گنڈاپور اور سہیل آفریدی اچانک نیب کے ریڈار پر کیوں آ گئے؟

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد قومی احتساب بیورو بھی متحرک ہوگیا ہے، جہاں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، سابق وزرا فضل حکیم اور ڈاکٹر امجد سمیت موجودہ غیرفعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نیب کے ریڈار پر آ گئے ہیں اور نیب حکام نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے اثاثوں اور سرکاری منصوبوں کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں سے اثاثوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جبکہ سابق دور حکومت میں مبینہ غیرقانونی بھرتیوں اور بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف بھی کارروائی کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کے بعد پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت کے مالی اور انتظامی معاملات ایک بار پھر احتسابی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیب خیبرپختونخوا نے سہیل آفریدی کے دور میں شروع ہونے والے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات کے لیے محکمہ سول اینڈ ورکس سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ بیورو نے دریافت کیا ہے کہ اس عرصے میں کتنی سڑکیں تعمیر ہوئیں، کن منصوبوں پر کام کیا گیا اور ٹھیکے کن افراد یا کمپنیوں کو دیے گئے۔ متعلقہ محکمے سے منصوبوں کے ریکارڈ اور سرکاری اخراجات کی تفصیلات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ ان کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔
نیب ذرائع کے مطابق محکمہ سول اینڈ ورکس، محکمہ ریونیو، رجسٹرار ڈی ایچ اے، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ریکارڈ جمع کرانے کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ ان اداروں سے اثاثوں اور جائیدادوں سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جارہی ہیں تاکہ متعلقہ سیاسی رہنماؤں کے مالی معاملات کا جائزہ لیا جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سابق وزرا فضل حکیم اور ڈاکٹر امجد کے اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ان رہنماؤں کو انکوائری کے لیے نوٹسز جاری کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں کسی رہنما کے خلاف الزامات ثابت ہونے یا باضابطہ طور پر جرم ثابت ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔مبصرین کے مطابق سرکاری ترقیاتی منصوبوں، ٹھیکوں، بھرتیوں اور سیاسی عہدیداروں کے اثاثوں کی جانچ پڑتال شفافیت اور احتساب کے لیے اہم ہوسکتی ہے، تاہم کسی بھی تحقیقات کی ساکھ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کارروائی شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھائی جاتی ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں نیب کی آئندہ کارروائی اور متعلقہ افراد کے مؤقف اہمیت کے حامل ہوں گے۔
