جھیل سیف اللہ واقعہ،سرکاری ادارے غفلت کے مرتکب قرار

سوات کی جھیل سیف اللہ میں پیش آنے والے حادثے کی انکوائری رپورٹ حکومت کو بھیج دی گئی۔ سرکاری ادارے غفلت کے مرتکب قراردے دیئے گئے۔

ذرائع کے مطابق سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ محمد ایاز کی زیرسربراہی انکوائری کمیٹی نےرپورٹ کے پی حکومت کوبھیجی جس میں پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور ٹورازم اتھارٹی کو غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ ٹی ایم ایز، انڈسٹریز اور دیگرمتعلقہ اداروں نےبھی اپنی ذمےداری نہیں نبھائی، سوات میں دفعہ 144 نافذ تھی جب کہ غیرقانونی بوٹنگ اور نہانے پر پابندی تھی، پولیس دفعہ 144 پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے 103 ایف آئی آرز درج کیں،  ایف آئی آرز تیرنے کے خلاف درج کی گئیں،کشتی رانی کےخلاف نہیں۔

رپورٹ کے مطابق واقعہ کے دن ٹورازم پولیس کے 37 میں سے 17 اہلکار چھٹی پر تھے، ریسکیو 1122 ایمبولینس واقعےکی جگہ پہنچنے اور واپس آنےکے دوران دو مرتبہ خراب ہوئی، کالام کے اسپتال میں ڈیڈ باڈیز کا معائنہ کرنے کےلیے خاتون ڈاکٹر نہیں تھی۔

انکوائری رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ تمام کشتیوں کی رجسٹریشن کرائی جائے، غیر رجسٹرڈ کشتیوں کو پانی میں نہ جانے دیا جائے، دفعہ 144 نافذ ہے، تو اس پر پوری طرح عمل درآمد کروایا جائے، ہر کشتی میں لائف جیکٹس کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔

Back to top button