اسحاق ڈار کو نمائشی ڈپٹی وزیر اعظم بنانے کی اصل وجہ کیا ہے؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے فیصلے کے بعد حکومتی معاملات بھی اپنے کنٹرول میں لینا شروع کر دئیے ہیں۔ نواز شریف کے دست راست وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تقرری کو اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو ملک کا نائب وزیرِاعظم مقرر کر دیا ہے۔اس ضمن میں کابینہ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سینیٹر اسحاق ڈار کو فوری طور پر تاحکمِ ثانی ملک کا نائب وزیرِاعظم مقرر کیا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی وزیرِاعظم نے کسی کو اپنا نائب مقرر کیا ہوا۔ اس سے قبل سنہ 2012 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں اس وقت کی حکومتی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے چوہدری پرویز الٰہی کو بھی ملک کا نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں ’نائب وزیراعظم‘ کے عہدے کا کوئی ذکر نہیں۔’یہ ایک اِنفارمل اور نمائشی عہدہ ہے اور ایک ایگزیکٹو آرڈر یعنی وزیر اعظم کے حکم کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔‘

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسحاق ڈار کو نائب وزیرِاعظم بنانے کے پیچھے کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟اس وقت یہ بھی سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں کہ پاکستانی وزیرِاعظم کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو نائب وزیرِ اعظم مقرر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس حوالے سے پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وزیرِاعظم کو حق ہے کہ وہ اپنے کام کا بوجھ شیئر کریں اور اور ایسے شخص کا انتخاب کر سکیں جو ان کا ہاتھ بٹا سکے۔‘’وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنی سہولت اور رضا کے مطابق یہ فیصلہ لیا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈار صاحب انتظامی، سیاسی اور اقتصادی امور کے تمام پہلوؤں کو جانتے ہیں اور وہ وزیرِاعظم کے ساتھ مل کر ہر کام احسن طریقے سے کریں گے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسحاق ڈار کو نائب وزیرِاعظم مقرر کرنے میں نواز شریف کی مرضی موجود ہے تو انھوں نے کہا کہ ’شہباز شریف اہم فیصلوں پر عمومی طور پر نواز شریف سے مشاورت کرتے ہیں، ممکن ہے کہ انھوں نے اس حوالے سے بھی ان کی رائے لی ہو۔‘

دوسری جانب پاکستانی سیاست کو سمجھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کی بطور نائب وزیرِ اعظم تقرری کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن کی اندرونی سیاست سے ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار کے ڈپٹی وزیراعظم بننے کا نوٹیفکیشن جاری ہونا مسلم لیگ ن کے اندر جاری رسہ کشی کا نتیجہ سمجھا جارہا ہے، وہ ڈپٹی وزیراعظم تو بن گئے ہیں مگر ان کے پاس زیادہ اختیارات نہیں ہوں گے،ان کا دیگر وزارتوں میں اثر نہیں ہوگا۔

دوسری جانب سینئیر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ ’اسحاق ڈار ماضی میں نواز شریف کی حکومتوں میں ہمیشہ معتبر رہے ہیں اور جب بھی نواز شریف کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اسحاق ڈار سے ضرور مشورہ کرتے ہیں۔‘سلمان غنی کا ماننا ہے کہ چونکہ اس بار اسحاق ڈار کو وزیرِ خزانہ نہیں بنایا جا سکا تھا اس لیے ہوسکتا ہے انھیں نائب وزیرِ اعظم بنانے کا مقصد محض انھیں خوش کرنا ہو۔اسحاق ڈار سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے سمدھی بھی ہیں۔

دیگر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسحاق ڈار کو نائب وزیرِاعظم بنانا وزیرِاعظم شہباز شریف کا نہیں بلکہ ان کے بڑے بھائی نواز شریف کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار عارفہ نور کہتی ہیں کہ ’میرے خیال میں یہ وزیراعظم شہباز شریف کا کم اور نواز شریف کا فیصلہ زیادہ ہوگا۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں اہم سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟‘ان کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ’اسحاق ڈار کو اس بار وزیرِ خزانہ بھی نہیں بنایا گیا، اس لیے شاید انھیں خوش کرنے کے لیے انھیں نائب وزیرِاعظم بھی بنا دیا گیا ہے۔‘ ’یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کو لگا ہو کہ اسحاق ڈار بطور نائب وزیرِاعظم کابینہ میں ان کی اچھی طرح سے نمائندگی کر پائیں گے۔‘

دوسری جانب تجزیہ کار احمد ولید نے بتایا کہ ن لیگ میں اختلافات کا تاثر ملنا کوئی نئی بات نہیں۔نواز شریف اور شہباز شریف کے طرزِ سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’پچھلی کئی دہائیوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک بھائی اسٹیبلشمنٹ کا حامی ہوتا ہے تو دوسرا اس کے خلاف کھڑا دکھائی دیتا ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ اس وقت بھی ن لیگ میں حکومتی امور چلانے کے حوالے سے بعض رہنماؤں کو اختلافات ہیں۔ ’اسحاق ڈار پر انگلیاں اُٹھائی جا رہی ہیں کہ انھیں بطور وزیرِ خارجہ کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں۔‘احمد ولید کے مطابق ’میرے خیال میں شہباز شریف نے اسحاق ڈار کو نائب وزیرِ اعظم بنا کر اس تاثر کو رد کرنے کی کوشش کی ہے کہ نواز شریف یا ان میں کوئی اختلاف ہے۔‘

Back to top button