلہ نہیں کر پا رہے ۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں ہماری ضرورت سے زائد پٹرول اور گیس چھپا رکھے ہیں ۔ہم اگر صرف پانچ سال محنت کر لیں تو کم از کم گیس کے معاملے میں خودکفیل ہو سکتے ہیں مگر بلوچستان اور ‘ کے پی میں دہشت گرد قدرتی ذخائر نکالنے والوں پر خودکش حملے کر رہے ہیں‘ پنجاب میں بیوروکریسی سانپ بن کر بیٹھ گئی ہے اور سندھ میں ’’ہماری گیس‘ ہمارا حق‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں. اگر ان تمام مشکلوں کے باوجود بھی کام ہو جائے تو سپریم کورٹ اورہائی کورٹ سٹے آرڈرسے کام رکوا دیتی ہیں. اپنے ایک کالم میں جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ تاریخ کا دعویٰ ہے غیر ترقی یافتہ قومیں جانوروں کی طرح ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں‘ یہ کتوں اور بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے کو بھنبھوڑ کر رکھ دیتی ہیں جب کہ ترقی یافتہ قومیں خوش حالی‘ امن‘ ماحول‘ انصاف‘ جرم سے پاک معاشرے ‘ جمہوریت اور ذہنی اور جسمانی سکون کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں‘ ان کا اجتماعی ضمیر اور سوچ کام کرتی ہے لہٰذا یہ دوسروں سے آگے نکل جاتی ہیں۔

ہم آج کیوں مار کھا رہے ہیں؟ اس کی وجہ ہمارے اندر کا جانور ہے‘ ہم اپنے اجتماعی مسئلوں کے حل کے لیے بھی مل کر کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بھی لڑ رہی ہیں اور ان کے اندر بھی ایک دوسرے کے ساتھ جنگ جاری ہے‘ یہ اداروں سے بھی لڑ رہی ہیں۔

ادارے بھی ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہیں اور یہ اندر بھی ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں اور یہ لڑائی پورے ملک میں جاری ہے‘ ہم نے مسجدیں‘ غسل خانے اور استنجا خانے تک تقسیم کر رکھے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے ایک قرآن اور ایک نبی بھجوایا تھا لیکن ہم نے ان پر بھی اپنی اپنی مرضی کے غلاف چڑھا دیے ہیں‘ سنی خدا اور نبی کی اپنی تشریح کر رہے ہیں اور شیعہ کا تصورِ خدا‘ قرآن اور نبی دوسروں سے مختلف ہے۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم شرف انسانیت سے نیچے گر کر کتوں (معاف کیجیے گا) جیسی زندگی گزار رہے ہیں چناں چہ ہم دوڑنے‘ بھاگنے اور ہانپنے کے باوجود منزل سے دور ہوتے جا رہے ہیں‘ آپ اس ملک کی بدقسمتی دیکھیے‘ ہم ہر ماہ ساڑھے چار لاکھ بیرل پٹرول درآمد کرتے ہیں‘ یہ ہمارے ملک کی سب سے بڑی درآمد ہے‘ ہمیں ہر سال پٹرول کے لیے12بلین ڈالرز درکار ہوتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے ملک میں ہماری ضرورت سے زائد پٹرول اور گیس چھپا رکھی ہے۔

ہم اگر صرف پانچ سال محنت کر لیں تو ہم کم از کم گیس کے معاملے میں خودکفیل ہو سکتے ہیں‘ ماڑی گیس نے بنوں میں گیس کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا‘ کنواں کھد چکا ہے بس پائپ لائن بچھنے کی دیر ہے اور ہماری گیس کی ضرورت پوری ہو جائے گی لیکن محکمے دو سال سے ’’تم کرو‘ تم کرو‘‘ کی تکرار میں مصروف ہیں‘ ملک میں گیس نہیں اور ہم گیس کے کنوئیں پر کیپ چڑھا کر بیٹھے ہیں۔

معدنیات کے ذخائر پر بھی دہشت گردی اور جہالت کا غلبہ ہے‘ بلوچستان میں بی ایل اے جیسی تنظیمیں کھدائی نہیں کرنے دے رہیں‘ کے پی میں ٹی ٹی پی سائٹس پر خودکش حملے کر رہی ہے‘ پنجاب میں بیوروکریسی سانپ بن کر بیٹھ گئی ہے اور سندھ میں ’’ہماری گیس‘ ہمارا حق‘‘ کے نعرے لگ رہے ہیں اور اگر ان تمام مشکلوں کے باوجود بھی کام ہو جائے تو سپریم کورٹ اورہائی کورٹ اسٹے آرڈرسے کام رکوا دیتی ہیں‘ ہم نے 1992میں موٹرویز بنانا شروع کی تھیں۔

آج 31برس بعد بھی ہم پورے ملک کو سڑکوں سے نہیں جوڑ سکے جب کہ بھارت نے یہ کام ہم سے دس سال بعد شروع کیا تھا اور آج پورا ملک ہائی ویز سے جڑا ہوا ہے‘ بھارت نے 1997میں ہم سے بجلی خریدی تھی‘ آج بھارت چار لاکھ دس ہزار میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے جس کا 41فیصد یعنی ایک لاکھ 68 ہزار میگاواٹ قدرتی وسائل پانی‘ سورج اور ہوا سے بن رہا ہے‘ یہ ریلوے‘ بسوں‘ ٹرکوں اور گاڑیوں کو بجلی پر شفٹ کر رہا ہے جب کہ ہم آج بھی 25 ہزار میگاواٹ کو سنبھال نہیں پا رہے۔ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ بھارت میں 166 لوگ کھرب پتی ہیں جب کہ ہماری پوری انڈسٹری سال سے بند پڑی ہے ‘ ملک میں صرف ایک پروڈکشن انڈسٹری چل رہی ہے اور وہ ہے آبادی‘ ہم ہر سال 48 لاکھ نئے بچے پیدا کر دیتے ہیں‘ بھارت 2047 میں سپرپاور بننے کے خواب دیکھ رہا ہے جب کہ ہم نظریہ پاکستان کی تدفین کے لیے جگہ تلاش کر رہے ہیں اور بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے کشمیر ہڑپ کر لیا جب کہ ہم 63 اے اور نوے دنوں میں الیکشن کا فیصلہ نہیں کر پا رہے‘ کیا قوم اس طرح چل سکتی ہے۔

کیا ملک اس طرح کتا کتا کر کے آگے بڑھ سکتا ہے؟ ہمیں بہرحال خدا خوفی کرنا ہوگی‘ ہمیں کسی پوائنٹ پر خود کو انسان ثابت کرنا ہوگا‘ ہم اگر آج بھی نہیں کرتے توپھردنیا مان لے گی ہمارے اندر ملک چلانے کی صلاحیت بھی نہیں اور اس خطے کی سب سے بڑی بیماری بھی ہم ہیں لہٰذا ایک بار ہی سہی لیکن خدارا جانوروں سے بالاتر ہو کرچند سال گزار لیں ورنہ ہمارے ساتھ وہ سلوک ہوگا جس کے ہم حق دار ہیں۔

Back to top button