کفایت شعاری کے دعوے جھوٹے نکلے، وزیراعظم کی ٹیم 73 افراد تک جا پہنچی

کفایت شعاری اور بہتر طرزِ حکمرانی کی پالیسی کے باوجود وزیراعظم کی حکومتی ٹیم کا حجم کم نہیں ہو سکا اور وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، مشیروں، معاونینِ خصوصی اور کوآرڈینیٹرز کی مجموعی تعداد 73 تک پہنچ گئی ہے۔ کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق وزیراعظم کی ٹیم میں 31 وفاقی وزراء، 11 وزرائے مملکت، 5 مشیر، 8 معاونینِ خصوصی اور 18 کوآرڈینیٹرز شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق تمام 31 وفاقی وزراء کو وزارتوں کے قلمدان تفویض کیے گئے ہیں، تاہم 3 وزراء اضافی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے پاس ریونیو، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے پاس انسانی حقوق جبکہ وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کے پاس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا اضافی قلمدان ہے۔
وزرائے مملکت کی تعداد 11 ہے، جن میں سے 9 کے پاس ایک ایک وزارت کی ذمہ داری ہے، جبکہ 2 اضافی قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے توانائی عبد الرحمن کانجو کے پاس عوامی امور کی اضافی ذمہ داری ہے، جبکہ وزیر مملکت برائے ریلوے بلال اظہر کیانی کو خزانہ و محصولات کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔ وہ وزیراعظم کے ڈیلیوری یونٹ کے سربراہ بھی ہیں۔
وزیراعظم کے 5 مشیر بھی کابینہ کا حصہ ہیں، جنہیں قلمدانوں کے ساتھ وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ 8 معاونینِ خصوصی تعینات ہیں، جن میں سے 7 کے پاس قلمدان موجود ہیں، جبکہ طارق فاطمی کے پاس کوئی قلمدان نہیں۔ تمام معاونینِ خصوصی کا درجہ وزیر مملکت کے برابر ہے۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق وزیراعظم کے کوآرڈینیٹرز کی تعداد بھی بڑھ کر 18 ہو گئی ہے اور ان تمام کے پاس قلمدان موجود ہیں۔ یوں کفایت شعاری اور گڈ گورننس کی پالیسی کے باوجود وزیراعظم کی ٹیم میں مختلف عہدوں پر تعینات افراد کی تعداد 73 تک پہنچ چکی ہے، جس سے حکومتی ڈھانچے کے حجم اور انتظامی اخراجات میں کمی کے دعوؤں پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایک طرف حکومت عوام کو مہنگائی، معاشی دباؤ اور محدود وسائل کے تناظر میں اخراجات کم کرنے اور کفایت شعاری اختیار کرنے کا پیغام دیتی ہے، تو دوسری طرف وزیراعظم کی ٹیم میں 73 افراد کی موجودگی حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھاتی ہے۔ ناقدین کے نزدیک اگر کفایت شعاری کی پالیسی واقعی حکومتی سطح پر نافذ ہے تو اس کا عملی مظاہرہ اعلیٰ حکومتی عہدوں، مشیروں، معاونینِ خصوصی اور کوآرڈینیٹرز کی تعداد میں کمی کی صورت میں بھی نظر آنا چاہیے۔
سیاسی و انتظامی حلقوں میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں کو پہلے ہی مختلف وزارتوں اور محکموں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تو اضافی قلمدانوں اور متعدد معاون عہدوں کی ضرورت کس حد تک ناگزیر ہے۔ اگر اتنی بڑی ٹیم کے باوجود حکومتی کارکردگی، عوامی مسائل کے حل اور سرکاری اداروں کی مؤثر نگرانی میں نمایاں بہتری سامنے نہیں آتی تو اس انتظامی ڈھانچے کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔گڈ گورننس کا تقاضا محض عہدوں کی تقسیم یا حکومتی ٹیم کی تشکیل نہیں، بلکہ ذمہ داریوں کی واضح حد بندی، اخراجات میں شفافیت اور نتائج پر مبنی کارکردگی ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان 73 عہدوں پر تعینات افراد کی ذمہ داریوں، کارکردگی اور ان سے قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کی تفصیلات سامنے لائے۔ بصورتِ دیگر کفایت شعاری اور انتظامی اصلاحات کے دعوے عملی اقدامات کے بجائے محض اعلانات دکھائی دیں گے۔
