پی ٹی آئی طالبان اور افغانستان کی حمایت کرنا چاہتی تھی، پرویز خٹک کا الزام

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے بعد سابق وزیراعلیٰ کا بیان، گورنر راج کو مشکل مگر حالات کے باعث ناگزیر فیصلہ قرار دے دیا

نوشہرہ: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے داخلہ پرویز خٹک نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) طالبان اور افغانستان کی تابعداری اور حمایت کرنا چاہتی تھی۔

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نوشہرہ میں پرویز خٹک سے ملاقات کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

اس موقع پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پرویز خٹک نے سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اپنے دورِ حکومت میں وہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ باہمی مشاورت سے صوبے کو آگے لے جانے اور ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ضروری ہیں۔ مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا مقصد وفاق کے ساتھ صوبائی مسائل کے حل کے لیے راستے تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ایک پیج پر کام کیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید بتایا کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جبکہ وزیراعظم نے اپنے دورۂ پشاور کے دوران مختلف مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے۔

پرویز خٹک نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصل کریم کنڈی کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور ملاقات میں صوبے کے مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے دورِ حکومت میں شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

سابق وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ فی الحال آزاد ہیں اور کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سوال پر پرویز خٹک نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور سیاسی اعتبار سے ایسا اقدام اچھا نہیں سمجھا جاتا، تاہم ان کے بقول حالات اس نہج پر پہنچا دیے گئے تھے کہ مجبوری میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی میں کوئی سوچنے سمجھنے والا ہوتا تو ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی۔

پرویز خٹک نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی ٹی آئی طالبان اور افغانستان کی تابعداری اور حمایت کرنا چاہتی تھی۔

Back to top button