چیف جسٹس بندیال کا حکم نامہ غیرآئینی کیوں قرار پایا؟

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کسی صورت بھی اپنے اختیارات سپریم کورٹ کے دیگر سینئر ججز میں تقسیم کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے ہم خیال ججز پر مشتمل آٹھ رکنی متنازع لارجر بینچ نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ عدالتی فیصلے نے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس جنگ میں صرف شہباز شریف اور ان کی حکومت فریق ہوتی تو وہ تین رکنی بنچ کے سامنے ہی سر جھکا چکے ہوتے کیونکہ شہباز شریف 5 سال کے لئے نااہل ہو کر سیاست سے باہر رہنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ اسی وجہ سے نظر آتا ہے کہ اس لڑائی میں حکومت کے علاوہ تیسری طاقت بھی فریق ہے۔ سپریم کورٹ کے اندر بھی ججز دو گروپوں میں تقسیم ہیں اور اپنی بالادستی ثابت کرنے کیلئے دست و گریباں ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ سو فیصد غیر آئینی اور غیر قانونی حکمنامہ ہے۔سابق جج نے کہا کہ یہ عجلت میں اٹھا گیا غیر ضروری اقدام ہے کیونکہ یہ قانون ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پارلیمنٹ سے کی گئی قانون سازی حتمی طور پہ منظور ہو جائے تو پھر ہی سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 8 کے تحت اسے دیکھ سکتی ہے کہ آیا یہ بنیادی حقوق سے متصادم تو نہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی تو یہ قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں بنا سپریم کورٹ نے اس پر حکم امتناع جاری کر کے مقننہ کی حدود میں دخل اندازی کی ہے۔
سابق جج نے سپریم کورٹ کے حکمنامے میں موجود آرٹیکل 191 پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ خود رولز بنا سکتی ہے لیکن بنائے تو نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کوئی سپریم کورٹ کا تخلیق کردہ ادارہ نہیں بلکہ سپریم کورٹ آئین کا تخلیق کردہ ادارہ ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ پارلیمنٹ پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی قانون کسی ضرورت کے تحت ہی بنایا جاتا ہے جس طرح سے حالیہ کچھ عرصے میں معاملات چل رہے ہیں اس صورتحال میں سپریم کورٹ کی ورکنگ متاثر ہوئی تاہم اس پر قانون سازی ضروری تھی۔
دوسری جانب قانون دان فیصل صدیقی کا موجودہ صورتحال بارے کہنا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال گروپ میں شامل سپریم کورٹ کے ججوں میں یہ خوف پیدا ہو گیا ہے کہ ستمبر میں جب قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس بنیں گے تو سب ہم خیال ججز کے خلاف ریفرنس بھجوا دیں گے۔ اسی خوف کے پیش نظر قاضی صاحب کے خلاف کیوریٹیو ریویو ابھی تک خارج نہیں کیا گیا۔ ججوں کو دوسرا خوف یہ ہے کہ جو گروپ بھی جیتے گا وہ دوسرے گروپ والے ججوں کو نوکریوں سے نکلوا دے گا۔ نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو ‘خبرسےآگے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل پر سپریم کورٹ کا حکم امتناعی جاری کرنا آئین کے خلاف نہیں ہے، ماضی میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے 8 رکنی بنچ نے پارلیمنٹ کے بل کو مسترد کر کے جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ ایک جنگ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کے مابین ہے اور دوسری جنگ سپریم کورٹ کے اندر چل رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے دو دھڑوں میں سے کوئی ایک جیتے گا اور اس کا ادارے کو نقصان ہو گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا چیف جسٹس اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہیں، ان کے پاس صرف ایک جج کی اکثریت ہے جو زیادہ پائیدار نہیں ہے۔ جسٹس افتخار چودھری اور جسٹس بندیال میں فرق یہ ہے کہ افتخار چودھری خوفزدہ نہیں تھے، ازخود نوٹس اور باقی بڑے کیسز میں انہوں نے بڑے بڑے بنچ بنائے، سب کو ان میں شامل کیا۔ 1997 اور 2023 کے حالات میں بھی بہت فرق ہے۔ 1997 میں اختلافی ججوں کو سپورٹ کرنے کے لئے ایک مضبوط حکومت موجود تھی جبکہ موجودہ حکومت کمزور ہے، پارلیمنٹ کمزور ہے اس کے مقابلے میں اپوزیشن طاقتور ہے۔ جب متوازی طور پر دو سپریم کورٹس بن جاتی ہیں تو پھر تیسری طاقت کو راستہ مل جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کو چھ قسم کی غیر یقینی صورت حال درپیش ہے؛ سیاسی، معاشی، سکیورٹی، آئینی، عدالتی اور بیانیے کی۔ یہ چھ حالتیں پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی اکٹھی نہیں ہوئیں۔ جب یہ اکٹھی ہو جاتی ہیں تو نظام کے بریک ڈاؤن ہونے کو کوئی نہیں روک سکتا۔
قانونی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اہم بات یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے فیصلہ سنایا ہے مگر مقدمے خارج نہیں کیے، ان مقدموں کے تحت سپریم کورٹ اور بھی احکامات جاری کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی قابل غور ہے کہ توہین کے مقدمے سپریم کورٹ کس کس کے خلاف چلائیں گے۔ چیف جسٹس اپنے فیصلے سے ڈرا دھمکا کر اپنے آرڈرز پر عمل درآمد نہیں کروا پائیں گے۔ چیف جسٹس سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ مشتمل ہی آٹھ ججز پر ہے، وہ باقی سات ججز کو مکمل طور پر اگنور کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس سمجھتے ہیں کہ وہ یہ جنگ جیت سکتے ہیں اسی لئے انہوں نے بازی لگا دی ہے۔
قانون دان حیدر وحید نے کہا کہ اگرچہ چیف جسٹس اپنی مرضی کا بنچ بنانے کا اختیار رکھتے ہیں مگر جس طرح 8 رکنی لارجر بنچ بنا اس سے بھی ججز کا اختلاف واضح ہو گیا۔ میں آج کے سٹے آرڈر کو غیر معمولی سمجھتا ہوں کیونکہ عام طور پر جب تک قانون بن نہیں جاتا تب تک سپریم کورٹ اس طرح کا حکم امتناعی جاری نہیں کرتی، موجودہ جنگ کے فاتح جسٹس بندیال یا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہیں ہوں گے، اس میں زیادہ فائدہ پرویز الہیٰ اور ان کے پرانے اتحادی اٹھائیں گے۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ جی ایم چوہدری سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامہ پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ایک سوال پر کہ سپریم کورٹ نے کیسے پہلی سماعت پر بغیر فریقین کو سنے حکم امتناع جاری کیا کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مقدمے میں جب عدالت حکم امتناع جاری کرتی ہے تو وہ پہلی سماعت پر ہی ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184(3) پر اپیل کا قانون آرٹیکل 185 میں آتا ہے اور اگر 184(3) میں ترمیم مقصود ہے تو پھر آئینی ترمیم کرنی پڑے گی۔
جی ایم چوہدری نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں نہ آئین ہے نہ قانون اور نہ ہی اخلاقیات انہوں نے کہا کہ بینچوں کی تشکیل چیف جسٹس کا اختیار ہے لیکن اس وقت جتنی محاذ آرائی بڑھ چکی ہے اس کو کنٹرول کرنا لازمی ہے ورنہ یہ ملک کے لئے نقصان دہ ہو گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا بیان کہ حکومت اس بینچ کو نامنظور کرتی ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے جی ایم چوہدری نے کہا کہ حکومت کے پاس اس بینچ کے احکامات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل حامد خان کہتے ہیں کہ بہتر ہوتا اگر بینچ میں سینئر جج صاحبان کو شامل کیا جاتا لیکن اس کے باوجود بھی بینچ تشکیل دینا چیف جسٹس کا اختیار ہے اور اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے۔حامد خان نے کہا کہ یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا ہے اور دس دن میں صدر کے دستخط کے بغیر بھی یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا لیکن سپریم کورٹ نے اس بل کو بطور ایکٹ آف پارلیمنٹ ہی لیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق سے متصادم قانون سازی پر عدلیہ نظر ثانی کر سکتی ہے اور اس میں سپریم کورٹ نے جس چیز کو بنیادی حقوق سے جوڑا ہے وہ عدلیہ کی آزادی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بل کچھ حوالوں سے عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے گا اور کچھ حوالے سے نہیں کرے گا لیکن بنیادی بات اس بل کو پاس کرنے کے حوالے سے اس کی ٹائمنگ ہے۔ ریفارمز ہمیشہ ٹھنڈے دماغ سے کی جاتی ہیں۔ اور آرٹیکل 191 میں سپریم کورٹ کو اپنے قوانین خود وضع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
